30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : یعنی جماعت کے لیے گھبرا کر دوڑتے نہ آؤ کہ اِس میں گر جانے چوٹ کھانے کا اندیشہ ہے، اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ جماعت میں شامل ہونے کے لیے سکون سے آنا مستحب ہے ، دوڑنا مستحب کے خلاف ہے حرام نہیں ، دوسرے یہ کہ آخری جزو مل جانے سے جماعت مل جاتی ہے لہٰذا جو نَمازِ جمعہ کی اَلتَّحِیَّات میں مل جائے وہ جمعہ پڑھے، تیسرے یہ کہ جس رکعت میں مُقتَدِی ملے وہ تعداد کے لحاظ سے رکعتِ اول ہے اورقرا ء ت کے لحاظ سے رکعت آخری۔(مفتی صاحب مزید لکھتے ہیں : )جب سے وہ نَماز کے اِرادے سے گھر سے چلا اسے نَماز کا ثواب مل رہا ہے پھرتیزی کیوں کرتا ہے! کیوں گرتا اور چوٹ کھاتا ہے ! اِطمینان سے آئے جو پائے اس کو اَدا کرے ۔ خیال رہے کہ اگر تکبیر ِاولیٰ یا رُکوع پانے کے لیے قدرے تیزی سے آئے مگر نہ اتنی کہ چوٹ لگنے گرنے کا اندیشہ ہو تو مضایقہ نہیں ۔ (مرأۃ المناجیح ، ج۱، ص۴۲۵ملتقطاً)
اعضائے وُضو کا پانی مسجد میں ٹپکاناناجائز ہے
بعض اسلامی بھائی وُضو کرنے کے بعدجماعت پانے کے لئے جلد بازی میں پانی ٹپکاتے ہوئے مسجد میں پہنچ جاتے ہیں ، یاد رکھئے اَعضائے وُضو سے مسجد میں پانی ٹپکاناناجائز ہے ، چنانچہ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : اکثر دیکھا گیا ہے کہ فَصِیل (یعنی حوض کی دیوار)پر وُضو کیا اور ویسے ہی ہاتھ جھٹکتے فرشِ مسجد میں پہنچ گئے ، یہ ناجائز ہے ۔(ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص۲۳۶)
اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مزید فرماتے ہیں : میں نے ایک با ربغیر بر تن کے خاص مسجد میں و ضو جائز طور پرکیا ، وہ یوں کہ پانی مُوسلا دھار پڑرہا تھا اور میں مُعْتَکِف، جاڑوں کے دن تھے ، میں نے تَوشک (یعنی روئی دار بستر) بچھا کر اور اِس پر لِحاف ڈال کر وُضو کرلیا۔ اس صورت میں ایک چھینٹ بھی مسجد کے فرش پر نہ پڑی ، پانی جتنا وُضو کا تھا تَوشک و لِحاف نے جَذب کرلیا۔
(ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص۲۳۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۴) امام کے پیچھے نَماز پڑھتے ہوئے جلد بازی
بعض اسلامی بھائی باجماعت نَماز پڑھتے ہوئے جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور رُکوع وسُجود وغیرہ میں امام سے آگے نکلنے کی کوشِش کرتے ہیں ، یاد رکھئے : امام سے پہلے مُقتَدِی کا رُکوع وسُجودوغیرہ میں چلاجانا یا اس سے پہلے سر اُٹھانامکروہ تحریمی [1]؎ہے ۔ (ردالمحتار ج ۲ص۵۱۳)
پیشانی کے بال شیطان کے ہاتھ میں
حضرتِ سیِّدُنا امام مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کرتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ سُرورِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’جو اِمام سے پہلے سر اٹھاتا اورجُھکاتاہے اُس کی پیشانی کے بال شیطان کے ہاتھ میں ہیں ۔‘‘(موطا امام مالک ج۱ص۲۰۱حدیث ۲۱۲)
حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ اللّٰہکے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں : ’’کیا جوشخص امام سے پہلے سَر اٹھاتا ہے اِس سے ڈرتانہیں کہ اللّٰہ تَعَالٰی اس کا سر گدھے کا سا کردے۔‘‘(صحیح مسلم ص۲۲۸حدیث۴۲۸ )
حضرتِ سیِّدُنا امام نَوَوِی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی حدیث لینے کے لئے ایک بڑے مشہورشخص کے پاس دِمشق گئے ۔وہ پردہ ڈال کر پڑھاتے تھے ، مدّتوں تک اُن کے پاس بہت کچھ پڑھا مگر اُن کا مُنہ نہ دیکھا، جب زمانۂ دراز گزرگیااور اُن محدِّث صاحب نے دیکھا کہ اِن (یعنی امام نَوَوِی )کوعِلمِ حدیث کی بہت خواہش ہے تو ایک روز پردہ ہٹادیا !دیکھتے کیا ہیں کہ اُن کا گدھے جیسا منہ ہے !! اُنہوں نے فرمایا : صاحبزادے !دَورانِ جماعت امام پر سبقت کرنے سے ڈرو کہ یہ حدیث جب مجھ کو پہنچی میں نے اسیمُسْتَبْعَد(یعنی بعض راویوں کی عَدَمِ صحت کے باعث دُور اَزقیاس )جانا اور میں نے امام پر قصداً سبقت کی تو میرا منہ ایسا ہو گیا جیسا تم دیکھ رہے ہو۔ (بہارشریعت ج۱حصہ۳ص۵۶۰بحوالہ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح، کتاب الصلاۃ، تحت الحدیث : ۱۴۱۱، ج۳، ص۲۲۱)
صَدرُ الشَّریعہ ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویبہارِ شریعت جلد3صفحہ 517پر لکھتے ہیں : جو چیزیں فرض ہیں ان میں امام کی مُتابَعَت(یعنی پیروی) مُقتَدِی پر فرض ہے یعنی ان میں سے کوئی فعل اِمام سے پیشتر ادا کر چکا اور امام کے ساتھ یا امام کے ادا کرنے کے بعد ادا نہ کیا، تو نَماز نہ ہوگی مثلاً امام سے پہلے رُکوع یا سجدہ کر لیا اور امام رکوع یا سجدہ میں ابھی آیا بھی نہ تھا کہ اس نے سر اٹھا لیا تو اگر امام کے ساتھ یا بعدکو ادا کر لیا ہوگئی، ورنہ نہیں ۔ (درمختار و ردالمحتارج ۲ص۱۷۳)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جب امام صاحب کے سلام پھیرنے سے پہلے آپ نَماز سے فارغ نہیں ہوسکتے تو ان سے پہلے رُکوع وسجود میں جانے یا ان سے پہلے سر اٹھانے سے کیا حاصِل؟ اس میں توسَرَا سَر نقصان (Loss)ہے جیساکہ مذکورہ روایات وحکایات سے معلوم ہوا۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تِلاوتِ قراٰن کرنا یقینا بہت بڑی سعادت ہے ، قراٰنِ پاک کا ایک حَرف پڑھنے پر 10نیکیوں کا ثواب ملتا ہے ، چُنانچِہ خاتَمُ الْمُرْسَلین، شفیعُ الْمُذْنِبیْن، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ دِلنشین ہے : ’’جو شخص کتابُ اﷲ کا ایک حَرف پڑھے گا، اُس کو ایک نیکی ملے گی جو دس کے برابر ہوگی۔ میں یہ نہیں کہتا الٓمّٓۚ ایک حَرف ہے، بلکہ اَلِف ایک حَرف ، لام ایک
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع