30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علم الصرف کی بنیادی معلومات
علم صرف کی تعریف:
ایسے اصول وقوانین جن کے ذریعہ سے ایک کلمہ سے دوسرا کلمہ بنانے اوراس میں تبدیلی کرنے کا طریقہ معلوم ہو۔
علم صرف کاموضوع:
علم صرف كا موضوع صیغہ کے اعتبار سے" کلمہ" ہے۔
علم صرف کی غرض:
صيغوں کے بنانے اور ان میں تبدیلی کرنے میں ذہن کو غلطی سے بچانا.
علم صرف کی وجہ تسمیہ:
علم صرف کو صرف کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا لغوی معنی "پھیرنا" ہے ،اور اس علم میں چونکہ ایک کلمہ کو پھیر کر اس کی مختلف صورتیں بنانے کے طریقے بیان کیے جاتے ہیں اس لیے اس علم کو "علم صرف "یا "علم تصریف" کہتے ہیں۔
علم صرف کا ثمرہ:
عربی لغت کو سمجھنے کی ایسی صلاحیت کا پیدا ہونا جو قرآن مجید واحادیث کریمہ کوسمجھنے میں معاون و مددگار ہوتی ہے۔
علم صرف کی فضیلت:
چونکہ علم صرف کے ذریعہ قرآن مجیداور احادیث کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے اس وجہ سے اس کو بھی شرف وفضیلت حاصل ہے۔
مرتبۂ علم صرف: (یعنی اس علم کو کس علم سے پہلے اور کس علم کے بعدحاصل کرناچاہیے)
علم صرف عموما علم نحو سے پہلے پڑھایا جاتا ہے چونکہ علم الصرف میں کلمہ کی ساخت اور صیغہ بنانا اور ان میں تبدیلی کا طریقہ،اور ساخت میں تبدیلی کے سبب معنی میں تبدیلی کو بیان کیاجاتاہے اورعلم النحو میں حاصل شدہ کلمہ پر درست اعراب لگانا سکھایاجاتاہے۔اور ظاہر ہے کہ اعراب سے پہلے کلمہ کا ہونا ضروری ہے۔جیساکہ مشہور ہے : الصرفُ أُم العلوم والنحوُ أبوها .
ما به الاستمداد: (وہ چیزیں جن سے علم الصرف کے قوانین بنائے اور ثابت کیے جاتے ہیں)
علم الصرف کے قوانین بنانے اور ان کو ثابت کرنے کے لیےقرآن وحدیث اور کلام عرب کی شاعری اور نثر سے مددلی جاتی ہے۔
علم صرف کا واضع:
اہل علم حضرات اس علم کا واضع ’’معاذبن مسلم الھرّاء(متوفّی ۱۹۰ﻫ) ‘‘ کو قرار دیتے ہیں۔جو امام ابو الحسن علی بن حمزہ الکسائی کا چچا اور استاد بھی تھااور تقریبا ڈیڑھ سو سال عمر پائی۔ (" المزهر في علوم اللغة وأنواعها " للسيوطي ) لیکن بات یہ سمجھ آتی ہے کہ دورِاسلاف میں ہر نحوی بہترین صرفی بھی ہوتاتھا۔الھراء کو اس کا واضع اس وجہ سے کہا گیا کہ اس نے اس علم کو باقاعدہ مرتّب و مدوّن کرکے پیش کیا۔
علم صرف کا دائرہ:
علمائے علم الصرف ہر اس کلمہ پر بحث اور کلام کرتے ہیں جو تصریف اور اشتقاق کو قبول کرتا ہے، اور جو کلمہ تصریف اور اشتقاق کو قبول نہیں کرتا جیسے:افعال غیرمتصرفہ(جامدہ)، تمام حروف اور اسماء مبنية , اعجمية اور أصوات وغيره کو دائرۂ علم الصرف سےباہر رکھتےہیں ۔یہی وجہ ہے کہ شش اقسام اور ہفت اقسام میں صرف" اسماءمعربہ " اور "ا فعال متصرفہ" کی امثلہ ذکرکی جاتی ہیں کوئی بھی مثال حرف کی نہیں ملتی۔ (الممتع الكبير في التصريف لإبن عصفور, ص:35, مكتبة لبنان)
علم الصرف کی چند مشہوراصطلاحات اور ان کے معانی:
١.صيغه ((Grammatical form : صیغہ کے لغوی معنی " نمونہ "یا "ساخت " کے ہیں اور اصطلاح میں اس سے مراد کسی کلمہ کےحروف و حرکات و سکنات کا مخصوص ترتیب کے ساتھ ایک خاص ہیئت میں ہونا ہے۔ ( الصيغة هي الهيئة الحاصلة باعتبار ترتيب الحروف وحركاتها وسكناتها )
٢.واحد ((Singular : ایسا کلمہ جو ایک فرد پر دلالت کرے۔
۳ ۔ تثنيه (Dual) : ایسا کلمہ جو ،دوافراد پر دلالت کرے۔
٤.جمع ((Plural : ایسا کلمہ جوتین یا تین سے زیادہ افراد پر دلالت کرے۔
٥.باب ((Section, Categoriesعلمائے صرف نےافعال کی ان کے حروف کی حرکات وسکنات کے اعتبار سے جوتقسیم جاری کی ہے ان تقسیما ت کو "باب"سے تعبیرکرتے ہیں۔اس کو یوں بھی کہہ سکتےہیں:’’علم صرف میں مخصوص ثلاثی مجرد کے ماضی اور مضارع دونوں کے پہلے صیغے کو ملا کر اسے "باب" کا نام دیتے ہیں، اور ثلاثی مجرد کے علاوہ مصادر کے مخصوص اوزان کو باب کہتے ہیں۔
٦.فعل لازم ((Intransitive Verb : وہ فعل جسےسمجھنے کے لیے فاعل کے علاوہ مفعول بہ کی ضرورت نہ ہو۔
٧.فعل متعدّي ((Transitive Verb : وہ فعل جسےسمجھنے کے لیے فاعل کے علاوہ مفعول بہ کی ضرورت بھی ہو۔
٨.فعل معروف ((Active Verb : وہ فعل جس کی نسبت فاعل کی طرف کی گئی ہو۔
٩.فعل مجهول ((Passive Verb : وہ فعل جس کی نسبت مفعول کی طرف کی گئی ہو۔
١٠.اسم ((Noun : وہ کلمہ جودوسرے کلمہ سے ملے بغیر اپنے معنی پردلالت کرے اور اس کا معنی کسی زمانے (ماضی، حال یا مستقبل ) سے ملا ہوانہ ہو۔
١١.فعل ((Verb : وہ کلمہ جودوسرے کلمہ سے ملے بغیر اپنے معنی پردلالت کرے اور اس کا معنی کسی زمانے (ماضی، حال یا مستقبل ) سے ملا ہوا ہو۔
١٢.حرف ((Particle, Preposition : وہ کلمہ جودوسرے کلمہ(اسم یا فعل) سے ملے بغیر اپنے معنی پر دلالت نہ کرے ۔
١٣.اسم جامد ((Static Noun : وہ اسم جونہ خود کسی سے بناہواور نہ اس سے دیگر کلمات بنتے ہیں۔
١٤.اسم مشتق ((Derived Form : وہ اسم جومصدر سے بنایا جائے ۔
علم الصرف کی مشہور کتب:
علم الصرف پر مشتمل کچھ مشہورومفیدکتب مندرجہ ذیل ہیں۔
١. المقصود في التصريف (امام اعظم ابوحنیفہ عَلَيْهِ الرَّحْمَةُ کی طرف منسوب کتاب)
٢. الشافية ( جمال الدين ابوعمرو عثمان بن عمر ابن حاجب، صاحب الكافية )
٣. المفتاح في الصرف ( أبو بكر عبد القاهر بن عبد الرحمن بن محمد الفارسي الجرجانی )
٤. المزهر في علوم اللغة وأنواعها ( جلال الدين عبد الرحمن بن أبو بكر السيوطي )
5. اللباب في علل البناء والإعراب ( أبو البقاء محب الدين عبد الله بن الحسين بن عبد الله العكبري )
6. إيجاز التعريف في علم التَّصريف ( محمد بن عبد الله ابن مالك الطائي الجياني )
7. الممتع الكبير في التصريف ( أبو الحسن علي بن مؤمن بن محمد الإشبيلي )
8. i . تعليلات خادمية , .iiتيسير ابواب الصرف (علامہ حافظ خادم حسین مدّ ظلّه العالي )
9. علم الصيغة (مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ رحمۃ ا للہ القوي )
10. مراح الأرواح ( الشيخ أحمد بن علي بن مسعود )
11. مفتاح العلوم ( القسم الأول ) ( أبو يعقوب يوسف بن أبو بكر محمد بن علي السكاكي )
١٢. صرف بہائی (بہاؤ الدین عاملی)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع