30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بن محمد بن حنبل بن ہلالی بن اسد بن ادریس بن عبد اللہ الذہلی الشیبانی ثم المروزی
ثم البغدادی۔
ولادت و تعلیم : آپ کے والد محمد بن حنبل مرو سے بغداد آ کر اقامت پذیر ہوئے اور آپ کی
ولادت ماہ ربیع الاول ۲۶۴ ھ بغداد میں ہوئی۔
ابتدائی تعلیم کے بعد سب سے پہلے امام ابو یوسف کی خدمت میں حاضری دیا کرتے تھے لیکن بعد میں علم حدیث کی طرف توجہ کی اور پندرہ سال کی عمر میں احادیث کا سما ع کرنے کیلئے ۱۷۹ھ میں بغداد کے مشہور شیخ ہیثم کی خدمت میں حاضری دی۔ اسی سال امام عبد اللہ بن مبارک بغداد میں تشریف لائے ، امام احمد کو ان کا علم ہوا تو ان کی مجلس میں پہونچے ، وہاں پہونچ کر معلوم ہوا کہ وہ طرطوس جا چکے ہیں ۔ اس کے بعد وہ بغداد واپس نہیں آئے اور دو سال بعد ان
کا وہیں وصال ہو گیا۔
امام ہیثم کی وفات کے بعد آپ نے بغداد کے علاوہ دوسرے شہروں کا رخ کیا ، مکہ
معظمہ ، مدینہ منورہ کوفہ ، بصرہ شام ، یمن اور جزیرہ کے مشائخ و قت سے سماع حدیث کیا۔
اساتذہ: آپ نے علم حدیث مندرجہ ذیل مشاہیر وقت سے حاصل کیا۔
بشر بن مفصل ، اسماعیل بن علیہ ، سفیان بن عبینہ، جرید بن عبد المجید ، یحیی بن سعید الفطان ، ابو داؤد طیالسی ، عبد اللہ بن نمیر ، عبد الرزاق علی بن عیاش حمصی ، امام شافعی ، معتمر بن
سلیمان ، ہیثم ، ابراہیم بن سعد ، عبادہ بن عباد اور یحیی بن زائرہ وغیرہم۔
تلامذہ:۔آپ کا زمانہ درس وتدریس نہایت ابتلاء و آزمائش کا دور ہے مگر جبر و استبداد کی
زنجیر یں میدان تدریس میں آپ کا راستہ نہ روک سکیں ،آپ کے تلامذہ اور مستفدین کی
فہرست نہایت طویل ہے چند اسماء یہ ہیں ۔
امام بخاری ، امام مسلم ، امام ابو داؤد ، اسود بن عامر ، شاذان ، ابن مہدی۔
ساتھ ہی آپ کے اساتذہ نے بھی آپ سے سماع حدیث کیا ہے ، ان میں امام شافعی ،
ابو الولید ، عبد الرزاق ،و کیع، یحیی بن آدم، یزید بن ہارون نہایت مشہور ہیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع