30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چھوڑونگا ،لہذا میں اسی
عہد پر قائم رہا اور تازندگی انکے دامن سے وابستہ رہا ۔
غرضکہ آپ چالیس سال کی عمر میں کوفہ کی جامع مسجد میں اپنے استاذ کی مسند پر متمکن ہوئے اوراپنے تلامذہ کو پیش آمدہ فتاوی وجوابات کا درس دینا شروع کیا ۔آپ نے بڑی سلجھی ہوئی گفتگو اورعقل سلیم کی مددسے اشباہ وامثال پر قیاس کا آغاز کیا اور اس فقہی مسلک کی داغ
بیل ڈالی جس سے آگے چل کر حنفی مذہب کی بنیاد پڑی ۔
آپ نے دراسات علمی کے ذریعہ ان اصحاب کرام کے فتاوی تک رسائی حاصل کی جو اجتہاد واستنباط ،ذہانت وفطانت اور جودت رائے میں اپنی مثال آپ تھے ۔
ایک دن آپ منصور کے دربار میں تشریف لے گئے ،وہاں عیسی بن موسی بھی موجود تھا ۔ اس نے منصور سے کہا : یہ اس عہد کے سب سے بڑے عالم دین ہیں ،منصور نے امام اعظم کو مخاطب کرکے کہا :۔
نعمان ! آپ نے علم کہاں سے سیکھا ،فرمایا: حضرت ابن عمر کے تلامذہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر سے ۔ نیز شاگردان علی سے انہوں نے حضرت علی سے ۔ اسی طرح تلامذہ
ابن مسعود سے ۔بولا : آپ نے بڑا قابل اعتماد علم حاصل کیا ۔(۱۱)
شرف تابعیت :۔امام اعظم قدس سرہ کو متعددصحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے
شرف ملاقات بھی حاصل تھا ،آپکے تمام انصاف پسندتذکرہ نگار اور مناقب نویس اس بات پر متفق ہیں اور یہ وہ خصوصیت ہے جو ائمہ اربعہ میں کسی کو حاصل نہیں ۔بلکہ بعض نے تو صحابہ کرام سے روایت کابھی ذکر کیاہے ۔
علامہ ابن حجر ہیتمی مکی لکھتے ہیں :۔
امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابہ کرام کی ایک جماعت کو پایا ۔آپکی ولادت ۸۰ھ میں ہوئی ، اس وقت کوفہ میں صحابہ کرام کی ایک جماعت تھی ۔حضرت عبداللہ بن
ابی اوفی کا وصال ۸۸ھ کے بعد ہواہے ۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت بصرہ میں موجود تھے اور ۹۵ھ میں وصال فرمایا ۔ آپ نے انکو دیکھا ہے ۔ ان حضرات کے سوا دوسرے بلاد میں دیگر صحابہ کرام بھی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع