30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وحضر میں ساتھ رہے بعض صحابہ آپکو اہلبیت نبوت سے سمجھتے تھے ،صاحب النعل والوسادۃ مشہور تھے ،پھربھی آپکی مرویات ایک
ہزار کی تعداد کو نہ پہونچیں ،یہ اسی غایت احتیاط کانتیجہ تھا۔
ہاں ایسا ممکن کہ کوئی سر پھرامنکر رسالت صرف بدنام کرنے کی غرض سے ایسا کرگذرے اور حضورکی جانب آپکی حیات مقدسہ میں غلط بات منسوب کردے اور حضور کواطلاع نہ دی گئی ہوتو پھراسکی ذمہ داری نہ حضور پر ہے اور نہ صحابہ کرام پر ۔لیکن یہ ہمت کرنا
بھی کوئی معمولی کام نہیں تھا ۔اس طرح کا بس ایک آدھ واقعہ بیان کیاجاتاہے کہ:۔
زمانہ جاہلیت میں ایک شخص مدینہ کے گردونواح میں بسنے والے ایک قبیلہ بنولیث کی
لڑکی سے شادی کرناچاہتاتھا ،انہوں نے انکارکردیا ،ہجرت کے اوائل میں وہ شخص جبہ ودستار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۹۔
سے آراستہ اس قبیلہ میں پہونچا اورکہا : مجھے حضور نے اس قبیلہ کاحاکم بنایاہے ،قبیلہ والوں نے اسکو اپنے یہاں قیام کی اجازت تودیدی لیکن پوشیدہ طورپر ایک شخص کو بارگاہ رسالت میں بھیج کرتحقیق کرائی ،حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ دشمن خداہے ،اس نے جھوٹ بکا ،لہذااسکو قتل کردینا اورمردہ ملے تواسکی لاش کوجلادینا ۔ یہ صاحب واپس ہوئے تودیکھا کہ سانپ کے کاٹنے سے وہ شخص مرچکا ہے لہذااسکی لاش کوجلادیاگیا ،حضر ت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ
عنہ فرماتے ہیں ، اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا۔من کذب الخ۔(۳۰)
لیکن اس واقعہ کو وضع حدیث سے جیسا کچھ تعلق ہے وہ اہل علم سے پوشیدہ نہیں ۔
شبہ ۳۔ بعد میں جھوٹی حدیثیں اتنی بڑھ گئیں کہ حضرت عمرنے اپنی خلافت میں
روایت حدیث پرپابندی لگادی ،بلکہ اس سے منع تک کردیا۔
جواب ۔ امیرالمؤمنین حضرت عمرفاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورخلافت میں توجھوٹی حدیثیں نہیں گڑھی گئیں البتہ انکے عہد پاک کی طرف یہ نسبت ضرورکھلاجھوٹ اورمن
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع