30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وصال:۔ آپ ابتلاء وآزمائش کے بعد اکیس سال تک زندہ رہے ،خلق خداکو فیض پہونچاتے رہے ،کوڑوں کی تکلیف آخر عمر تک محسوس کرتے تھے ،لیکن عبادت وریاضت میں
مستقیم اور درس وتدریس میں ہمہ تن مصروف رہے ۔
۱۲؍ ربیع الاول ۲۴۱ھ بروز جمعہ آپ نے وصال فرمایا :یہ معتصم کے بیٹے واثق باللہ کا زمانہ تھا ۔ محمد بن طاہر نے اپنے دربان کے ہاتھ کفن کیلئے مختلف چیزیں بھیجیں اورکہا : یہ خلیفہ کی
طرف سے سمجھو کہ اگر وہ خود یہاں ہوتا تو یہ چیزیں بھیجتا ۔
صاحبزادگان نے کہا: آپکی حیات ظاہری میں خلیفہ نے آپکی ناپسند یدہ چیزوں سے آپکو معذوررکھا تھا لہذا ہم کبھی یہ کفن نہیں لیںگے اورآپ کو ان کپڑوں میں کفن دیاگیا جو آپ کی باندی نے بن کرتیار کیاتھا ۔آپکے غسل میں دارالخلافہ کے تقریباً سوخاندان بنوہاشم کے شہزادگان تھے اورسب آپکی پیشانی کو چومتے تھے ۔
بیشمار لوگ نماز جنازہ میں حاضر ہوئے۔ کئی مرتبہ نماز جنازہ ہوئی ،لوگوں کی بھیڑ میں خلیفہ کا نائب بھی عام لوگوں کی طرح حاضررہا ۔اسکے حکم سے تعداد کا انداز ہ کیا گیا تو دس لاکھ سے بیس لاکھ تک کی روایتیں منقول ہیں ۔اس کثرت ازدحام اور مقبولیت انام سے متاثر ہوکر
بیس ہزار یہود ونصاری اور مجوس نے اسلام قبول کیا ۔
عبدالوہاب وراق کہتے ہیں ۔
جاہلیت اور اسلام میں کبھی کسی کے جنازہ پر اتنے لوگ جمع نہیں ہوئے جتنے آپکے جنازہ میں تھے ۔
امام احمد بن حنبل نے جس طرح خدمت دین انجام دی اورامتحان میں صبرواستقامت سے کام لیا اس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں بیحد انعام واکرام سے نوازا ،حشیش بن ورد کہتے ہیں کہ میں خواب میں حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوا میں نے پوچھا ،حضور احمد بن حنبل کا کیا حال ہے ؟ فرمایا عنقریب حضرت موسی تشریف لاتے ہیں ان سے پوچھنا ۔جب حضرت موسی تشریف لائے تو میں نے پوچھا اے اللہ کے نبی! احمد بن حنبل کا کیا حال ہے ؟ فرمایا انہیں عیش وراحت اور تنگی وتکلیف میں کیا گیا لیکن ہرحال میں ان کو صدیق پایا گیا پس ان کو صدیقین کے ساتھ لاحق کردیا گیا ۔
مروزی کہتے ہیں: میں نے وصال کے بعد امام احمد بن حنبل کو خواب میں دیکھا انہوں نے سبز رنگ کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع