30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گڑہت ہے ۔
دورفاروقی اسلام کے عروج وارتقاء کا وہ زرین عہد ہے جس میں مسلمانوں نے ہر اعتبار سے شاندار کامیابی حاصل کی ،حضورکے زمانہ اقدس میں قرآن کریم کی اشاعت حجاز کے ایک خاص حصہ تک ہی رہی ،قرآن عظیم کا کوئی یکجا نسخہ تیار نہ ہوا تھا کہ حضور کا وصال ہوگیا ۔ دورصدیقی آیا اوراس فتنہ ارتدادومنکر ین زکوۃ کی ریشہ دوانیوں نے قرآن کی باقاعدہ نشر واشاعت کاموقع ہی نہ دیا ۔ البتہ اتنا ضرور ہواکہ جنگ یمامہ میں کثیر تعداد میں قراء قرآن کی شہادت سے متاثر ہوکر صحابہ کرام کے مشورہ سے قرآن کریم یکجا ہوا اور یہ ذمہ داری حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سونپی گئی تھی ۔ آپکے دور میں داخلی نظام کی اصلاح پرہی زیادہ زور رہا ۔
ہاں جب دور فاروقی آیا تواس سے پہلے ہی اشاعت اسلام اور قرآن کریم کی تعلیمات کو عام کرنے کی راہیں ہموار ہوچکی تھیں ، اب آپکے سامنے مفتوحہ علاقوں میں قرآن کی تعلیم کوعام کرنے کامسئلہ تھا ،آپ نے مجلس شوری منعقد کرکے قرآنی تعلیمات کے عام کرنے کے ساتھ ساتھ احادیث نبویہ کی نشرواشاعت کیلئے خاص طور پرمشورہ کیا ،سب کی رائے تھی کہ
۳۰ ۔ الکامل بن عدی، عن بریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، ۴/۵۴
احادیث کو قلمبند کرکے سلطنت اسلامیہ میں اسکی بھی اشاعت ہو ،مگر آپ ایک ماہ تک اسی پس
وپیش میں رہے ،استخارہ کیا اورپھر ایک دن آپ نے مجمع عام میں فرمایا۔
سنو! میں حضور کی سنتیں لکھوانے کا ارادہ رکھتاتھا مگر مجھے اب یہ باورہوگیا ہے کہ تم سے پہلے ایک قوم ایسی بھی گذری ہے جس نے دوسری کتابیں لکھیں اورکتاب اللہ کوچھوڑ بیٹھی ،
لہذامیں ہرگز قرآن کے ساتھ دوسری چیز شامل نہیں کرو ںگا۔(۳۱)
اگرقرآن کریم کے علم سے پہلے لوگوں کو روشناس نہ کرایاجاتا تو خطرہ تھا کہ قرآن کے ساتھ دوسری چیز خلط ملط کرکے بعض لوگ امتیاز نہ کرپاتے ، یہ خدشہ خاص طور پربدوی قبائل سے تھا ۔لہذا کتابت حدیث کوعمومی انداز میں پیش کرنے کی ممانعت ہوئی ایسا نہیں کہ خاص لوگوں کوبھی خاص مواقع پر منع کیاگیا تھا کہ واقعہ اس کے خلاف ہے ،آئندہ صفحات میں ناظرین ملاحظہ کرینگے کہ کتنے صحابہ کرام تھے جنہوں نے احادیث لکھیں بلکہ خود فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ
عنہ نے لکھوائیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع