30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
خود کو باکمال سمجھنے والا جلد باز
حضرتِ سیِّدُنا جُنید بَغدادی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادیکے ایک مرید کو یہ سُوجھی کہ اب وہ کامل(Perfect) ہوگیا ہے۔اسے ہر رات ایسا دکھائی دیتا کہ فِرشتے اسے سُواری پر بٹھا کر جنّت کی سیر کراتے اور طرح طرح کے میوے کھلاتے ہیں ۔آ پ اس کے پاس گئے تو دیکھا کہ وہ بڑے ٹھاٹھ سے بیٹھا ہے ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس سے کیفیت پوچھی تو اس نے بڑے فخر سے اپنے بلند مقام اور جنّت کی سیر کاذِکر کیا۔آپ نے فرمایا : آج جب ’’جنّت‘‘ میں جاؤ تو میوے کھانے سے پہلے لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ پڑھنا۔ اس نے کہا : بہت اچھا۔ چنانچہ حسبِ معمول جب وہ ’’جنّت‘‘ میں پہنچا تو آپ کا فرمان یاد آگیا ۔تو اس نے لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہ پڑھا۔یہ ابھی پڑھا ہی تھا کہ اس نے ایک چیخ سنی اور ’’جنّت‘‘ کو آنِ واحد میں آنکھوں سے غائب دیکھا اور اپنے آپ کو ایک گندی جگہ پر بیٹھے ہوئے پایا جہاں مُردوں کی ہڈیاں پڑی ہوئی تھیں ۔وہ سمجھ گیا کہ یہ ایک شیطانی جال تھا جس میں وہ گِرِفتار تھا۔ وہ روتے ہوئے اپنے پیرومُرشِد حضرتِ سیِّدُنا جُنید بَغدادی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادیکی خدمت میں حاضر ہو ا اور توبہ کر کے پھر سے ان کی تربیت میں آگیا۔(کشف المحجوب ، باب آدابہم فی الصحبۃ ، ص۴۷۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
جلد بازی کا باربار نقصان اٹھانے کے باوجود اس سے جان چھڑانے کی کوشِش نہ کرنا نادانی ہے اس لئے جلدبازوں کو چاہئے کہ جلد بازی سے بچنے کے لئے آج بلکہ ابھی سے ان مَدَنی پھولوں پر عمل شروع کردیں ۔
جب بھی کوئی کام کرنے لگیں تو تھوڑا رُک جائیے اور سوچئے کہ مجھے یہ کام کرنا چاہئے یا نہیں ؟حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک شخص نینبیِّ کریم، رَء ُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے عَرض کی کہ مجھے نصیحت فرمایئے، تو خَلق کے رہبر، شافعِ محشر، محبوبِ دَاوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : کام تدبیر سے اِختیارکرو، پھر اگر اس کے اَنجام میں بھلائی دیکھو تو کر گزرو اور اگر گمراہی کا خوف کرو تو باز رہو۔(شرح السنۃ للبغوی ، کتاب البر والصلۃ، باب التأنی والعجلۃ، الحدیث : ۳۴۹۴، ج۶، ص۵۴۵)
یعنی جو کام کرنا ہو پہلے اس کا اَنجام سوچو پھر کام شروع کرو، اگر تمہیں کسی کام کے اَنجام میں دینی یا دنیاوی خرابی نظر آئے تو کام شروع ہی نہ کرو اور اگر شروع کرچکے ہو تو باز رہ جاؤ اسے پورا نہ کرو۔(مرأۃ المناجیح ، ج۶، ص۶۲۶ملخصًا)
حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے فرمایا : اَلْاُمُوْرُ ثَلَاثَۃٌ اَمْرٌ اِسْتَبَانَ رُشْدُہٗ فَاَتْبِعْہُ ، وَاَمْرٌ اِسْتَبَانَ ضِدُّہٗ فَاجْتَنِبْہُ ، وَاَمْرٌ اَشْکَلَ فَرُدَّہُ اِلَی اللّٰہِ یعنی کام تین قسم کے ہوتے ہیں : (۱) جس کا دُرُست ہونا بالکل واضح ہو، اس کام کو کر ڈالو(۲)جس کا غلط ہونا یقینی ہو، اس کام سے بچواور (۳) وہ جس کا دُرُست یا غلط ہونا واضح نہ ہو تو ایسے کام کے کرنے یا نہ کرنے پر اللّٰہ تَعَالٰی سے اِستخارہ کرو( یعنی ہدایت چاہو)۔(بدائع السلک فی طبائع الملک ، مشورۃ ذوی رأی، ج۱ ص۶۷)
(۲)جلد بازی کے نقصانات پر غور کیجئے
طبیعت میں سکون اور ٹھہراؤ پیدا ہونے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ انسان جلد بازی کی آفات اور نقصانات پر غور وفِکر کرے اور بے سوچے سمجھے جلد بازی سے کام کرنے پرجو نَدامت و مَلامت ہوگی اسے ذہن میں لائے ۔اس طرح غور وفِکرکرنے سے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ طبیعت میں توقُّف و تحمل کی صفت پیدا ہوگی اور عُجلت(یعنی جلدبازی ) سے نجات مل جائے گی ۔ایک عربی شاعر کہتا ہے :
قَدْ یُدْرِکُ التَّأنِیْ بَعْضَ حَاجَۃٍ وَقَدْ یَکُوْنُ مَعَ الْمُسْتَعْجِلِ الزِّلَل
یعنی بُردبار شخص تو اپنے مقاصد پالیتا ہے مگر جلد باز اکثر اوقات پھسل جاتا ہے۔(منہاج العابدین، ص۵۷)
روحُ البیان میں ہے :
پَیْشِ سَگْ چُوْں لُقْمَۂِ نَانْ اَفْگَنِیْ بُوْکُنَدْ وَانْگَہْ خُوْرْدْ اَیْ مُقْتَنِیْ
اُوْبَبِیْنِیْ بُوْکُنَدْ مَا بَا خِرَدْ ہَمْ بَبَوْئَیْمَشْ بَعَقْلْ مُنْتَقِدْ
یعنی : کتّے کو لُقمہ ڈالو تو وہ پہلے اسے سُونگھتا ہے پھر کھاتا ہے ۔ وہ ناک سے بُو سونگھتا ہےجبکہ ہم عَقل سے سوچتے ہیں تو ہمیں اس پر فوقیت ہونی چاہئے ۔
(تفسیر روح البیان، سورۃ بنی اسرائیل، تحت الایۃ : ۰۱، ج۵، ص۷۳۱)
سرکارِ ابد قرار، شافعِ روزِ شمار، بِاِذنِ پروردگار غیبوں پرخبردار، دوعالم کے مالِک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے قبیلہ عبدالقیس کے سردار سے فرمایا کہ تجھ میں دو خصلتیں ہیں جن کو اللّٰہ عزَّوجلَّ پسند فرماتا ہے بُردباری اور وقار۔(صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب الامر بالایمان۔۔۔الخ، الحدیث : ۲۵، ص۲۹)
قبیلے کے سردار کا نام منذر ابن عائذ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )تھا۔ یہ لوگ اپنی قوم کے نمائندے بن کر اسلام لانے آئے تھے ۔دوسرے لوگ تو آتے ہی بھاگتے ہوئے حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوئے مگر انہوں نے اولاً غُسل کیا پھر عمدہ لباس زیبِ تن کیا پھر نہایت وَقار و سُکون سے مسجد نبوی شریف میں حاضِر ہوکر نفل پڑھے پھر دعا مانگی پھر حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ان کی یہ ادا بہت پسند آئی تب یہ فرمایا ۔جب حضور اَنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرتِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع