30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسکے علاوہ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کبھی صوبوں کے حکام وقضاۃ اور عساکر اسلامیہ کے قائدین کو خط لکھتے تو انہیں کتاب اللہ اور سنت نبوی پر کار بند رہنے کی سخت تاکید فرماتے ۔آپ کا ایک تاریخی خط ہے جو آپ نے حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ارسال کیاتھا اس میں قاضی کے فرائض اور مجلس قضاکے آداب کو اس حسن وخوبی اور تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ اگر اسے اسلام کا بدترین دشمن بھی پڑھے تو جھوم جائے ۔ دیگر امور کے علاوہ
آپ نے انہیں یہ بھی تحریر فرمایا ۔
ثم الفہم الفہم فیما ادلی الیک مما ورد علیک مما لیس فی قرآن ولا سنۃ
ثم قایس الامور عندذلک ۔
ان واقعات کا جن کے لئے تمھیں کوئی حکم قرآن وسنت میں نہ ملے فیصلہ کرنے کیلئے
عقل اور سمجھ سے کام لو اور ایک چیز کو دوسری پر قیاس کیا کرو ۔
ٍآپ کا ایک مکتوب جو قاضی شریح کوروانہ کیاگیا اس میں آپ ان کیلئے ایک منہاج
مقرر کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔
اذا اتاک امر فاقض بما فی کتاب اللہ ، فان اتاک بما لیس فی کتاب اللہ
فاقض بما سن فیہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم؍ ۔
جب تمہارے پاس کوئی مقدمہ آئے تو اس کا فیصلہ کتاب اللہ کے حکم کے مطابق کرو اور اگر کوئی ایسا واقعہ پیش ہو جس کا حکم قرآن میں نہ ہوتو پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی
سنت کے مطابق فیصلہ کرو ۔
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے عہد خلافت میں جب حج کرنے کیلئے گئے تو مملکت اسلامیہ کے تمام والیوں کو حکم بھیجا کہ وہ بھی حج کے موقع پر حاضر ہوں ،جب وہ سب جمع
ہوگئے تو اس وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک تقریر فرمائی ۔
قال ایہا الناس ! انی ما ارسل الیکم عما لالیضربو ابشارکم ولا لیأخذ وا اموالکم وانما ارسلہم الیکم یعلموکم دینکم وسنۃ نبیکم ، فمن فعل بہ شیٔ سوی
ذلک فلیرفعہ الی ،فوالذی نفس عمر بیدہ لاقصنہ منہ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع