30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگر احمد بن حنبل نے خلق قرآن کا قول نہ کیا تووہ انکو اور انکے شاگرد کومار مار کر ہلاک کردے گا ۔اس وقت امام احمد نے آسمان کی طرف سراٹھاکرکہا ۔اے اللہ آج اس فاجر کو یہاں تک جرأت ہوگئی ہے کہ یہ تیرے اولیاء کو للکار تاہے ۔اگر تیرا قرآن غیر مخلوق ہے تو تو ہم سے اس مشقت کو دور فرما ۔ابھی رات کا ایک تہائی حصہ بھی نہیں گزرا تھا کہ سپاہی دوڑتے ہوئے آئے اورکہا اے ابوعبداللہ تم واقعی سچے ہو اور قرآن غیر مخلوق ہے ۔قسم
بخداخلیفہ ہلاک ہوگیا۔
۲۱۸ھ میں مامون رشید ہلاک ہوااور اس کا بھائی معتصم باللہ بن ہارون رشید تخت حکومت پر قابض ہوا۔ مامون کی طرح معتصم بھی اعتزال کا حامی تھا ۔اس نے حکومت سنبھالنے کے بعد عقیدہ اعتزال کی ترویج کی۔ پہلے مختلف حیلوں سے امام احمدکو اعتزال کی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتارہا ۔بالآخر ۲۲۰ھ میں اس نے امام احمد بن حنبل کو دربار خلافت میں طلب کیا ۔
یہ وہ زمانہ تھا جب امام احمد کی عمر ۵۶ سال کی ہوچکی تھی ۔شباب رخصت ہوچکا تھا اور ان کا جسم بڑھاپے کی سرحد میں داخل اورنحیف ونزار تھا لیکن اعصاب فولاد کی طرح مضبوط اورقوت ارادی
چٹان سے کہیں زیادہ راسخ تھی ۔
خلیفہ کے سامنے ایک طویل مناظرہ ہوا ۔امام احمد کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ قرآن کلام اللہ ہے اوراللہ تعالیٰ کی صفت ہے اگر یہ حادث ہوتو اللہ تعالیٰ کی ذات محل حوادث بن جائے گی اور یہ محال ہے ۔خلیفہ سے امام احمد کی اس دلیل کا کوئی جواب نہ بن سکا ۔بالآخر معتزلی قاضی اور اس کے حواری معتزل علماء نے کہا کہ ہم فتوی دیتے ہیں کہ اس شخص کا خون آپ پر مباح ہے ۔آپ
اس کو قتل کردیں ۔خلیفہ نے جلاد کو بلایا اوراس سے کہا کہ احمد بن حنبل کے جسم پر کوڑے مارو ۔ ایک جلاد جب کوڑے مارتے مارتے شل ہوجاتا تودوسرا جلاد آجاتا اس طرح باربار
جلاد بدلتے رہے اور امام احمد بن حنبل صبر واستقامت سے کوڑے کھاتے رہے ۔
اس فتنہ میں چار علماء ثابت قدم رہے اور آپ سب کے سردار ہیں ۔ دوسرے محمد بن نوح بن میمون کہ انکا انتقال راستہ ہی میں ہوگیا تھا ۔تیسرے نعیم بن حماد خزاعی ، ان کا انتقال قید
خانہ میں ہو ا۔ ابویعقوب بویطی ،انکا وصال بھی قید خانہ میں ہوا ،چوتھے احمد بن نصر خزاعی۔
امام احمد بن حنبل کو جب کوڑے مارے جارہے تھے تواسی اثنا میں ضرب شدید کی وجہ سے آپ کا ازار بند
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع