30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حکم کی تعمیل میں سب سے پہلے حضرت ابن شہاب زہری نے احادیث سے مرتب کرکے حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس بھیجیں اور آپ نے انکی نقلیں فوراً ریاست اسلامی کے مختلف علاقوں میں روانہ فرمادیں ۔ حضرت ابن شہاب زہری نے خود وضاحت فرمائی ہے :۔
امرنا عمربن عبدالعزیز بجمع السنن فکتبناہا دفتراً دفترا فبعث الی کل ارض لہ علیہا سلطان دفتراً۔
’’ حضرت عمربن عبدالعزیز نے ہمیں احادیث جمع کرنے کا حکم دیا ۔ہم نے احادیث طیبہ کو کئی دفاترمیں مرتب کردیا اور حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ہراس علاقے کی طرف ایک دفتر روانہ کردیا جو انکی سلطنت کا حصہ تھا ۔‘‘
حضرت عمر بن عبدالعزیز نے احادیث طیبہ کی صرف تدوین کاہی حکم نہیں دیاتھا بلکہ ساتھ ہی انکی نشرواشاعت کا بھی حکم دیا تھا اور فرمایاتھا کہ احادیث کو پھیلائو کیونکہ یہ علم ہے اور علم جب راز بن جائے تو ختم ہوجاتا ہے ۔
گزشتہ بحث سے ہم اس نتیجہ پر پہونچتے ہیں کہ احادیث طیبہ کی حفاظت کیلئے کتابت کے ذریعے کو ابتداء ہی سے استعمال کیا جاتارہا ۔احادیث طیبہ کو سینوں میں محفوظ رکھنے ،اپنی زندگیوں کو انہی کی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالنے اور احادیث کو تحریر ی شکل میں محفوظ رکھنے کی انفرادی کوششیں اتنی عمدہ تھیں کہ انکی موجودگی میں سرکاری سطح پر احادیث کی باقاعدہ تدوین کی ضرو ر ت محسوس نہیں کی گئی ۔لیکن پہلی صدی ہجری کے اختتام پر حالات نے خلیفۂ وقت حضرت عمر بن عبدالعزیز کو سرکاری سطح پر تدوین حدیث کی طرف راغب کیا اور انکے حکم سے سرکاری سطح پر تدوین حدیث کی ابتداہوئی ۔اسکے بعد ہرزمانے کے علماء نے احادیث طیبہ کی خدمت میں حصہ لیا ۔
امت مسلمہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس نے اپنے دین کی حفاظت کیلئے زمانے کے بدلتے ہوئے حالات پر ہمیشہ کڑی نظر رکھی اور جب بھی قرآن و حدیث کی حفاظت کیلئے نئے اسلوب اپنانے کی ضرورت محسوس ہوئی ، انہوں نے وقت کے تقاضوں پر لبیک کہنے میں ذراسی بھی سستی نہیں کی ۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے سے پہلے سرکاری سطح پر احادیث کے مدون نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اس سے پہلے ملت کے اصحاب اقتدار کو اسکااحساس نہ تھا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع