30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مجموعہ مرتب کیاجس کانام اسدیہ رکھا ۔علماء مصر نے اس مجموعہ کی نقل لینا چاہی اور قاضی مصر کے ذریعہ سفارش کی ،آپ نے اسکی اجازت دیدی اور چمڑے کے تین سوٹکڑوں پر اسکی نقل کرائی گئی جوابن القاسم کے پاس رہی ۔بعد کے
مدونہ نسخوں کی اصل بھی یہ ہی اسدیہ ہے ۔
امام محمد کے پاس مال کی اتنی فراوانی تھی کہ تین سومنیم مال کی نگرانی کیلئے مقرر تھے ۔لیکن آپنے اپنا تمام مال ومتاع محتاج طلبہ پر خرچ کردیا یہاں تک کہ آپکے پاس لباس بھی معمولی رہ
گیا تھا ۔
معمولات زندگی :۔ آپ راتوںکو نہیں سوتے تھے ،کتابوں کے ڈھیر لگے رہتے۔ جب
ایک فن کی کتابوں سے طبیعت گھبراتی تودوسرے فن کا مطالعہ شروع کردیتے تھے ،جب راتوں کو
جاگتے اور کوئی مسئلہ حل ہوجاتا توفرماتے ،بھلاشاہزادوں کو یہ لذت کہاں نصیب ہوسکتی ہے ۔
امام شافعی فرماتے ہیں : ایک مرتبہ میں نے آپکے یہاں قیام کیا ،اور صبح تک نماز پڑھتا رہا ،لیکن امام محمد رات بھر پہلو پر لیٹے رہے اور صبح ہونے پر یونہی نماز میں شریک ہوگئے ۔مجھے یہ بات کھٹکی تو میں نے عرض کیا ،آپ نے فرمایا : کیا آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ میں سوگیا تھا ،نہیں میں نے کتاب اللہ سے تقریبا ًایک ہزار مسائل کا استنباط کیا ہے ۔تو آپ نے رات بھر اپنے لئے کام کیا اور میں نے پوری امت کیلئے ۔
محمد بن مسلمہ کا بیان ہے، کہ آپ نے عموماًرات کے تین حصے کردیئے تھے ،ایک سونے
کیلئے ،ایک درس کیلئے اور ایک عبادت کیلئے ۔
کسی نے آپ سے کہا : آپ سوتے کیوں نہیں ہیں ۔فرمایا : میں کس طرح سوجائوں
جبکہ مسلمانوں کی آنکھیں ہم لوگوں پر بھروسہ کرکے سوئی ہوئی ہیں ۔
فضل وکمال ۔امام شافعی فرماتے ہیں : اگر میں کہنا چاہوں کہ قرآن مجید محمد بن حسن کی لغت
پر اتراہے تو میں یہ بات امام محمد کی فصاحت کی بنیاد پر کہہ سکتاہوں ۔نیز یہودونصاری امام محمد کی کتابوں کامطالعہ کرلیں تو ایمان لے آئیں ۔فرماتے ہیں : میں نے جس شخص سے بھی کوئی مسئلہ پوچھا تواس کی تیوری پر بل آگئے مگر امام محمد سے جب بھی کوئی مسئلہ پوچھا تو آپ نے نہایت
خندہ پیشانی سے وہ مسئلہ سمجھایا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع