30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نام ونسب :۔ نام ،محمد ۔ کنیت ،ابوعبداللہ ۔والد کا نام ۔اسمعیل ْلقب ،امیرالمومنین فی الحدیث اورامام بخاری ہے ، سلسلۂ نسب یوں ہے ۔
ابو عبداللہ محمد بن اسمعیل بن ابراہیم بن مغیرہ جعفی ۔آپکے جدامجد مغیرہ بن بروزبہ جعفی مجوسی تھے ۔ حاکم بخارا یمان جعفی کے ہاتھ پرمشرف باسلام ہوئے ،اسی نسبت سے جعفی کہلاتے ، امام بخاری کو بھی جعفی اسی وجہ سے کہاجاتا ہے ۔
ولادت وتعلیم :۔ولادت ۱۳؍ شوال ۱۹۴ھ میں ماوراء النھر کے مشہور شہر بخارا میں ہوئی ۔
ایام طفولیت میں والد کا انتقال ہوگیا ،والدہ ماجدہ نے پرورش کی ۔آپ بچپن ہی میں نابینا ہوگئے تھے ۔اطباء ومعالجین کی کوششوں کے باوجود آپ کی بینائی واپس نہ آسکی ۔
آپکی والدہ ماجدہ نہایت عابدہ زاہدہ تھیں ،اور روکر رات کو دعائیں کرتیں آخر کار آپکے نالہائے شب کا ثمرہ ظاہر ہوا ۔ایک رات خواب میں دیکھا کہ حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ
الصلوۃ التسلیم تشریف لائے اور فرمایا ،بشارت ہو کہ تمہارے فرزند کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے بینائی عطا کی ۔صبح کو بیدار ہوئے تو بینا تھے ۔
ٍ ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے بخارا کے درس حدیث میں داخلہ لیا ،انتہائی لگن اور محنت
سے جلدہی اپنے ساتھیوں میں امتیازی مقام حاصل کرلیا اور اساتذہ کی توجہ کا مرکز بن گئے ۔
حج وزیارت :۔اٹھارہ سال کی عمر میں برادراکبر احمد بن اسمعیل اور والدہ ماجدہ کے ساتھ سفر
حرمین کیلئے روانہ ہوئے ۔حج وزیارت سے فارغ ہوکر آپ وہیں ٹھر گئے اور حصول علم حدیث شب وروز کا مشغلہ تھا ۔اسی دوران آپ نے قضایا الصحابۃ والتابعین کے نام سے ایک کتاب
لکھی ۔
اسی زمانہ میں اسکے بعد چاندنی راتوں میں روضۂ انور کے مواجھہ اقدس میں بیٹھ کر تاریخ کبیر تصنیف کی ۔آپکی اس تصنیف کی متعدد نقلیں وہاں کے حضرات نے لیں ،یہ زمانہ
آپ کی نوجوانی کاتھا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع