30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صحابہ کرام کو بلا شبہ فضل صحابیت حاصل تھا ورنہ دوسرے خصائل میں آپ کا مقام نہایت بلند ہے۔
سلام بن ابی مطیع کہتے ہیں :۔
مشرق میں ان جیسا پھر کوئی نظر نہ آیا۔
امام ابن معین فرماتے ہیں :۔
آپ احادیث صحاح کے حاظ تھے، بیس ہزار یا اکیس ہزار حدیث کی کتابوں سے آپ احادیث روایت فرماتے ہیں۔
اسمعیل بن عیاش کہتے ہیں :۔
ابن مبارک جیسا روئے زمین پر کوئی دوسرا نہیں ، اللہ تعالیٰ کی پیدا کر دہ ہر خوبی کے جامع تھے، فقراء پر جب خرچ فرماتے تو ایک سال میں ایک لاکھ درہم تک خرچ کر دیتے تھے۔
ایک مرتبہ حج کے لئے تشریف لئے جا رہے تھے، قافلہ والوں کا ایک پرند مر گیا ، ایک بستی کے کو ڑا خانہ میں لوگوں نے اسے پھینک دیا پھر قافلہ تو آگے بڑھ گیا ۔ آپ کچھ دیر سے چلے ، دیکھا کہ ایک لڑکی اس مردار پرند کو اٹھا کر لے گئی اور تیز قدم چل کر ایک مکان میں داخل ہو گئی ۔ آپ اس کے گھر کی طرف تشریف لے گئے، حال معلوم ہوا اور مردار پرند کو لانے کا سبب پوچھا، اس لڑکی نے کہا : میں اور میرا بھائی یہاں رہتے ہیں ، ہمارے پاس کچھ نہیں فقط ستر پوشی کے لئے یہ تہبند ہے ، اور اب ہماری خوراک صرف یہ ہی رہ گئی ہے کہ ان گھوروں سے جو چیز بھی مل جائے۔ ہمارے لئے ان حالات میں یہ مردار بقدر ضرورت حلال ہے، ہمارے والد مالدار تھے، ان پر ظلم ہوا اور قتل کر دئیے گئے اور سارا مال ظالم لے گئے۔
امام ابن مبارک یہ سن کر نہایت متاثر ہوئے ، اپنے خازن سے فرمایا: فی الحال زاد راہ میں کیا باقی رہا ہے، اس نے عرض کیا: ایک ہزار دینار۔ آپ نے فرمایا: بیس دینار لے لو کہ اپنے وطن مرو تک پہونچنے کے لئے کافی ہیں اور باقی ۹۸۰ دینار اس مظلومہ کو دو۔ اس سال ہمیں حج کے مقابلہ میں یہ اعانت و امداد بہتر ہے اور وہیں سے واپس وطن تشریف لے آئے۔
جب حج کا موسم آتا تو اپنے ساتھیوں سے کہتے: تم میں امسال کون حج کو جانا چاہتا
ہے ، جو ارادہ رکھتا ہو وہ اپنا زاد راہ میرے پاس لا کر جمع کر لے تاکہ میں راستہ میں اس پر خرچ کر تا چلوں، لہذا سب سے دراہم و دنانیر کی تھیلیاں جمع کر تے ، ہر تھیلی پر اسکا نام لکھتے اور ایک صندوق میں رکھتے جاتے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع