30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیا جاتا تھا۔ اس کی تیس سے زیادہ شروح لکھی گئی ہیں (کشف الظنون ج ۱ص۵۶۱) متاخرین میں سے ایک شرح مولانا عبدالحی ٔ لکھنوی نے لکھی ہے اوراس کے شروع میں مبسوط مقدمہ ’’النافع الکبیر لمن یطالع الجامع الصغیر ‘‘کے نام سے تحریر
کیاہے جس میں اس کتاب کی تمام خصوصیات اور اس کی شروح کا ذکر کیاہے ۔
السیر الصغیر ۔ علم فقہ میں امام محمد کی یہ چوتھی تصنیف ہے ۔امام اعظم نے اپنے تلامذہ کو سیر
ومغازی کے باب میں جو کچھ املا کرایا یہ اس کا مجموعہ ہے ۔
السیرالکبیر ۔ فقہ کے موضوع پر یہ امام محمد کی پانچویں تصنیف ہے ۔امام اوزاعی نے سیر صغیر کا
تعاقب کیا اور اس کے جواب میں امام محمد نے سیر کبیر کو تالیف کیا ،سیر ومغازی کے موضوع پر یہ ایک انتہائی مفید کتاب شمار کی جاتی ہے ۔اس کتاب میں جہاد وقتال اور امن وصلح کے مواقع اور طرق بیان کئے ہیں۔غیر مسلم اقوام سے مسلمانوں کے تعلقات ان کے حقوق وفرائض اور تجارتی اورعام معاملات پر سیر حاصل بحث کی ہے ۔اسلام کے بین الاقوامی نقطۂ نظر کو سمجھنے کیلئے اس کتاب کامطالعہ بہت ضروری ہے ۔
یہ کتاب امام محمد کی انتہائی اہم اورادق کتاب شمار جاتی ہے ،قوت استدلال اوردقت بیان کے اعتبار سے یہ کتاب انکی دیگر تمام کتب میں ممتاز ہے ۔ہارون الرشید کو اس کتاب سے اس درجہ دلچسپی تھی کہ اس نے اپنے دونوں لڑکوں امین اور مامون کو اس کا سماع کرایا۔ اس کتاب کی متعدد شروح لکھی جاچکی ہیں جن میں سب سے زیادہ شہرت امام سرخسی کی شرح کو حاصل
ہوئی ،یہ شرح مع متن کے حیدر آباد دکن سے چھپ چکی ہے ۔
زیادات ۔ ظاہر الروایۃ میں امام محمد کی یہ چھٹی تصنیف ہے جو کہ سیرصغیر سیر کبیر کے تتمہ کے حکم
میں ہے۔ کیونکہ سیر اور مواضع کہ جو مسائل ان دو کتابوں میں رہ گئے تھے ان کا اس کتاب میں
ذکر کردیا گیا ہے ۔اس کے قلمی نسخے استنبول کی لائبریریوں میں موجود ہیں ۔
فقہ سے متعلق امام محمد کی ان چھ کتابوں کو ظاہرہ الروایہ کہاجاتا ہے ۔امام محمد بن محمد حاکم شہید متوفی ۳۳۴ھ نے مبسوط جامع صغیر اور جامع کبیر سے مکرر مسائل اور مطول عبارات کو حذف کرکے ایک مختصر متن تیار کیا اور اسکا نام’’ الکافی فی فروع الحنفیہ‘‘ رکھا ۔ایک مرتبہ انہیں خواب میں امام محمد کی زیارت ہوئی فرمایاتم نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع