30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جس کا ان کو مرتے دم تک افسوس رہا ۔مگر مالی امداد کی۔ لیکن نوشتۂ تقدیر کون بدلے ۔ابراہیم کوبھی منصور کے مقابلے میں شکست ہوئی اورابراہیم بھی
شہید ہوگئے ۔
ابراہیم سے فارغ ہوکر منصورنے ان لوگوں کی طرف توجہ کی جن لوگوں نے ان کا ساتھ دیا تھا ۔۱۴۶ھ میں بغدادکو دارالسلطنت بنانے کے بعد منصور نے حضرت امام اعظم کو بغداد بلوایا۔منصور انہیں شہید کرنا چاہتاتھا ۔مگر جواز قتل کیلئے بہانہ کی تلاش تھی ۔اسے معلوم تھا کہ حضرت امام میری حکومت کے کسی عہدے کو قبول نہ کریں گے ۔اس نے حضرت امام کی خدمت میں عہدہ قضا پیش کیا ۔امام صاحب نے یہ کہہ کرانکار فرمادیا کہ میں اس کے لائق نہیں ۔منصور نے جھنجھلاکرکہا تم جھوٹے ہو۔امام صاحب نے فرمایا کہ اگر میں سچاہوں تو ثابت کہ میں عہدئہ قضاکے لائق نہیں ۔جھوٹاہوں توبھی عہدئہ قضاکے لائق نہیں، اس لئے کہ جھوٹے کوقاضی بنانا جائز نہیں ۔اس پر بھی نہ مانا اورقسم کھاکرکہا تم کو قبول کرنا پڑے گا ۔امام صاحب نے بھی قسم کھائی کہ ہرگز نہیں قبول کروں گا ۔ربیع نے غصے سے کہا ابوحنیفہ تم امیرالمومنین کے مقابلے میں قسم کھاتے ہو ۔امام صاحب نے فرمایا ۔ہاں یہ اس لئے کہ امیرالمومنین کو قسم کا کفارہ اداکرنا بہ نسبت میرے زیادہ آسان ہے ۔اس پر منصور نے جزبز ہوکر حضرت امام کو قید خانے میں بھیج
دیا ۔ا س مدت میں منصور حضرت امام کو بلاکر اکثر علمی نداکرات کرتا رہتاتھا ،منصور نے حضرت امام کو قید توکردیا مگر وہ ان کی طرف سے مطئن ہرگز نہ تھا ۔بغداد چونکہ دارالسلطنت تھا ۔اس لئے تمام
دنیا ئے اسلام کے علماء ،فقہاء ،امراء ،تجار ،عوام ،خواص بغداد آتے تھے ۔حضرت امام کا غلغلہ پوری دنیا میں گھر گھر پہنچ چکا تھا ۔قید نے انکی عظمت اور اثر کو بجائے کم کرنے اور زیادہ بڑھادیا ۔جیل خانے ہی میں لوگ جاتے اور ان سے فیض حاصل کرتے ۔حضرت امام محمد اخیروقت تک قید خانے میں تعلیم حاصل کرتے رہے ۔منصور نے جب دیکھا کہ یوں کام نہیں بنا تو خفیہ زہر دلوادیا ۔جب حضرت امام کو زہر کا اثر محسوس ہوا تو خالق بے نیاز کی بارگاہ میں سجدہ کیا
سجدے ہی کی حالت میں روح پرواز کرگئی ۔ع
جتنی ہوقضا ایک ہی سجدے میں اداہو ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع