30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اِفطار پارٹیوں ، دعوتوں ، نیازوں اور نعت خوانیوں وغیرہ کی وجہ سے فرض نَمازوں کی مسجد کی جماعتِ اُولیٰ ( یعنی پہلی جماعت) تَرک کرنے کی ہر گز اجازت نہیں ، یہاں تک کہ جو لوگ گھر یا ہال یا بنگلہ کے کمپاؤنڈ وغیرہ میں تراویح کی جماعت قائم کرتے ہیں اور قریب مسجد موجود ہے تو اُن پر واجب ہے کہ پہلے فرض رکعتیں جماعتِ اُولیٰ کے ساتھ مسجد میں ادا کریں ۔ جو لوگ بلا عُذرِ شَرعی باوجودِ قدرت فَرض نَماز مسجد میں جماعتِ اُولیٰ کے ساتھ ادا نہیں کرتے اُن کو ڈر جانا چاہئے کہ صحابیٔ رسول، حضرت سیِّدنا عبد اللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا فرمانِ عبرت نشان ہے : ’’جس کو یہ پسند ہو کہ کل اللّٰہ تَعَالٰی سے مسلمان ہو کر ملے تو وہ ان پانچ نَمازوں ( کی جماعت) پر وَہاں پابندی کرے جہاں اذان دی جاتی ہے کیونکہاللّٰہعَزَّ وَجَلَّ نے تمہارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے سُنَنِ ھُدٰی مَشْرُوع کیں اور یہ ( باجماعات) نَمازیں بھی سُننِ ھُدٰی سے ہیں اور اگر تم اپنے نبی کی سنت چھوڑ دو گے تو گمراہ ہوجاؤ گے۔‘‘(مسلم شریف، کتاب الصلوٰۃ، ج۱، ص۲۳۲، حدیث ۴۵۶) جو لوگ خوامخواہ سستی کی وجہ سے پوری جماعت حاصِل نہیں کرتے وہ توجُّہ فرمائیں کہ میرے آقا اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت مولاناشاہ امام احمد رضا خانعلیہ رحمۃُالرَّحمٰن فرماتے ہیں : ’’بحرالرّائق‘‘ میں ہے ، قنیہ میں ہے، اگر اذان سُن کر دُخولِ مسجد ( یعنی مسجد میں داخل ہونے کے لئے) اِقامت کا اِنتظار کرتا رہا تو گنہگار ہوگا۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ ج۷ص۲۰۱، البحرالرائق ج۱ ص۴۰۶) فتاویٰ رضویہ شریف کے اسی صفحہ پر ہے : ’’جو شخص اذان سُن کر گھر میں اِقامت کا اِنتظار کرتا ہے اُس کی شہادت یعنی گواہی قبول نہیں ۔‘‘(البحر الرائق ج ۱ص۴۵۱)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جو اِقامت تک مسجد میں نہیں آجاتا بعض فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلامکے نزدیک وہ گنہگار اور مردودُ الشَّھادۃ یعنی گواہی کے لیے نالائق ہے تو جو بِلا عذر گھر میں جماعت قائم کرتا یا بغیر جماعت نَماز پڑھتا یا مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ نَماز ہی نہیں پڑھتا اُس کا کیا حال ہوگا!
یاربِّ مصطفیٰ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں پانچوں نَمازیں مسجد کی جماعتِ اُولیٰ میں پہلی صف کے اندر تکبیرِ اُولیٰ کے ساتھ ادا کرنے کی ہمیشہ سعادت نصیب فرما۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
میں پانچوں نَمازیں پڑھوں باجماعت
ہو توفیق ایسی عطا یاالٰہی
(نَمازکے احکام ص۲۶۹)
اَحناف کے نزدیک اگرچہ نَمازکی قضامیں جلدی کرناواجب ہے، لیکن بچوں کے لئے کھانے پینے کاانتظام کرنے کی ذمہ داری کی وجہ سے اس میں تاخیرکرناجائز ہے۔چنانچہ صدرالشریعہ، بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی ’’بہارشریعت‘‘ میں نَقل فرماتے ہیں : ’’جس کے ذمہ قضا نَمازیں ہوں اگرچہ ان کا پڑھنا جلدسے جلدواجب ہے مگر بال بچوں کی خوردونوش اور اپنی ضروریات کی فراہمی کے سبب تاخیر بھی جائز ہے تو کاروبار بھی کرے اور جو وَقت فرصت کا ملے اس میں قضابھی پڑھتا رہے یہاں تک کہ پوری ہو جائیں ، قضاکے لئے کوئی وَقت معین نہیں عمرمیں جب پڑھے گابری الذمہ ہوجائے گا۔‘‘(بہارشریعت، ج۱، حصہ۴، ص۷۰۶)
مدینہ : قضانَمازوں کے متعلق تفصیلی معلومات کے لئے بہارشریعت جلد اول حصہ4اورشیخ طریقت ، امیراہلسنت، بانی ٔدعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانامحمدالیاس عطار قادریدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی تالیف نَماز کے احکام کے باب ’’قضانَمازکاطریقہ‘‘کامطالعہ کریں ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
قرض(loans) کا لین دین باہمی خیرخواہی کا ایک بہترین ذریعہ ہے لیکن جب قرض لینے والا وَقت پر واپس نہ کرے یا آج کل کرنا شروع کردے تو قرض دینے والے کے دل پر کیا گزرتی ہے ؟ یہ وہی جانتا ہے ۔ بہر حال یاد رکھئے ! اگرقرضدار قرض ادا کرسکتا ہو تو قرض خواہ کی مرضی کے بِغیر اگر ایک گھڑی بھر بھی تاخیر کریگا تو گنہگار ہوگا اور ظالم قرار پائے گا۔ خواہ روزے کی حالت میں ہو یا سورہا ہو اس کے ذِمّے گناہ لکھا جاتا رہے گا۔ (گویا ہر حال میں گُناہ کا میڑ چلتا رہیگا)اورہر صورت میں اس پراللّٰہعَزَّ وَجَلَّ کی لعنت پڑتی رہے گی۔ یہ گناہ تو ایسا ہے کہ نیند کی حالت میں بھی اس کے ساتھ رہتا ہے۔ اگر اپنا سامان بیچ کر قرض ادا کرسکتا ہے تب بھی کرنا پڑیگا ، اگر ایسا نہیں کریگا تو گنہگار ہے۔ اگر قرض کے بدلے ایسی چیز دے جو قرض خواہ کو ناپسند ہو تب بھی دینے والا گنہگار ہوگا اور جب تک اسے راضی نہیں کرے گا اس ظُلم کے جُرم سے نَجات نہیں پائے گا کیونکہ اس کا یہ فعل کبیرہ گناہوں میں سے ہے مگر لوگ اسے معمولی خیال کرتے ہیں ۔(کیمیائے سعادت ج۱ص۳۳۶)
حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللّٰہ الوالی کیمیائے سعادت میں نَقل کرتے ہیں : جو شخص قرض لیتا ہے اور یہ نیّت کرتا ہے کہ میں اچّھی طرح ادا کردوں گا تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی حفاظت کیلئے چند فرِشتے مقرَّر فرما دیتا ہے اور وہ دُعا کرتے ہیں کہ اس کا قرض ادا ہوجائے۔(اِتِحافُ السّادَۃ المتقین للزّبید ی ج ۶ص۴۰۹ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(4)سلام میں پہل کیجئے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !جب بھی کسی اسلامی بھائی سے ملاقات ہوسلام میں پہل کرکے نیکیوں کی طرف جلدی بڑھ جانے کی کوشِش کیا کیجئے ، چند مَدَنی پھول قبول فرمائیے : (1)سلام میں پہل کرنا سنّت ہے(2) سلام میں پہل کرنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کامُقرَّب ہے (3) سلام میں پہل کرنے والا تکبُّر سے بھی بری ہے ۔ جیسا کہ میرے مکّی مَدَنی آقا میٹھے میٹھے مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ باصفا ہے : پہلے سلام کرنے والا تکبُّر سے بَری ہے۔ (شُعَبُ الایمان ج۶ص ۴۳۳) (4) سلام (میں پہل) کرنے والے پر 90 رَحمتیں اور جواب دینے والے پر 10رَحمتیں نازِل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع