30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پاس نہیں تھیں وہ یہاں بھی نہ ملیں اور نہ الجامعۃ القادریہ میں ۔ اب میرے سامنے دوچیزیں تھیں ۔ پہلے سیدنا اعلیٰ حضرت قدس سرہ کی تصانیف حاصل کرنا ۔ پھر تخریج کیلئے متعلقہ کتب کا حصول۔
چنانچہ تصانیف رضویہ تلاش کرکے جمع کرتا جاتا اور احادیث نقل کرتا ، ساتھ ہی موجودہ کتابوں سے حوالہ بھی لکھتا جاتا ۔ اعلیٰ حضرت محدث بریلوی کی اب تک تقریباً ساڑھے تین سوکتابیں مجھے ملی تھیں، ان میں سے تقریباً تین سو کتابیں ایسی ہونگی جن میں احادیث کا ذخیرہ مو جود تھا۔ان سب کو جمع کرلینے کے بعد نقل کا کام تو پورا ہوتا نظر آرہا تھا لیکن حوالوں کی کتابیں کہاں ملیں ، کیسے حاصل ہوں ، پروگرام یہ طے پایاکہ لائبریریوں میں جاکر حوالے نقل کئے جائیں ۔
اس سلسلہ میں رام پورا ، دہلی ، کلکۃ ، پٹنہ اور حیدرآباد کا سفر کیا لیکن حاصل وصول کچھ نہ نکلا ، مثلاخدا بخش لائبریری پٹنہ میں ایک ہفتہ حاضری کے باوجود کل سات آٹھ حدیثوں کے حوالے مل سکے ۔ وقت کی پابندی زیادہ کام سے مانع رہی ۔
ان تمام اسفار کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ حوالوں کاکام اسی وقت مکمل ہوسکتاہے جبکہ یہ کتابیں یہاں مدرسہ میں موجود ہوں ۔
سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے جن کتابوں کا حوالہ دیا انکی تعداد چارسو سے متجاوز ہے جیسا کہ آخر میں دی گئی فہرست سے ظاہرہے ،اور وہ کتابیں بھی کوئی معمولی نہیں بلکہ پندرہ، بیس اور پچیس جلدوں تک بھی انکی تعداد پہونچتی ہے ، لہذا ان سب کو جمع کرنا نہایت مشکل کام ہے ، کیونکہ مذکورہ بالا مقامات کی تمام لائبریریوں میں بھی وہ کتابیں سب کیا نصف بھی موجود نہیں ، پھر جبکہ وہ انٹر نیشنل لائبریاں جمع نہیں کر سکیں تو ہماری کیا پونجی۔ حالات اس موڑ پر آکر مایوس کن تھے ، چونکہ میں نے یہ التزام کیا تھا کہ ہر حدیث کا حوالہ جلد وصفحہ کی قید سے ضرور لکھو ںگا ۔جہاں عربی متن حدیث نہیں ہے وہاں متن حدیث اصل کتابوں سے ضرور لکھا جائے گا ۔
احباب سے تذکرہ ہوتا تو اکثر حضرات یہ ہی فرماتے کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے جن کتابوں سے حوالے نقل کئے تھے وہ کتابیں تو ہو ںگی ،ان سے نقل کر لیجئے ، میں اسکے جواب میں کیا کہتا بس یہ ہی کہ جب اعلیٰ حضرت کی خود اپنی تصانیف محفوظ نہیں جنکے لئے آج ایک علمی دنیا سر گرداں ہے تو پھر اسکے علاوہ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ اسکے بعد سوائے افسوس کے کوئی جواب نہیں ملتا تھا۔
اس ماحول میں بھی اللہ عزوجل کے فضل وکرم پر ہی بھروسہ رہا اور پھر ایک ایک سیٹ کرکے حاصل کیاجاتا رہا ۔ نبیرئہ اعلیٰ حضرت مولانا منان رضا خاں صاحب منانی میاں ناظم اعلیٰ جامعہ نوریہ کی معاونت کے ساتھ احباب کی توجہ اس طرف مبذول کی جاتی اور وہ اس کام کی اہمیت وافادیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے متوجہ ہوتے ، رفتہ رفتہ مدرسہ کے لئے اور اس کتاب کی تخریج وتحقیق کے لئے قدر معتد بہ کتابوں کا ذخیرہ جمع ہوگیا ،لیکن یہ ایک دوسال میں نہیں بلکہ مسلسل چھ سات سال کی کاوش کے بعد ، یہ ہی وجہ ہے کہ جو کام دوتین سال کی مدت میں ہوسکتا تھا آج تقریباً نوسال ہونے کو آئے جب کہیں جا کر یہ مجموعہ ہم اپنے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع