30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امام عامر شعبی :۔ انہوں نے پانچسو صحابہ کرام کا زمانہ پایا ،خود فرماتے تھے کہ بیس سال
ہوئے میرے کان میں کوئی حدیث ایسی نہ پڑی جسکا علم مجھے پہلے سے نہ ہو ۔ امام اعظم نے ان
سے اخذحدیث فرمائی ۔
امام شعبہ :۔ انہیں دوہزار حدیثیں یادتھیں ،سفیان ثوری نے انہیں امیرالمومنین فی الحدیث کہا ،امام شافعی نے فرمایا : شعبہ نہ ہوتے توعراق میں حدیث اتنی عام نہ ہوتی ۔امام شعبہ کو امام اعظم سے قلبی لگائو تھا ،فرماتے تھے ،جس طرح مجھے یہ یقین ہے کہ آفتاب روشن ہے اسی
طرح یقین سے کہتاہوں کہ علم اورابو حنیفہ ہمنشیں ہیں ۔
امام اعمش:۔ مشہور تابعی ہیں شعبہ وسفیان ثوری کے استاذ ہیں ،حضرت انس اورعبداللہ
بن ابی اوفی سے ملاقات ہے ۔ امام اعظم آپ سے حدیث پڑھتے تھے اسی دوران انہوں نے آپ سے مناسک حج لکھوائے ۔واقعہ یوں ہے کہ امام اعمش سے کسی نے کچھ مسائل دریافت کئے ۔انہوں نے امام اعظم سے پوچھا ۔آپ کیاکہتے ہیں ؟ حضرت امام اعظم نے ان سب کے حکم بیان فرمائے ۔امام اعمش نے پوچھا کہاں سے یہ کہتے ہو ۔فرمایا۔آپ ہی کی بیان کردہ احادیث سے اور ان احادیث کو مع سندوں کے بیان کردیا ۔امام اعمش نے فرمایا ۔ بس بس ،میں نے آپ سے جتنی حدیثیں سودن میں بیان کیں آپ نے وہ سب ایک دن میں سناڈالیں ۔میں
نہیں جانتا تھا کہ آپ ان احادیث میں یہ عمل کرتے ہیں ۔
یامعشر الفقہاء انتم الاطباء ونحن الصیادلۃ وانت ایہا الرجل اخذت
بکلاالطرفین۔
اے گروہ فقہاء !تم طبیب ہواور ہم محدثین عطار اورآپ نے دونوں کو حاصل کرلیا ۔
امام حماد :۔ امام اعظم کے عظیم استاذ حدیث وفقہ ہیں اور حضرت انس سے حدیث سنی تھی
بڑے بڑے ائمہ تابعین سے ان کو شرف تلمذ حاصل تھا ۔
سلمہ بن کہیل :۔ تابعی جلیل ہیں ،بہت سے صحابہ کرام سے روایت کی ۔کثیرالروایت اور صحیح
الروایت تھے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع