30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے ان کو ہارون
رشید کے پاس بھیج دیا ۔اس طرح مجبور ہوکر ان کو عہدہ قضاء قبول کرنا پڑا ۔
حق گوئی وبے باکی۔امام محمداپنے احباب اورارکان دولت کے اصرار کی بناء پر عہد ہ قضاء
پر متمکن ہوئے۔ جتنا عرصہ قاضی رہے بے لاگ فیصلے کرتے رہے لیکن قدرت کو ان کی آزمائش مقصود تھی ۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ یحیی بن عبداللہ نامی ایک شخص کو خلیفہ پہلے امان دے چکا تھا ۔ بعد میں کسی وجہ سے خلیفہ اس پر غضب ناک ہوا اوراس کو قتل کرنا چاہا۔ اپنے اس مذموم فعل پر خلیفہ قضاۃ کی تائید چاہتا تھا تاکہ اسکے فعل کو شرعی جواز کا تحفظ حاصل ہوجائے ۔خلیفہ نے تمام قاضیوں کو دربار میں طلب کیا سب نے خلیفہ کے حسب منشاء نقض امان کی اجاز ت دیدی لیکن امام محمد نے اس سے اختلاف کیا اور برملا فرمایا:یحیی کو جوامان دی جاچکی ہے وہ صحیح ہے اوراس امان کو توڑنے اور یحیی کے خون کی اباحت پرکوئی شرعی دلیل نہیں ہے لہذا اس کو قتل کرنا کسی طرح جائز نہیں ہے ۔انکی حق گوئی سے مزاج شاہی برہم ہوگیا لیکن جن کی نظر میں منشا الوہیت ہوتا ہے وہ کسی اورمزاج کی پرواہ نہیں کرتے، جودلوں میں اس قہار حقیقی کا خوف رکھتے ہیں وہ مخلوق کی ناراضگی کو کبھی خاطر میں نہیں لاتے ۔امام محمد اپنے اس فیصلہ کے رد عمل کو قبول کرنے کیلئے تیار تھے ۔چنانچہ اس اظہارحق کی پاداش میں نہ صرف یہ کہ آپ کو عہدئہ قضاء سے ہٹایا گیا اور افتاء سے روکاگیا بلکہ کچھ عرصہ کیلئے آپ کو قید میں بھی محبوس کیاگیا ۔
عہدئہ قضاء پر بحالی :۔ امام محمد کے عہدہ قضاء سے سبکدوش ہونے کے کچھ عرصہ بعد ہارون
رشید کی بیوی ام جعفر کو کسی جائیداد کے وقف کرنے کا خیال آیا اس نے امام محمد سے وقف نامہ تحریر کرنے کی درخواست کی آپ نے فرمایا مجھے افتاء سے روک دیا گیا ہے اس لئے معذور ہوں ۔ امام جعفر نے اس سلسلہ میں ہارون رشید سے گفتگوکی جس کے بعد اس نے نہ صرف آپ کو افتاء کی اجازت دی بلکہ انتہائی اعزاز واکرام کے ساتھ آپ کو قاضی القضاۃ کا عہد ہ پیش کردیا ۔
تصانیف ۔امام محمد کی تمام زندگی علمی مشاغل میں گذری۔ائمہ حنفیہ میں انہوں نے سب سے زیادہ کتابیں تصنیف کیں ،مولانا عبدالحی لکھنوی اور مولانافقیر محمد جہلمی نے لکھا ہے کہ انہوں نے نوسوننانوے کتابیں لکھی ہیں اوراگر ان کی عمر وفاکرتی تووہ ہزار کا عدد پوراکردیتے ۔بعض محققین کایہ بھی خیال ہے کسی موضوع پر جو کتاب لکھی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع