30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
موجود تھے ۔جیسے
٭ حضرت واثلہ بن اسقع شام میں ۔وصال ۸۵ھ
٭ حضرت سہل بن سعد مدینہ میں ۔وصال ۸۸ھ
٭ حضرت ابوالطفیل عامر بن واثلہ مکہ میں ۔وصال ۱۱۰ھ
یہ تمام صحابہ کرام میں آخری ہیں جنکا وصال دوسری صدی میں ہوا ۔اور امام اعظم نے
۹۳ھ میں انکو حج بیت اللہ کے موقع پر دیکھا ۔
امام ابو یوسف سے روایت ہے کہ میں نے خود امام اعظم کو فرماتے سنا کہ:۔
میں ۹۳ھ میں اپنے والد کے ساتھ حج کو گیا ،اس وقت میری عمر سولہ سال کی تھی ۔میں نے ایک بوڑھے شخص کودیکھا کہ ان پر لوگوں کا ہجوم تھا ،میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ یہ بوڑھے شخص کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : یہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی صحابی ہیں اور انکا نام عبداللہ بن حارث بن جزہے ،پھر میں نے دریافت کیا کہ ان کے پاس کیا ہے ؟ میرے والد نے کہا: ان کے پاس وہ حدیثیں ہیں جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سنی ہیں ۔میں نے کہا : مجھے بھی انکے پاس لے چلئے تاکہ میں بھی حدیث شریف سن لوں ،چنانچہ وہ مجھ سے آگے بڑھے اور لوگوں کو چیرتے ہوئے چلے یہاں تک کہ میں انکے قریب پہونچ گیا
اور میں نے ان سے سنا کہ آپ کہہ رہے تھے ۔
قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : من ثفقہ فی دین اللہ کفاہ اللہ وھمہ ورزقہ من حیث لایحسبہ۔( ۱۲)
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے دین کی سمجھ حاصل کرلی اسکی فکروں کا علاج اللہ تعالیٰ کرتاہے اوراس کو اس طرح پر روزی دیتاہے کہ کسی کو شان وگمان بھی
نہیں ہوتا۔
علامہ کوثری کی صراحت کے مطابق پہلا حج ۸۷ھ میں سترہ سال کی عمر میں کیا ،اور دوسرا ’۹۶‘ھ میں ۲۶سال کی عمرمیں ۔ اور متعدد صحابہ کرام سے شرف ملاقات حاصل ہوا ۔درمختار میںبیس اور خلاصہ اکمال میں چھبیس صحابہ کرام سے ملاقات ہونا بیان کی گئی ہے ۔
بہر حال اتنی بات متحقق ہے کہ صحابہ کرام سے ملاقات ہوئی اور آپ بلاشبہ تابعی ہیں اوراس شرف میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع