30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کلمات الثنا: ۔امام اعظم کی جلالت شان اورعلمی وعملی کمالات کو آپکے معاصرین واقران ۔
محدثین وفقہاء ،مشائخ وصوفیاء ،تلامذہ واساتذہ سب نے تسلیم کیا اوربیک زبان بے شمار حضرات نے آپکی برتری وفضیلت کا اعتراف کیا ہے ۔حدیث وفقہ دونوں میں آپکی علو شان کی گواہی دینے میں بڑے بڑوں نے بھی کبھی کوئی جھجک محسوس نہیں کی ،چند حضرات کے تاثرات ملاحظہ
کیجئے ۔
امام عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں :۔
انکی مجلس میں بڑوں کو چھوٹا دیکھتا ،انکی مجلس میں اپنے آ پ کو جتنا کم رتبہ دیکھتا کسی کی مجلس میں نہ دیکھتا ،اگراسکا اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ یہ کہیںگے کہ میں افراط سے کام لے رہاہوں تومیں ابو حنیفہ پر کسی کو مقدم نہیں کرتا ۔
نیزفرمایا:۔
امام اعظم کی نسبت تم لوگ کیسے کہتے ہو کہ وہ حدیث نہیں جانتے تھے ، ابوحنیفہ کی رائے مت کہو حدیث کی تفسیر کہو ۔اگرابو حنیفہ تابعین کے زمانہ میں ہوتے توتابعین بھی انکے محتاج ہوتے ۔آپ علم حاصل کرنے میں بہت سخت تھے وہی کہتے تھے جو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ثابت ہے ،احادیث ناسخ ومنسوخ کے بہت ماہر تھے ۔آپ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں
میں سے ایک نشانی تھے ۔
اگراللہ تعالیٰ نے امام اعظم اورسفیان ثوری کے ذریعہ میری دستگیری نہ کی ہو تی تو میں
عام آدمیوں میں سے ہوتا ۔میں نے ان میں دیکھا کہ ہردن شرافت اور خیر کا اضافہ ہوتا ۔
سفیان بن عیینہ نے کہا : ابوحنیفہ اپنے زمانے کے سب سے بڑے عالم ہیں ،میری
آنکھوں نے ان کامثل نہیں دیکھا ۔
مکی بن ابراہیم استاذ امام بخاری فرماتے ہیں ۔امام ابوحنیفہ اپنے زمانے کے اعلم علماء
تھے ۔
امام مالک سے امام شافعی نے متعدد محدثین کا حال پوچھا ،اخیر میں امام ابوحنیفہ کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع