30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسکے بعد دوردراز شہروں میں جاکر علم حدیث کا اکتساب کیا ۔اس سلسلہ میں خراسان ، عراق ، حجاز ،شام اور مصر خاص طور پر قابل ذکر ہیں ،آپ نے آخر میں مستقل سکونت مصر میں
اختیار کرلی تھی ۔
اساتذہ :۔اساتذہ کی فہرست طویل ہے ،چند یہ ہیں: ۔
قتیبہ بن سعید ،اسحاق بن راہویہ ،ھشام بن عمار ،محمد بن نصر مروزی ،محمود بن غیلان ،
ابودائود سلیمان بن اشعث ،ابو عبداللہ محمد بن اسمعیل بخاری وغیرہم
تلامذہ :۔آپکے تلامذہ کی فہرست نہایت طویل ہے،بعض کے اسماء یہ ہیں ۔
ابوجعفر طحاوی ،ابو القاسم طبرانی ،ابوجعفر عقیلی ،حافظ ابوعلی نیشاپوری ، حافظ ابوالقاسم
اندلسی ،ابوبکر بن حداد فقیہ وغیرہم
شمائل وخصائل ۔امام نسائی نہایت وجیہ اور خوبصورت شخص تھے ،لحیم شحیم اور خوب تندرست
دسترخوان انواع واقسام کے لذیذ کھانوں سے بھرارہتا ۔کھانے کے بعد نبیذ استعمال فرماتے ، ساتھ ہی خوش وضع اور خوش لباس تھے ، آپکی چاربیویاں تھیں اور انکے علاوہ کنیزیں بھی ساتھ
رہتی تھیں ۔
عبادت :۔ ان تمام ظاہری اسباب عیش وآرام کے باوجود آپ نہایت عبادت گذار اور شب بیدار تھے ۔ صوم دائودی پر ہمیشہ عامل رہے ،طبیعت میں حددرجہ استغناء تھا اس لئے حکام وقت کی مجلسوں سے ہمیشہ احتراز کرتے تھے ۔
آپ عقائد میں راسخ اور متصلب تھے ، جس زمانہ میں معتزلہ کے عقیدئہ خلق قرآن کا چرچا تھا ان دنوں محمد بن اعین نے ایک مرتبہ عبداللہ بن مبارک سے کہا : فلاں شخص کہتاہے کہ جو
شخص آیت کریمہ :۔
اننی انااللہ لاالہ الاانافاعبدونی۔
کو مخلوق مانے وہ کافر ہے ،حضرت عبداللہ بن مبارک نے فرمایا : یہ حق ہے ،امام نسائی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع