30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پڑھایا۔ آپ پر امام اعظم کو بہت اعتماد تھا۔
حسن بن زیاد کہتے ہیں:۔
امام زفر مجلس امام اعظم ابو حنیفہ میں سب سے آگے بیٹھتے تھے۔
امام زفر اور امام داؤد طائی ایک ساتھ امام ابو حنیفہ کی خدمت میں حدیث و فقہ کا درس لیتے، دونوں میں بھائی چارہ تھا، پھر امام داؤد طائی علمی مشغلہ سے تصوف کی راہ پر گامزن ہو گئے جبکہ امام زفر علم و عبادت دونوں کے جامع بنے۔
زہد و ریا ضت:۔ حدیث و فقہ میں امامت کا درجہ رکھنے کے ساتھ ساتھ زہد و تقوی اور
عبادت و ریاضت میں بھی بے مثال تھے، زہد و ورع ہی کے پیش نظر آپ نے عہدہ قضا کو قبول نہ کیا جبکہ دو مر تبہ آپ کو اس کام کے لئے مجبور کیا گیا،آپ نے انکار کیا اور وطن چھوڑ کر روپوش ہو گئے۔ حکومت وقت نے انتقاماً آپ کا گھر جلا دیا، چنانچہ آپ کو اپنا مکان دو مرتبہ تعمیر کرنا پڑا۔
وصال:۔آپ اصل کوفہ کے باشندے تھے، مگر بھائی کی میراث کے سلسلہ میں بصرہ چلے گئے، اہل بصرہ نے بصد اصرار یہاں ہی اقامت کا مشورہ دیا اور آپ انکی درخواست پر یہیں مقیم ہو گئے۔
آپ نے ۱۷۸ ھ خلیفہ محمد المھدی کے عہد میں یہیں وفات پائی اور یہیں مدفون ہوئے۔(۳)
امام عبد اللہ بن مبارک
نام و نسب:۔نام، عبداللہ ۔ والد کا نام مبارک۔ کنیت، ابو عبد الرحمن ہے ۔ حنظلی تمیمی
ہیں ، آپکے والد ترکی النسل تھے، اور قبیلہ نبو حنظلہ جو اہل ہمدان سے تعلق رکھتا تھا اسکے آزاد کر دہ غلام، آپ کی والد ہ خوارزمیہ تھیں۔
والد محترم نے تجارت کا پیشہ اختیار کیا اور اس میدان میں خوب شہرت حاصل کی۔
ولا دت و تعلیم:۔ آپ کی ولادت ۱۱۸ ھ مرو میں ہوئی ، والدین نے اپنے اس ہونہار
فرزند کی بڑے اہتمام سے تعلیم و تربیت کی ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع