30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایسانہیں کہ جواحادیث میرے نزدیک صحیح ہیں وہ سب میں نے اپنی کتاب میں بیان ہی کردی ہیں ، البتہ اس کتاب میں انہیں احادیث کو بیان کیا ہے جن پرائمہ حدیث کا اجماع
ہے۔
امام ابن صلاح شہرزوری فرماتے ہیں :۔
غالبا انکی مراد یہ ہے کہ میرے نزدیک جن احادیث کی صحت پراجماع ہے وہ میں نے
اپنی کتاب میں بیان کردی ہیں ۔
نیزامام مسلم فرماتے ہیں۔
میں نے اپنی کتاب میں جوروایتیں کی ہیں ان کو میں صحاح کہتا ہوں ۔ مگر میں نے یہ
کبھی نہیں کہا کہ جوروایت میں نے نہیں لی ہے وہ ضعیف ہے ۔(۳۵)
یہ ہی حال صحاح کی دوسری کتابوں کاہے ،کوئی آج تک یہ دعوی نہ کرسکا کہ فلاں کتاب میں تمام صحیح احادیث جمع کردی گئی ہیں اور صرف اتنی صحیح ہیں باقی سب غلط وموضوع اور بے بنیاد
وباطل محض ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۳۲۔ مقدمہ ابن الصلاح، ۱۰
۳۳۔ تاریخ بغداد للخطیب، ۲/۸
۳۴۔ مقدمہ ابن الصلاح، ۱۰
۳۵۔ تدریب الراوی، ۲ /۱۹۶
ہاں یہ سوال واقعی اہم ہے کہ آخر احادیث وضع کیوں کی گئیں ۔دراصل بات یہ ہے کہ حدیث وضع کرنے کا طریقہ یوں نکالاگیا کہ اہل اسلام کے نزدیک حدیث کو حجت تسلیم کیاجاتاتھااور قرآن کریم سے اسکی حجیت کی سند مل چکی تھی ،لہذا حضور کی طرف غلط بات منسوب کرکے لوگ کوئی نہ کوئی فائدہ اٹھاناچاہتے تھے،اگر آج کے منکرین حدیث کی طرح انکی نظر میں بھی حدیث کی کوئی حیثیت نہ ہوتی توکسی کوکیاپڑی تھی کہ وضع احادیث کی زحمت اٹھانا اورگناہ
بے لذت میں مبتلاہونا ۔
دنیاکی جعل سازی اورفریب کاری میں بھی اس چیز کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے ۔ مثلا ہندوستان میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع