30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور کوفے کی وادیوں پر برسا ۔ان آفتاب وماہتاب نے کوفے کے ذرے ذرے کو چمکایا ۔
حضرت عمر نے اس شہر کو راس الاسلام ،راس العرب ،جمجمۃ العرب ، رمح اللہ
اورکنزالایمان کہا ۔
حضر ت سلمان فارسی نے قبۃ الاسلام کا لقب دیا ۔
حضرت علی نے کنزالایمان ،جمجمۃ الاسلام ،رمح اللہ ،سیف اللہ فرمایا۔( ۱۰)
امام اعظم نے امام حماد کی حلقہ تلامذہ میں شرکت اس وقت کی جب آپکی عمر بیس سال سے متجاوز ہوگئی تھی اور آپ اٹھارہ سال تک انکی خدمت میں فقہ حاصل کرتے رہے ،درمیان میں آپ نے دوسرے بلاد کا سفر بھی فرمایا،حج بیت اللہ کیلئے حرم شریف میں بھی حاضری کا موقع ملا ۔اس طرح آپ ہرجگہ علم کی تلاش میں رہے اورتقریباً چارہزار مشائخ سے علم حدیث وفقہ
حاصل کیا اور پھر اپنے استاذ حضرت حماد کی مسند درس پر جلوس فرمایا ۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ امام حماد کا وصال ۱۲۰ھ میں ہوا، لہذا انکے وصال کے وقت امام اعظم کی عمر چالیس سال تھی ،گویا جسم وعقل میں کامل ہونے کے بعد آپ نے چالیس
سال کی عمر میں مسند درس کو رونق بخشی ۔
آپ کو پہلے بھی اس چیز کا خیال آیا تھا کہ میں اپنی درسگاہ علیحدہ قائم کرلوں مگر تکمیل کی
نوبت نہ آئی ۔آپکے شاگرد امام زفر فرماتے ہیں ۔
امام اعظم ابو حنیفہ نے اپنے استاذ حضرت حماد سے وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : میں دس سال آپکی صحبت میں رہا ، پھرمیرا جی حصول اقتدار کیلئے للچایا تو میں نے الگ اپنا حلقہ جمانے کا ارادہ کرلیا ۔ ایک روز میں پچھلے پہر نکلا اورچاہا کہ آج یہ کام کرہی لوں ،مسجد میں قدم رکھا اور شیخ حماد کو دیکھا تو ان سے علیحدگی پسند نہ آئی اور انکے پاس ہی آکر بیٹھ گیا ۔اسی رات حضرت حمادکو اطلاع ملی کہ بصرہ میں ان کاکوئی عزیزفوت ہوگیا ہے ،بڑامال چھوڑا اور حماد کے سوا کوئی دوسرا وارث نہیں ہے ، آپنے اپنی جگہ مجھے بٹھا یا ، جیسے ہی وہ تشریف لے گئے کہ میرے پاس چند ایسے مسائل آئے جو میں نے آج تک ان سے نہ سنے تھے ،میں جواب دیتا جاتا اوراپنے جوابات لکھتا جاتا تھا ۔جب حضرت حماد واپس تشریف لائے تو میں نے وہ مسائل پیش کئے ،یہ تقریباً ساٹھ مسائل تھے ۔چالیس سے تو آپ نے اتفاق کیا لیکن بیس میں میرے خلاف جواب دیئے ۔میں نے اسی دن یہ تہیہ کر لیا کہ تاحین حیات ان کا ساتھ نہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع