30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امام اعظم کا یہ طریقہ خود اپنا نہیں تھا بلکہ ان بعض اکابر صحابہ کا تھا جو روایت حدیث میں غایت احتیاط سے کام لیتے تھے ،وہ ہر جگہ صریح طور پر حضور کی طرف نسبت کرنے سے احتراز کرتے ۔حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف کسی قول کی صراحۃً نسبت کرنے میں
ان کی نظر حضور کے اس فرمان کی طرف رہتی تھی کہ:۔
من کذب علی متعمدا فلیتبوأ مقعدہ من النار۔
جس نے مجھ پر عمداً جھوٹ باندھا اس نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنایا ۔
لہذا کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم سے شعوری یا غیر شعوری طور پر انتساب میں کوتاہی ہوجائے اور ہم اس وعید شدید کے سزاوار ٹھہریں ۔امیر المومنین حضرت عمر فارق اعظم اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما اس سلسلہ میں سر فہرست رہے ہیں جن کے واقعات آپ نے ابتداء مضمون میں ملاحظہ فرمائے ۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگرد حضرت عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ میں ہرجمعرات کی شام بلاناغہ حضرت ابن مسعود کی خدمت میں حاضر ہوتا لیکن
میں نے کبھی آپ کی زبان سے یہ الفاظ نہیں سنے کہ حضور نے یہ فرمایا۔
ایک شام ان کی زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ،کہتے ہیں ! یہ الفاظ کہتے ہی وہ جھک گئے میں نے ان کی طرف دیکھا تو کھڑے تھے ،ان کی قمیص کے بٹن کھلے ہوئے تھے ،آنکھوں سے سیل اشک رواں تھا اور گردن کی رگیں پھولی ہوئی
تھیں ۔یہ آپ کی غایت احتیاط کا مظاہرہ تھا۔
اس وجہ سے آپ کے تلامذہ میں بھی یہ طریقہ رائج رہا کہ اکثر احادیث بصورت مسائل بیان فرماتے اور وقت ضرورت ہی حضور کی طرف نسبت کرتے تھے ،کوفہ میں مقیم محدثین وفقہاء بالواسطہ یابلاواسطہ آپ کے تلامذہ میں شمار ہوتے ہیں جیسا کہ آپ پڑھ چکے ،امام اعظم کا سلسلہ سند حدیث وفقہ بھی آپ تک پہونچتا ہے لہذا جواحتیاط پہلے سے چلی آرہی تھی اسکو امام اعظم نے بھی اپنایا ہے اور بعض لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ امام ابوحنیفہ احادیث سے کم اور اپنی رائے سے
زیادہ کام لیتے اور فتوی دیتے ہیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع