30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سخت سزا دی جائے گی ۔آپ نے بھی قسم کھائی کہ ہرگز قبول نہیں کرونگا ۔یہ سنکر بولا آپ میرے مقابلہ میں قسم کھاتے ہیں ۔لہذاآپ کے سرپرکوڑوں کی بوچھار شروع کردی گئی ۔بیس کوڑے مارے گئے اور دس دن تک کوڑے لگوائے جاتے رہے ۔امام اعظم نے فرمایا : اے ابن ھبیرہ !یادرکھو کل بروز قیامت خداکو منہ دکھانا ہے ۔تم کو کل اللہ کے حضور کھڑاہونا ہوگا اور میرے مقابلہ میں تمہیں نہایت ذلیل کیاجائے گا ،یہ سنکر ابن ھبیرہ نے کوڑے تورکوادیئے لیکن قیدخانہ میں بھیج دیا ۔
رات کو خواب میں ابن ھبیرہ نے دیکھا کہ حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرمارہے ہیں ۔اے ابن ھبیرہ ! میری امت کے لوگوں کو بغیر کسی جرم کے سزائیں دیتا
اورستاتاہے ،خداسے ڈراورانجام کی فکر کر ۔
یہ خواب دیکھ کر نہایت بے چین ہوا اور صبح اٹھکر آپ کو قید خانے سے رہا کردیا ۔اس
طرح آپکی قسم پورہوگئی ۔یہ پہلی ابتلاء وآزمائش تھی ۔
بعد کے واقعات شارح بخاری حضرت مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ کی زبانی
ملاحظہ کریں ۔
خلافت بنوامیہ کے خاتمہ کے بعد سفاح پھر منصور نے اپنی حکومت جمانے اورلوگوں کے دلوں میں اپنی ہیبت بٹھانے کیلئے وہ وہ مظالم کئے جوتاریخ کے خونی اوراق میں کسی سے کم نہیں ۔منصور نے خصوصیت کے ساتھ سادات پرجومظالم ڈھائے ہیں وہ سلاطین عباسیہ کی پیشانی کا بہت بڑابدنما داغ ہیں ۔اسی خونخوار نے حضرت محمد بن ابراہیم دیباج کودیوار میں زندہ چنوادیا ۔آخر تنگ آمد بجنگ آمد ۔ان مظلوموں میں سے حضرت محمد نفس ذکیہ نے مدینہ طیبہ میں خروج کیا ۔ابتداء ان کے ساتھ بہت تھوڑے لوگ تھے ۔بعد میں بہت بڑی فوج تیار کرلی ۔ حضرت امام مالک نے بھی ان کی جمایت کا فتوی دیدیا ۔نفس ذکیہ بہت شجاع فن جنگ کے ماہر قوی طاقتورتھے ۔مگر اللہ عزوجل کی شان بے نیاز کہ جب منصور سے مقابلہ ہواتو ۱۴۵ھ میں
دادمردانگی دیتے ہوئے شہید ہوگئے ۔
انکے بعد ان کے بھائی ابراہیم نے خلافت کادعوی کیا ۔ہرطرف سے انکی حمایت
ہوئی ۔ خاص کوفے میں لگ بھگ لاکھ آدی انکے جھنڈے کے نیچے جمع ہوگئے ۔بڑے بڑے ائمہ علماء فقہاء نے ان کا ساتھ دیا ۔حتی کہ حضرت امام اعظم نے بھی انکی حمایت کی بعض مجبوریوں کی وجہ سے جنگ میں شریک نہ ہوسکے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع