30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۰۔ ایک واقعہ کے دوراوی ہوں ،ایک کی طرف سے امر زائد منقول ہو اور دوسرا نفی بلادلیل
کرے تو یہ نفی مقبول نہیں ۔
۱۱۔ حدیث میں حکم عام کے مقابل حدیث میں حکم خاص مقبول نہیں ۔
۱۲۔ صحابہ کی ایک جماعت کے عمل کے خلاف خبر واحد قولی یاعملی مقبول نہیں ۔
۱۳۔ کسی واقعہ کے مشاہدہ کے بارے میں متعارض روایات میں قریب سے مشاہدہ کرنے
والے کی روایت مقبول ہوگی ۔
۱۴۔ قلت وسائط اور کثرت تفقہ کے اعتبار سے راویوں کی متعارض روایات میں کثرت تفقہ کو ترجیح ہوگی ۔
۱۵۔ حدودوکفارات میں خبر واحد غیر مقبول ۔
۱۶۔ جس حدیث میں بعض اسلاف پر طعن ہووہ بھی مقبول نہیں ۔
واضح رہے کہ احادیث کو محفوظ کرنا پہلی منزل ہے ،پھر انکو روایت کرنا اور اشاعت دوسرا درجہ ۔ اور آخری منزل ان احادیث سے مسائل اعتقادیہ وعملیہ کا استنباط ہے ۔اس منزل میں آکر غایت احتیاط کی ضرورت پڑتی ہے ۔ امام اعظم نے کتنی روایات محفوظ کی تھیں آپ پڑھ چکے کہ اس وقت کی تمام مرویات آپ کے پیش نظر تھیں ۔پھر ان سب کو روایت نہ کرنے کی وجہ
استنباط واستخراج مسائل میں مشغولی تھی جیساکہ گذرگیا ۔
اب آخری منزل جو خاص احتیاط کی تھی اسکے سبب تمام روایات صحائف میں ثبت نہ ہوسکیں کہ ان کی ضرورت ہی نہیں تھی ۔جو معمول بہا تھیں ان کو املا کرایا اور انہیں سے تدوین فقہ
میں کام لیا ۔
فقہ حنفی میں بظاہر جو تقلیل روایت نظر آتی ہے اس کی ایک وجہ اور بھی ہے ،وہ یہ کہ امام اعظم نے جو مسائل شرعیہ بیان فرمائے انکو لوگ ہرجگہ محض امام اعظم کا قول سمجھتے ہیں حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ۔بلکہ کثیر مقامات پر ایساہے کہ احادیث بصورت مسائل ذکر کی گئی ہیں ۔امام اعظم نے احادیث وآثار کو حسب موقع بصورت افتاء ومسائل نقل فرمایا ہے جس سے بظاہر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ کہنے والے کا خود اپنا قول ہے حالانکہ وہ کسی روایت سے حاصل شدہ حکم ہوتاہے حتی کہ
بعض اوقات بعینہ روایت کے الفاظ کے ساتھ ہوتاہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع