30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مدینہ طیبہ سے روانہ ہوکر سیدھے دارالسلطنت دمشق پہونچے ،یہاں بھی کسی سے جان پہچان نہ تھی ،کسی جگہ سازوسامان رکھ کر جامع مسجد پہونچے ،مسجد میں مختلف علمی حلقے قائم تھے ، ایک بڑے حلقہ میں جاکر بیٹھ گئے ۔
فرماتے ہیں : اتنے میں ایک بھاری بھرکم بارعب اور وجیہ شخص مسجد میں داخل ہوا اور ہمارے حلقہ کی طرف اس نے رخ کیا ،جب قریب آیا تولوگوں میں کچھ جنبش ہوئی اور خوش آمدید کہتے ہوئے بیٹھنے کی جگہ دی گئی ۔
بیٹھتے ہی کہنا شروع کیا ،آج امیرالمومنین عبدالملک کے پاس ایک خط آیا ہے اور اس میں ایسے مسئلہ کا ذکر ہے جس کی وجہ سے وہ اتنے مترددہیں شاید خلافت کے بعد اس قسم کی الجھن میں وہ کبھی مبتلا نہ ہوئے ہونگے ۔ مسئلہ ام ولد سے متعلق تھا اورآل زبیر میں اس بنیاد پر کوئی نزاع تھا جس میں فیصلہ ہونا تھا ۔
عبدالملک جسکی زندگی کاکافی حصہ طلب علم میں گزراتھا ،اس قسم کے مسائل میں اپنی معلومات سے کافی مددلیاکرتاتھا ،مگر اس مسئلہ میں اسے پوری بات یاد نہیں رہی تھی کچھ یادتھی اورکچھ بھول گیا تھا۔ چاہتاتھا کہ کسی کے پاس اس مسئلہ کا صحیح علم ہو تواس سے استفادہ کیاجائے اور اس چیز نے اسکو سخت دماغی تشویش میں مبتلا کرکھا تھا ۔اس کے دربار میں اہل علم کا جوگروہ تھا کوئی اسکی تشفی نہ کرسکاتھا ۔مسجد میں یہ صاحب جوآئے تھے عبدالملک کے معتمد خاص قبیصہ بن ذویب تھے ۔
یہاں آنے کا مقصد خاص یہ ہی تھا کہ شاید خلیفہ کی اس حدیث کا کسی کے پاس پتہ
چلے ۔ا مام زہری نے سننے کے بعد کہا: اس حدیث کے متعلق میرے پاس کافی معلومات ہیں ۔ قبیصہ یہ سنکر بہت خوش ہوئے اور اسی وقت زہری کو حلقہ سے اٹھاکرساتھ لئے ہوئے شاہی دربار میں پہونچے ،خلیفہ کوبشارت سنائی کہ جس چیز کی آپ کو تلاش تھی وہ مل گئی ہے ۔ پھر زہری کو پیش کرتے ہوئے کہا: ان سے پوچھئے ،حدیث اوراسکی متعلقہ معلومات آپ کے سامنے بیان کرینگے ۔عبدالملک نے وہ حدیث سعید بن مسیب سے اپنے دورطالب علمی میں سنی تھی ۔امام زہری نے فرمایا: میں بھی اس حدیث کو ان ہی سے روایت کرتاہوں ۔پھرپوری حدیث اوراسکی تفصیلات کو آپ نے عبدالملک کے سامنے بیان کردیا ۔خلیفہ کو اپنی تمام بھولی ہوئی باتیں یادآتی چلی گئیں ۔(۱۱۲)
امام زہری کو اس واقعہ سے خلیفہ کے دربار میں نہایت عزت اورقدر ومنزلت حاصل ہوئی ،آپ نے بنوامیہ کے چھ خلفاء کا زمانہ پایا اور ہرایک کے زمانہ میں آپ معززرہے ،خلیفہ راشد حضرت عمربن عبدالعزیز رضی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع