30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مشہور ہے کہ’’ وُضو جوانوں کا سا اور نَماز بوڑھوں کی ‘‘اگر اِس کا مطلب یہ ہے کہ اتنی جلدی جلدی وُضو کیا جائے کہ فرائضِ وُضو کا بھی خیال نہ رکھا جائے تو سنبھل جائیے کہ اس طرح وُضو کرنے سے اگر مکمل چہرے یاکہنیوں سمیت دونوں ہاتھوں یا ٹخنوں سمیت پاؤں کا تھوڑا سا حصہ بھی دُھلنے سے رہ گیا یا سرکے چوتھائی حصے کا مَسح نہ کیا تو وُضو ہی نہ ہوگا اور ظاہر ہے کہ جب وُضو نہیں ہوگا تو نَماز بھی نہیں ہوگی ۔ اس لئے اگر آپ اپنی نَماز بچانا چاہتے ہیں تو وُضو میں جلد بازی نہ کیجئے اور فرائض کے ساتھ ساتھ سُنَن ومُستَحبَّات کا بھی خیال رکھئے ۔
حضرتِ سیِّدُناعبدُ اﷲ بن عَمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ہم سردارِ مکۂ مکرمہ ، سلطانِ مدینۂ منوّرہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ مکۂ مکرّمہ سے مدینۂ منوّرہ کی طرف مَحوِ سفر تھے ، جب ہم راستے میں موجود پانی تک پہنچے تو وہ لوگ جو ہم سے پہلے وہاں پہنچ گئے تھے اور جلدی جلدی میں وُضو کر چکے تھے اُن کی ایڑیاں جنہیں پانی نہ لگا تھا، وہ چمک رہی تھیں ، تب سَروَرِ کائنا ت، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ان ایڑیوں کے لیے آگ کا ’’وَیْل‘‘ ہے وُضو پورا کرو۔ (صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، الحدیث : ۲۴۱، ص۱۴۸)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : یعنی ہم نبی ٔکریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ قافِلے کے پچھلے حصے میں تھے اور وہ حضرات اگلے حصے میں ، وہ ہم میں سے پہلے پانی پر پہنچ گئے اور جلدی میں وُضو کیا ۔معلوم ہوا کہ وُضو بھی نَماز کی طرح اِطمینان سے کرنا چاہیے، ’’ وَیْل‘‘ کے معنی افسوس بھی ہیں اور دوزخ کے ایک طبقے کا نام بھی ہے یہاں دوسرے معنی مراد ہیں یعنی اگر اَعضائے وُضو میں سے کوئی عُضو ناخن برابر سوکھا رہ گیا تو وہ شخص ’’ وَیْل‘‘ میں جانے کا مُستَحِق ہے۔(مرأۃ المناجیح ، ج۱، ص۲۸۵)
اعلیٰ حضرت، مُجَدِّدِدین وملت ، امامِ اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں : ایک مرتبہ گاؤں جانے کا اِتِّفاق ہوا ، ایک صاحب میرے ساتھ تھے، فجر کی نَماز کے لئے انہوں نے وُضو کیا ، بھوؤں سے چہرہ پر پانی ڈالا ۔ جب ان سے کہا گیا تو فرمایا : جلدی کی وجہ سے (ایسا کِیا) کہ( کہیں ) وَقت (Time)نہ(ختم ہو) جائے ۔ میں نے کہا کہ پھر تو بلا وُ ضو ہی پڑھئے گا!مجھے خیال رہا ، ظہر کے وَقت دیکھا انہوں نے اُس وَقت بھی ایسا ہی کیا ، میں نے کہا : ’’ اب تووَقت نہ جاتا تھا!‘‘ آجکل لوگوں کی عام طور سے یہی عادت ہے ۔ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص۲۹۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۲) نَماز ادا کرنے میں جلد بازی
افسوس! فی زمانہ مسلمانوں کی بہت کم تعداد نَماز پڑھتی ہے اورجو پڑھتے ہیں اُن میں سے بھی بعض نادان جلد بازی کی وجہ سے اپنی نَمازیں برباد کربیٹھتے ہیں ۔ ایسوں کو نَماز کا چور(Theif of prayers) قرار دیا گیا ہے ، چُنانچہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’سب سے بَدتَر چور وہ ہے جو اپنی نَماز میں چوری کرتا ہے۔‘‘ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عَرض کی : ’’یارسولَاللّٰہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! کوئی شخص اپنی نَماز میں کس طرح چوری کرسکتا ہے؟‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’وہ اس کے رُکوع و سُجود پورے نہیں کرتا۔‘‘ یا اِرشاد فرمایا : ’’وہ رکوع و سجود میں اپنی پیٹھ سیدھی نہیں کرتا۔‘‘ ( المسند للامام احمد بن حنبل، الحدیث : ۲۲۷۰۵، ج۸، ص۳۸۶)
شیخِ طریقت ، امیر اہلسنّت، بانی ٔ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانامحمد الیاس عطّاؔر قادری ضیائیدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی مایہ نازکتاب ’’نَماز کے احکام‘‘ میں صفحہ 179پر نَقل فرماتے ہیں کہ مفسر شہیر، حکیم ُالا مّت حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ المنان اس حدیث کے تحت فرما تے ہیں : ’’معلوم ہوا کہ مال کے چور سے نَمازکا چور بَدتر ہے کیوں کہ مال کا چور اگر سزابھی پاتا ہے تو کچھ نہ کچھ نفع بھی اٹھالیتا ہے مگر نَماز کا چورسزاپوری پا ئے گا اس کے لئے نفع کی کوئی صورت نہیں ۔ مال کا چور ’’بندے کا حق‘‘ مارتا ہے جبکہ نَماز کا چور ’’اللّٰہعَزَّ وَجَلَّ کا حق‘‘، یہ حالت ان کی ہے جو نَماز کو ناقِص پڑھتے ہیں ، اِس سے وہ لوگ دَرس عبرت حاصِل کریں جو سِرے سے نَماز پڑھتے ہی نہیں ۔‘‘ (مرأۃ المناجیح ، ج۲، ص۷۸)
حضرتِ سیِّدُنا حُذَیفہ بن یَمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک شخص کو دیکھا جو نَماز پڑھتے ہوئے رُکوع اور سُجود پورے ادانہیں کرتاتھاتو اُس سے فرمایا : ’’تم نے جونَماز پڑھی اگراسی نَماز کی حالت میں اِنتقال کر جاؤتو حضرتِ سیِّدُنامحمدمصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے طریقہ پرتمہاری موت واقع نہیں ہو گی ۔‘‘(صحیح البخاری، کتاب الاذان، ج۱، ص۴۸۲، حدیث۸۰۸ )نسائی شریف کی روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے پوچھا : تم کب سے اِس طرح نَماز پڑھ رہے ہو؟اُس نے کہا : چالیس سال سے۔تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے اِرشاد فرمایا : ’’تم نے چالیسسال سے بالکل نَماز ہی نہیں پڑھی اور اگر اِس حالت میں تمہیں موت آگئی تو دینِ محمدی علٰی صاحِبِہا الصَّلٰوۃ وَالسَّلامپرنہیں مرو گے۔‘‘(سنن النسائی ، کتاب السھو، باب تطفیف الصلاۃ، ص۲۲۵حدیث۱۳۰۹)
حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن شِبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کوّے کی سی ٹھونگ مارنے اور دَرِندے کی طرح ہاتھ بچھانے سے منع فرمایا۔(سنن ابی داوٗد، کتاب الصلاۃ، الحدیث : ۸۶۲، ج۱، ص۳۲۸)
یعنی ساجِد(سجدہ کرنے والا) سجدہ ایسی جلدی جلدی نہ کرے جیسے کوّازمین پر چُونچ مار کر فوراً اُٹھالیتا ہے اور سجدے میں کہنیاں زمین سے نہ لگائے جیسے کتا ، بھیڑیا وغیرہ بیٹھتے وَقت لگالیتے ہیں ۔
(مرأۃ المناجیح ، ج۲، ص۸۷)
حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد میں آیا، راحتِ قلبِ ناشاد، محبوبِ ربُّ العِباد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مسجد کے ایک کونہ میں جلوہ گَر تھے ، اس شخص نے نَماز پڑھی اور حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو سلام کیا، اس سے نبی ٔکریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : وَعَلَیْکَ السَّلَاملَوٹ جاؤ نَماز پڑھو تم نے نَماز نہیں پڑھی۔ وہ لَوٹ گیا نَماز پڑھی پھر آیا سلام کیا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع