30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لگانے، علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت کرنے کی سعادت حاصل ہے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے مرتے دم تک مَدَنی ماحول میں استقامت نصیب فرمائے ،اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کچھ کام ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے ، مگر جلدی کا مطلب یہ ہے کہ ان کو انجام دینے کے لئے جلد قدم بڑھائے نہ کہ ان کاموں کو جلدی جلدی کرنے کی کوشِش میں بگاڑ بیٹھے یا ادھورا (Incomplete) چھوڑ دے ۔
آخِرت کے کام میں جلدی کرنی چاہئے
حدیث پاک میں ہے : اِطمینان ہر چیز میں ہو، سوائے آخِرت کے کام کے۔(سنن ابی داود، کتاب الادب، باب فی الرفق، الحدیث : ۰۱۸۴، ج۴، ص۵۳۳)
یعنی دُنیاوی کام میں دیر لگانا اچھا ہے کہ ممکن ہے وہ کام خراب ہو اور دیر لگانے میں اس کی خرابی معلوم ہوجائے اور ہم اس سے باز رہیں مگر آخرت کا کام تو اچھا ہی اچھاہے اسے موقع(Chance) ملتے ہی کرلو کہ دیر لگانے میں شاید موقع جاتا رہے۔ بہت دیکھا گیا کہ بعض کو (حج کا)موقع ملا نہ کیا پھر نہ کرسکے۔ رب تَعَالٰی فرماتا ہے : فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِﳳ بھلائیوں میں جلدی کرو۔(پ۲، البقرۃ : ۱۴۸) شیطان کارِ خیر میں دیر لگوا کر آخر میں اس سے روک دیتا ہے۔ (مرأۃ المناجیح ، ج۶، ص۶۲۷ملخصًا)
بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المبین کا فرمان ہے کہ اگرچہ عُجلت شیطانی عمل ہے لیکن چھ امور میں عُجلت ضروری ہے : (۱)نَماز کی ادائیگی میں جب اس کا وَقت ہو جائے۔ (۲)میِّت کو دَ فن کرنے میں جب حاضر ہو۔(۳)جب لڑکی بالغ ہو جائے تو اس کے بیاہ میں جلدی کی جائے۔(۴)قرض کو بھی جلد ادا کیا جائے جب ادائیگی کی طاقت حاصِل ہو۔(۵)جب مہمان تشریف لائے تو اسے کھانا جلد کھلایا جائے۔ (۶)جب گناہِ صغیرہ یا کبیرہ کا ارتکاب ہو جائے تو توبہ میں عجلت کی جائے۔ (تفسیرروح البیان ج۵ص۱۳۷)
کن کاموں میں دیر نہیں کرنی چاہئے؟
٭ نَماز کے لئے اٹھنے میں دیر نہ کیجئے ٭ نَماز کا وقت آجانے پر نماز کی ادائیگی میں تاخیر نہ کیجئی٭ ادائے قرض میں جلد ی کیجئے ٭ سلام میں پہل کیجئے ٭ حجِ فرض کے لئے جانے میں دیر نہ کیجئے ٭ غُسل فرض ہونے پر غُسل کرنے میں جلد ی کیجئے ٭ گناہوں سے جلد توبہ کر لیجئی٭ نیک بننے میں جلدی کیجئے ٭ راہ خدامیں خَرچ کرنے میں دیر نہ کیجئے ٭ اولاد جوان ہو جائے تو جلد شادی کر دیجئے ٭ مہمان کو جلد کھانا کھلا دیجئی٭ کسی کی اِصلاح کرنے میں دیر نہ کیجئے ٭ جنازہ حاضر ہو تو نَماز جنازہ ادا کرنے میں دیر نہ کیجئے ٭ حق تلفی کی معافی مانگنے میں جلدی کیجئے ٭ ثوابِ جاریہ کمانے میں جلدی کیجئے۔
(1)نَماز کے لئے اٹھنے میں دیر نہ کیجئے
افسوس کہ آج ہمارے مسلمانوں کی اکثریت نَماز کی پابندی نہیں کرتی اور جو نَماز کے عادی ہوتے ہیں اس میں سے بھی ایک تعداد کے لئے نیند سے بیدار ہوکر نَمازِ فجر ادا کرنا بے حد دشوار ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب انہیں نَماز کے لئے جگایا جاتا ہے یا دعوتِ اسلامی کے کسی مبلغ کی ’’صدائے مدینہ ‘‘ان کے کانوں تک پہنچتی ہے تو وہ اُوں آں کرکے بستر پر پڑے رہتے ہیں حتّٰی کہ شیطان انہیں تھپک کر پھر سے نیند کی وادی میں پہنچا دیتا ہے اور مَعَاذَ اللّٰہعَزَّ وَجَلَّ ! پہلے ان کی جماعت چُھوٹتی ہے پھر نَمازہی قضا ہوجاتی ہے ، اس لئے جونہی فجر کے لئے آنکھ کھلے ہاتھوں ہاتھ بستر چھوڑ دینااور نَمازکی تیاری میں مشغول ہوجانا ہی دانشمندی ہے ۔
نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عظمت نشان ہے : جب تم میں کوئی انسان سوجاتاہے توشیطان اس کی ُگدی پر تین گرہیں لگاتا ہے اور ہر گرہ پر پھونک مارتا ہے کہ رات لمبی ہے۔ جب وہ بیدار ہو کر اللّٰہ تَعَالٰی کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے اور جب وضو کرتا ہے تو اس کی دو گرہیں کھل جاتی ہیں پھر جب نماز پڑھتا ہے تو تمام گرہیں کھل جاتی ہیں ۔ پس وہ صبح کے وقت ہشاش بشاش ہوتا ہے ورنہ صبح کے وقت بد باطنی اور سستی کے ساتھ اٹھتا ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین، الحدیث : ۷۷۶، ص۳۹۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(2) نَماز کی ادائیگی میں تاخیر نہ کیجئے
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 499 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’نَماز کے احکام‘‘صَفْحَہ 495پر شیخِ طریقت امیر ِاہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادریدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اِرشادفرماتے ہیں : ’’خبردار !جب بھی آپ کے یہاں نِیازیا کسی قسم کی تقریب ہو جماعت کا وَقت ہوتے ہی کوئی مانعِ شَرعی نہ ہو تواِنفرادی کوشِش کے ذریعے تمام مہمانوں سمیت نَمازِ باجماعت کے لئے مسجد کا رُخ کریں ۔بلکہ ایسے اوقات میں دعوت ہی نہ رکھیں کہ بیچ میں نَماز آئے اورسُستی کے باعث مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ! جماعت فوت ہو جائے ۔دوپہر کے کھانے کے لئے بعد نَمازِظہر اور شام کے کھانے کے لئے بعد نَمازِعشامہمانوں کو بلانے میں غالباً باجماعت نَمازوں کے لئے آسانی ہے ۔میزبان ، باورچی ، کھاناتقسیم کرنے والے وغیرہ سبھی کو چاہئے کہ وَقت ہوجائے تو ساراکام چھوڑ کر باجماعت نَماز کا اِہتِمام کریں ۔بزرگوں کی ’’نیاز ‘‘ کی مصروفیت میں اللّٰہعَزَّ وَجَلَّ کی ’’نَمازِباجماعت ‘‘میں کوتاہی بہت بڑی غلطی ہے ۔‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع