30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اپنے معاصرین واقران مثلا امام سفیان ثوری ،امام اوزاعی ،امام مالک،اور
امام لیث بن سعد پر آپکو فضیلت حاصل ہے ۔(۱۳)
لہذا آپکی تابعیت کا ثبوت ہر شک وشبہ سے بالاتر ہے ۔ بلکہ آپکی تابعیت کے ساتھ یہ امر بھی متحقق ہے کہ آپ نے صحابہ کرام سے احادیث کاسماع کیا اورروایت کیاہے ۔تویہ وصف بھی بلاشبہ آپکی عظیم خصوصیت ہے ۔بعض محدثین ومورخین نے اس سلسلہ میں اختلاف بھی کیا ہے لیکن منصف مزاج لوگ خاموش نہیں رہے ،لہذا احناف کی طرح شوافع نے بھی اس حقیقت
کو واضح کردیا ہے ۔
علامہ عینی حضرت عبداللہ بن ابی اوفی صحابی رسول کے ترجمہ میں لکھتے ہیں :۔
ھواحد من راٰہ ابوحنیفۃ من الصحابۃ وروی عنہ ولا یلتفت الی قول المنکر المتعصب وکان عمر ابی حنیفۃ حینئذ سبع سنین وھو سن التمییز ہذاعلی الصحیح ان مولد ابی حنیفۃ سنۃ ثمانین وعلی قول من قا ل سنۃ سبعین یکون عمر ہ حینئذ سبع عشرۃ سنۃ ویستبعدجدا ان یکون صحابی مقیما ببلدۃ وفی
اہلہا من لارأہ واصحابہ اخبر بحالہ وہم ثقاۃ فی انفسہم ۔(۱۴)
عبداللہ بن ابی اوفی ان صحابہ سے ہیں جنکی امام ابو حنیفہ نے زیارت کی اور ان سے روایت کی قطع نظر کرتے ہوئے منکر متعصب کے قول سے امام اعظم کی عمر اس وقت سات سال کی تھی کیونکہ صحیح یہ ہے کہ آپ کی ولادت ۸۰ھ میں ہوئی اور بعض اقوال کی بنا پر اس وقت آپکی عمر سترہ سال کی تھی۔ بہر حال سات سال عمر بھی فہم وشعور کاسن ہے اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک صحابی کسی شہر میں رہتے ہوں اور شہر کے رہنے والوں میں ایسا شخص ہو جس نے اس صحابی کو نہ دیکھا ہو۔ اس بحث میں امام اعظم کی تلامذہ کی بات ہی معتبر ہے کیونکہ وہ ان کے احوال سے زیادہ واقف ہیں اور ثقہ بھی ہیں ۔
ملاعلی قاری امام کردری کے حوالہ سے لکھتے ہیں :۔
قال الکردری جماعۃ من المحدثین انکر واملاقاتہ مع الصحابۃ واصحابہ اثبتوہ بالاسانید الصحاح الحسان وہم اعرف باحوالہ منہم والمثبت العدل اولی
من النافی۔( ۱۵)
امام کردری فرماتے ہیں کہ محدثین کی ایک جماعت نے امام اعظم کی صحابہ کرام سے ملاقات کا انکار کیا ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع