30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علامہ ابن حجر مکی نے حافظ امام سیوطی کے بعض شاگردوں کے حوالے سے لکھاہے کہ ہمارے
استاد امام سیوطی یقین کے ساتھ کہتے تھے ۔
اس حدیث کے اولین مصداق صرف امام اعظم ابوحنیفہ ہیں ۔کیونکہ امام اعظم کے
زمانے میں اہل فارس سے کوئی بھی آپ کے علم وفضل تک نہ پہونچ سکا۔(۶)
الفضل ماشہدت بہ الاعداء ۔کے بموجب نواب صدیق حسن خاں
بھوپالی کو بھی اس امر کا اعتراف کرناپڑا ۔لکھتے ہیں
ہم امام دراں داخل ست ۔( ۷)
امام اعظم بھی اس حدیث کے مصداق ہیں۔
امام بخاری کی روایت سے یہ بھی ظاہر ہے کہ حضرت سلمان فارسی کیلئے یہ بشارت نہ تھی کہ آیت میں ،لمایلحقوبہم ،کے بارے میں سوال تھا اورجواب میں آئندہ لوگوں کی نشاندھی کی جارہی ہے ،لہذا وہ لوگ غلط فہمی کا شکارہیں جو یہ کہتے ہیں کہ حدیث تو حضرت سلمان فارسی کیلئے تھی اوراحناف نے امام اعظم پر چسپاں کردی ۔قارئین غور کریں کہ یہ دیانت
سے کتنی بعید بات ہے۔
تعلیم کے مراحل :۔آپ نے ابتدائی ضروری تعلیم کے بعد تجارت کا میدان اختیار کرلیا
تھا ۔ آپ ریشم کے کپڑے کی تجارت کرتے تھے ،حفص بن عبدالرحمن بھی آپ کے شریک تجارت تھے۔آپکی تجارت عامیانہ اصول سے بالاترتھی ۔آپ ایک مثالی تاجر کا رول ادافرماتے ،بلکہ یوں کہاجائے کہ تجارت کی شکل میں لوگوں پر جودوکرم کا فیض جاری کرنا آپ کا
مشغلہ تھا ۔
ایک دن تجارت کے سلسلہ میں بازارجارہے تھے ،راستے میں امام شعبی سے ملاقات ہوئی ،یہ وہ عظیم تابعی ہیں جنہوں نے پانچسو صحابہ کرام کا زمانہ پایا ،فرمایا : کہاں جاتے ہو ؟عرض کی بازار ،چونکہ آپ نے امام اعظم کے چہر ہ پر ذہانت وسعادت کے آثار نمایاں دیکھ کر بلایا تھا ، فرمایا: علماء کی مجلس میں نہیں بیٹھتے ہو ،عرض کیا نہیں ۔فرمایا : غفلت نہ کرو تم علماء کی مجلس میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع