30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سیِّدنا منذر ابن عائذ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )کو یہ بِشارت دی توانہوں نے عرض کی : یارسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میری یہ صفتیں کَسبی ہیں یارب تَعَالٰی کی عطا کی ہوئی؟ فرمایا : رب تَعَالٰی کی عطاکردہ۔تب انہوں نے سجدہ شکر کیا اور کہا : اگر میری یہ صفتیں کَسبی ہوتیں تو قابلِ زَوال ہوتیں ، رب کی عطا زائل نہیں ہوتی، خدا کا شکر ہے جس نے مجھے وہ خصلتیں بخشیں ہیں جس سے وہ اور اس کے رسول راضی ہیں ۔(مرأۃ المناجیح ، ج۶، ص۶۲۵ملخصًا)
جب تم توقف کرو گے تو کامیابی تمہارا مقدر بنے گی
حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروِی ہے : اِذَا تَاَنَّیْتَ اَصَبْتَ اَوْ کِدتَّ تُصِیْبُ ، وَاِذَا اسْتَعْجَلْتَ اَخْطَأْتَ اَوْکِدتَّ تُخْطِیُٔیعنی جب تونے توقف کیاتو پالیا یا قریب ہے کہ تو پالے اورجب تو نے جلدی کی تو خطاکی یا قریب ہے کہ توخطاکھاجائے۔(کنزالعمال ج۲ص۴۴حدیث۵۶۷۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
سِنگر (گلوکار) دعوتِ اسلامی میں کیسے آیا ؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اچّھی اچّھی مَدَنی صُحبت پانے ، جلد بازی کی عادت سے پیچھا چھڑانے کے لئے تبلیغِ قرآن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک، دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہو جایئے، اِس کی بَرَکت سے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اعلیٰ اَخلاقی اَوصاف غیرمحسوس طور پر آپ کے کردار کا حصّہ بنتے چلے جائیں گے ۔ہر اسلامی بھائی کو چاہیے کہ وہ اپنے شہر میں ہونے والے دعوت ِ اسلامی کے ہفتہ وارسنَّتوں بھرے اجتِماع میں شرکت کرے اورسنَّتوں کی تربیَّت کے مَدَنی قافِلوں میں عاشِقانِ رسول کے ہمراہ سنّتوں بھرا سفر کرے ۔ اِن مَدَنی قافِلوں میں سفر کی بَرَکت سے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے سابِقہ طرزِزندگی پر غوروفکر کا موقع ملے گا اور دل عاقِبت کی بہتری کے لئے بے چین ہوجائے گا ، جس کے نتیجے میں گناہوں کی کثرت پر نَدامت ہوگی اور توبہ کی سعادت ملے گی۔ عاشِقانِ رسول کے ہمراہ مَدَنی قافِلوں میں مسلسل سفر کرنے کے نتیجے میں فُحش کلامی اور فُضول گوئی کی جگہ لب پردُرُود ِ پاک کا وِرد ہوگا اور زَبان تلاوتِ قرآن اور ذکرونعت کی عادی بن جائے گی ، غُصّے کی جگہ نرمی، بے صَبری کی جگہ صبر وتحمُّل، تکبُّر کی جگہ عاجِزی اوراِحترامِ مسلم کا جذبہ ملے گا ۔ دنیاوی مال ودولت کے لالچ سے پیچھا چُھوٹے گا اور نیکیوں کی حِرص ملے گی ، الغرض بار بار راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں سفر کرنے والے کی زندَگی میں مَدَنی انقِلاب برپا ہوجائے گا، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ ۔ اسلامی بہنوں کو بھی چاہئے کہ اپنے شَہر میں ہونے والے اسلامی بہنوں کے ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماع میں پابندی سے شرکت کریں ۔آپ کی ترغیب وتَحریص کے لئے عاشِقانِ رسول کی صُحبت کی بَرَکت سے مَملُو ایک مَدَنی بہار آپ کے گوش گزار کرتا ہوں : ملیر(باب المدینہ کراچی)کے اسلامی بھائی(عمرتقریباً27سال)کا بیان کچھ یوں ہے کہ مجھے بچپن میں نعتیں پڑھنے کا شوق تھا ، آواز چونکہ اچھی تھی اس لئے گھریلوفنکشنز(تقاریب ) میں کبھی کبھارفرمائشی گانا بھی گا لیتاجس پر خوب حوصلہ افزائی ہوتی ۔جب تھوڑا بڑا ہوا توگٹار(ایک آلۂ موسیقی) سیکھنے کا شوق چُرایا، پھر میں نے باقاعدہ گانا سیکھنے کے لئے اکیڈمی میں داخلہ لیا، کئی سال تک سیکھنے کے بعد میں نے گانے کے مقابلوں میں حصہ لینا شروع کردیا، کئی ٹی وی چینلز پر بھی گایا ۔وقت کے ساتھ ساتھ مجھے شہرت بھی ملتی گئی ۔پھر مجھے دبئی کے بہت بڑے شو (پروگرام) میں شرکت کا موقع ملا، وہاں سے ھند(بھارت) چلاگیا جہاں تقریباًچھ ماہ تک گانے کے مختلف مقابلوں میں حصہ لیا ، بڑے بڑے فنکشنز اور فلموں میں گاناگایااور کافی نام ومال کمایا۔پھر گلوکاروں کی ٹیم کے ساتھ دنیا کے مختلف ممالک میں گیا ۔جب کچھ عرصے کے لئے وطن آیا تو اہل خانہ اور محلے داروں نے بڑی پذیرائی کی جس سے نفس کوبڑا مزہ آیا مگر دل کی دنیا بے سکون سی تھی، کچھ کمی محسوس ہورہی تھی ۔نماز کے لئے مسجد میں آنا جانا ہوا تو وہاں پر عشاء کی نماز کے بعد ہونے والے درسِ فیضانِ سنّت میں شرکت کی سعادت ملی ۔میں کبھی کبھار درس میں بیٹھنے لگا مگر دل ودماغ پر دوسری مرتبہ ملک سے باہر جانے کا خیال چھایا ہوا تھا ، اسی لئے درس میں ملنے والے مَدَنی پھول میری زندگی میں خاص تبدیلی نہ لاسکے ۔ اسلامی بھائی مجھ پر انفرادی کوشش کرنا شروع کرتے تو میں ٹال مٹول کرکے نکل جاتا ۔ایک رات سویا تو خواب میں دعوتِ اسلامی کے ایک مبلغ کی زیارت ہوئی جو بلند جگہ پر کھڑے مجھے اپنے پاس بلا رہے تھے گویا کہ مجھے گناہوں کی دلدل سے نکلنے کی ترغیب دے رہے ہوں ۔جب صبح اٹھا تو اپنے اندازِ زندگی پر کچھ دیر غوروفکر کیا مگر پھر ’’وہی چال بے ڈھنگی سی ۔‘‘بہرحال کچھ عرصے بعد میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مر چکا ہوں اور میری لاش کو غسل دیا جارہاہے پھر میں نے خود کو عالَم برزخ میں پایا ، جہاں اندھیرا چھایا ہوا تھا ، اس وقت میں نے خود کو ایسا بے بس محسوس کیا کہ کبھی نہ کیا ہوگا ، اب میں نے خود سے کہا : ’’تم بہت مشہور ہونا چاہتے تھے ، دیکھ لی اپنی اوقات !‘‘صبح جب آنکھ کھلی تو میں پسینے میں نہایا ہوا تھا اور میرا بدن کانپ رہا تھا ۔ ایسا لگا کہ مجھے ایک موقع اور دیتے ہوئے دوبارہ دُنیا میں بھیج دیا گیا ہے ۔اب میرے سر سے گانا گانے کا بھوت اُتر چکا تھا میں نے فیصلہ کر لیا کہ اب میں گانا نہیں گاؤں گااور اپنے گناہوں سے توبہ کر لی ۔جب گھر والوں کو اس بات کا پتا چلا تو انہوں نے سخت مزاحمت کی مگر اللہ ورسول عَزَّ وَجَلَّ و صلَّی اللّٰہ تعالٰیعلیہ واٰلہٖ وسلَّمکے کرم سے میرا مَدَنی ذہن بن چکا تھا لہٰذا میں اپنے فیصلے پر قائم رہا ۔مجھے خواب میں دوبارہ اسی مبلغِ دعوتِ اسلامی کی زیارت ہوئی ، انہوں نے میری حوصلہ افزائی فرمائی ۔ اللہ تَعَالٰی کے اس ارشاد مبارک
وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَاؕ-وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠
(ترجمۂ کنزالایمان : اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے، اور بیشک اللہ نیکوں کے ساتھ ہے۔ (پ۲۱ ، العنکبوت : ۶۹)
کے مصداق مجھے دعوتِ اسلامی میں استقامت ملتی گئی ۔ میں نے نمازوں کی پابندی شروع کر دی، اپنے چہرے پر داڑھی شریف سجا لی اور سبز سبز عمامے سے سرسبز کر لیا ۔پہلے میں گانوں کے اشعار پڑھا کرتا تھا اب مکتبۃ المدینہ سے شائع ہونے والی کتب ورسائل کا مطالعہ کرنا میرا معمول تھا ۔ ایک رات کوئی کتاب پڑھتے پڑھتے میں سویا تو میری خوش نصیبی اپنی معراج کو پہنچ گئی اور مجھے خواب میں اپنے آقا ومولیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا رُخ زیبا دیکھنا نصیب ہوگیا جس پر میں اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کا جتنا بھی شکر کروں کم ہے ۔اس سے میرے دل کو بڑی ڈھارس ملی ۔ پھر مفتیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ حافظ مفتی محمد فاروق عطاری مدنی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الغنی کی قبرمبارک مسلسل برسات کی وجہ سے کھلی تو ان کے صحیح سلامت بدن ، تازہ کفن ، سبز سبز عمامے اور زلفوں کے جلوے دیکھ کر میں خوشی سے جھوم اُٹھا کہ دعوتِ اسلامی کے وابستگان پر اللہ ورسول عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا کیسا کرم ہے ۔مَدَنی کام کرتے کرتے کل کا گلوکارمَدَنی ماحول کی برکت سے آج کا مبلغ ونعت خوان بن گیا، اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ تادمِ تحریر مجھے دعوتِ اسلامی کی ذیلی مشاورت کے خادِم(نگران) کی حیثیت سے مسجد اور بازار میں فیضانِ سنّت کا درس دینے ، صدائے مدینہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع