30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بیٹھاکرو ۔کیونکہ میں تمہارے چہرے میں علم وفضل کی درخشندگی کے آثار دیکھ رہاہوں۔(۸)
امام اعظم فرماتے ہیں :۔
امام شعبی کی ملاقات اور ان کے اس فرمان نے میرے دل پر اثر کیا اوربازار کاجانا میں نے چھوڑ دیا ۔پہلے علم کلام کی طرف متوجہ ہوا اور اس میں کمال حاصل کرنے کے بعد گمراہ فرقوں مثلا جہمیہ قدریہ سے بحث ومباحثہ کیا اورمناظرہ شروع کیا ۔پھر خیال آیا کے صحابہ کرام سے زیادہ دین کو جاننے والاکون ہوسکتاہے ،اس کے باوجود ان حضرات نے اس طریق کو نہ اپناکر شرعی
اورفقہی مسائل سے زیادہ شغف رکھا ،لہذا مجھے بھی اسی طرف متوجہ ہوناچاہئے۔
کوفہ آپ کے عہد پاک میں فقہائے عراق کا گہوارہ تھا جس طرح اس کے برخلاف بصرہ مختلف فرقوں اور اصول اعتقاد میں بحث ومجادلہ کرنے والوں کا گڑھ تھا ۔کوفہ کا یہ علمی ماحول بذات خود بڑااثر آفریں تھا ۔ خود فرماتے ہیں :میں علم وفقہ کی کان کوفہ میں سکونت پذیر تھا
اوراہل کوفہ کا جلیس وہم نشیں رہا ۔پھر فقہاء کوفہ میں ایک فقیہ کے دامن سے وابستہ ہوگیا ۔(۹)
ان فقیہ سے مراد حضرت حماد بن ابی سلیمان ہیں جواس وقت جامع کوفہ میں مسنددرس و تدریس پر متمکن تھے اوریہ درسگاہ باقاعدہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد
پاک سے چلی آرہی تھی ۔
اس مبارک شہر میں ایک ہزار پچاس صحابہ کرام جن میں ستر اصحاب بدر اورتین سو بیعت رضوان کے شرکاء تھے آکر آباد ہوگئے ۔جس برج میں یہ نجوم ہدایت اکٹھے ہوں اسکی
ضوفشانیاں کہاں تک ہونگی اس کا اندازہ ہرذی فہم کرسکتاہے ۔
اس کا نتیجہ یہ تھاکہ کوفہ کا ہرگھر علم کے انوار سے جگمگا رہاتھا ۔ ہرہرگھر دارالحدیث اور دارالعلوم بن گیا تھا ۔حضرت امام اعظم جس عہد میں پیدا ہوئے اس وقت کوفہ میں حدیث وفقہ کے وہ ائمہ مسند تدریس کی زینت تھے جن میں ہر شخص اپنی اپنی جگہ آفتاب و مہتاب تھا۔ کوفہ کی یہ خصوصیت صحاح ستہ کے مصنفین کے عہد تک بھی باقی تھی ۔یہی وجہ ہے کہ امام بخاری کو اتنی بار
کوفہ جانا پڑا کہ وہ اسے شمار نہیں کرسکے ،اور صحاح ستہ کے اکثر شیوخ کوفہ کے ہیں ۔
اس وقت کوفہ میں مندرجہ ذیل مشاہر ائمہ موجود تھے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع