30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ خاص صورت حال تھی جسکو بعض محققین یہ سمجھ بیٹھے کہ جعلی احادیث کا شیوع ہی
کتابت کی ممانعت کا سبب تھا ،جعل سازی کاتو اس دور خیروصلاح میں دروازہ ہی نہ کھلاتھا۔
شبہ ۴۔ امام بخاری نے ۶؍ لاکھ حدیثیوں میں سے صرف نوہزار کو صحیح احادیث کی
حیثیت سے منتخب کیا۔
جواب ۔ کفر ٹوٹا خداخداکرکے ،بالفرض چھ لاکھ میں سے صرف نوہزار ہی صحیح تسلیم کی جائیں تو اس سے یہ کب لازم آیا کہ سارا ذخیرۂ حدیث غیرمعتبر اورموضوع یامشتبہ ہے اورقرآن
کے علاوہ کسی دوسری چیز پر اعتماد ہی نہ رہا۔
پہلے اسلامی قوانین میں جعلی حدیثوں کے ایک جم غفیر کے قائل تھے اوراب صرف امام بخاری سے منقول ۹؍ ہزار احادیث کو صحیح مان رہے ہیں، اگر امام بخاری کی صحیح بخاری جب اس
حیثیت کی حامل ہے توانکا یہ فرمان تسلیم کرنابھی ناگزیرہے فرماتے ہیں ۔
ماادخلت فی کتاب الجامع الاماصح ، وترکت من الصحاح لملال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۳۱۔ تدریب المسادی، ۱۵۱ السنۃ قبل الندوین، ۳۱۰
الطول۔ (۳۲)
میں نے اپنی کتاب میں کوئی ایسی حدیث داخل نہیںکی جو صحیح نہ ہو ، مگربہت سی حدیثیں
چھوڑدی ہیں تاکہ کتاب طویل نہ ہوجائے ۔
نیزفرماتے ہیں ۔
میں نے جوحدیثیں چھوڑدی ہیں وہ میری منتخب کردہ حدیثوں سے زیادہ ہیں اوریہ کہ
مجھے ایک لاکھ صحیح احادیث یادہیں۔( ۳۳)
اب حدیث کی دوسری عظیم کتاب کاحال سنئے ،امام مسلم فرماتے ہیں :
لیس کل شیٔ عندی صحیح وضعتہ ھھنا یعنی فی کتابہ الصحیح ،انما
وضعت ھھنامااجمعوا علیہ۔(۳۴)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع