دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jame Ul Ahadees Jild 1 | جامع الاحادیث جلد اول

book_icon
جامع الاحادیث جلد اول

        حضرت  امام حماد بن امام اعظم  رضی اللہ  تعالیٰ عنہ  بلند پایہ فقیہ ، تقوی  و پرہیزگاری ، فضل وکمال ، علم و دانش اور جود سخا میں  اپنے والد ماجد کا عکس  جمیل  تھے۔  حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے آپ کی تعلیم و تربیت  نہایت اہتمام سے فرمائی ، مشہور  ہے کہ الحمد کے ختم پر آپ

کے  معلم کو ایک  ہزار درہم  عنایت فرمائے۔

       ابتدائی  تعلیم  کے بعد حضرت امام حماد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث و فقہ کی تحصیل  والد ماجد سے کی ،  اور اس  میں کمال مہارت پید اکی ۔ جب  امام اعظم نے اپنے اس لائق اور ہونہار لخت جگر کو علوم و فنون میں کامل پایا تو مسند افتاء پر متمکن ہو نے کی اجازت مرحمت فرمائی ۔  آپ نے   نہ صرف فتوی  نویسی کے اہم فریضہ کو  بڑی  خوش اسلوبی سے  سر انجام دیا  بلکہ  تدوین کتب فقہ میں  بھی  آپ نے نمایاں کردار ادا کیا ،  اور حضرت امام ابو یوسف،  حضرت امام محمد، حضرت امام زفر ،  حضرت امام حسن  بن  زیاد وغیرہ  ارشد تلامذہ امام اعظم رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کے طبقہ  میں 

شمار ہوئے۔

       آپ نہایت متقی و متورع انسان تھے،  جب حضرت امام اعظم  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے وصال فرمایا  تو گھر  میں لوگوں کی بہت سی امانتیں ایسی  بھی  تھیں جن  کے مالک مفقود الخبر  تھے،   آپ نے  وہ تمام مال و اسباب امانتوں کی صورت میں  قاضی  وقت کے سامنے  پیش کر دیا۔         قاضی صاحب نے بہت اصرار کیا کہ ابھی اپنے پاس رہنے دیجئے،  آپ امین مشہور ہیں اور بہتر طریقے سے اس کی حفاظت کر سکتے ہیں ، مگر آپ نے قاضی سے  اعتذار کرتے ہوئے تمام مال و اسباب کی  فہرست پیش کر دی  اور ساتھ  ہی  فوری  عمل در آمد کے لئے کہہ دیا  تاکہ ان کے والد ماجد  بری الذمہ ہوں، کہتے ہیں کہ جب تک وہ امانتیں قاضی نے کسی اور کے  اہتمام

میں نہیں دیں،آپ نظر نہیں  آئے۔

       حضرت  امام حماد نے  اپنی  عمر تعلیم  و تعلم میں صرف فرمائی ، آپ سے آپ کے بیٹے اسمعیل نے تفقہ کیا   جن سے عمرو بن  ذر ،  مالک بن  مغول ،  ابن ابی ذئب، اور قاسم بن معین  وغیرہ جلیل القدر فقہا  و محدثین   فیض یاب ہوئے ۔ حضرت  امام اسماعیل  بن حماد  بن امام اعظم پہلے بغداد  بعدہ  بصرہ  اور پھر رقہ کے قاضی مقرر ہوئے۔ احکام قضا، وقائع و نوازل  میں  ماہر باہر اور عارف بصیر  تھے۔ محمد بن عبد اللہ  انصاری  کہتے  ہیں کہ حضرت عمر  رضی اللہ  تعالیٰ  عنہ کے  زمانے  سے آج تک  کوئی  قاضی  اسمعیل  بن  حماد  سے  اعلم نہیں ہوا۔ آپ بہ عہد خلیفہ  مامون الرشید 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن