30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ابو حفص کبیر احمد بن حفص عجلی استاذ امام بخاری ۔موسی بن نصیر رازی، ہشام بن عبیداللہ رازی ،ابوسلیمان جوزجانی ،ابوعبیدالقاسم بن سلام ،محمد بن سماعہ ،معلی بن منصور ،محمد بن
مقاتل رازی ،شیخ ابن جریر ،یحیی بن معین ،ابوزکریا ،یحیی بن صالح ،حاظی حمصی ،
یہ امام بخاری کے شیوخ شام سے ہیں ۔عیسی بن ابان ،شداد بن حکیم ،امام شافعی جنکو
آپ نے اپناتمام علمی سرمایہ سونپ دیاتھا جو ایک اونٹ کا بوجھ تھا ۔
ابو عبید کہتے ہیں :میں نے امام شافعی کو دیکھا کہ امام محمد نے انکو پچاس اشرفیاں دیں
اوراس سے پہلے پچاس روپے دے چکے تھے ۔
ابن سماعہ کا بیان ہے :امام محمد نے اما م شافعی کیلئے کئی بار اپنے اصحاب سے ایک ایک
لاکھ روپے جمع کرکے دیئے ۔
امام مزنی فرماتے تھے :امام شافعی سے منقول ہے کہ ایک دفعہ میں عراق میں قرضہ کی
وجہ سے محبوس ہوگیا ،امام محمد کو معلوم ہوا تو مجھے چھڑالیا ۔
یہ ہی وجہ تھی کہ امام شافعی امام محمد کی نہایت تعظیم وتوقیر کرتے اور واضح الفاظ میں
احسانات کا اظہار کرتے تھے ،فرماتے۔
فقہ کے بارے میں مجھ پر زیادہ احسان محمد بن حسن کاہے ۔
حافظ سمعانی نے امام شافعی کا یہ قول نقل کیا ۔
اللہ تعالیٰ نے دوشخصوں کے ذریعہ میری معاونت فرمائی ۔سفیان بن عیینہ کے ذریعہ
حدیث میں اور امام محمد کے ذریعہ فقہ میں ۔
علامہ کردری نے امام شافعی کا یہ قول نقل کیاکہ:۔
علم اور اسباب دنیوی کے اعتبار سے مجھ پر کسی کا بھی اتنا بڑا احسان نہیں جس قدر امام
محمد کا ہے ۔
آپکے دوسرے عظیم شاگر د اسدبن الفرات ہیں ، خصوصی اوقات میں آپ نے انکی تعلیم وتربیت کی ۔ساری ساری رات انکو تنہا لیکر بیٹھتے ،پڑھاتے اور مالی امداد بھی کرتے تھے ،جب پڑھ لکھ کر فاضل ہوگئے تو امام محمد کی روایت سے امام اعظم کے مسائل ،اورابن قاسم کی روایت سے امام مالک کے مسائل پر مشتمل ۶۰ کتابوں کا ایک
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع