30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
’’چار۔‘‘ مگر ایک منٹ بعد اس نے پروفیسر سے پوچھا : کیا میں اپنا جواب تبدیل کرسکتاہوں ؟اجازت ملنے پر اس نے کہا : میں اس مریض کو ایک گولی دوں گا۔ پروفیسر نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا : افسوس! آپ کا مریض تیس سیکنڈ پہلے مرچکا ہے(یعنی : آپ نے جلد بازی کی وجہ سے اسے ضرورت سے زیادہ دوائی کھلا دی جس سے وہ موت کے منہ میں پہنچ گیا)۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
سفرِآخِرت کے راستے میں کسی کو اپنا راہ نُما(یعنی پیر و مُرشِد)بنانا انسانی زندگی کے اہم فیصلوں میں سے ایک ہے لیکن بعض اسلامی بھائی اس معاملے میں انتہائی جلدباز واقع ہوتے ہیں ، حالانکہ مکمل معرفت حاصِل کئے بغیر تو کسی کو کاروبار میں پارٹنر (Partner) بھی نہیں بنایا جاتا چہ جائیکہ اُخرَوی سفر کیلئے راہ نُماکا انتخاب کیا جائے۔ چنانچہ کبھی کسی کے بارے میں لوگوں کی سنی سنائی باتوں کو بنیاد بنا کر عقیدت قائم کرلی جاتی ہے حالانکہ محض کسی کی شہرت و مقبولیت بارگاہِ الٰہی میں حُصُولِ مقام و مرتبہ کی دلیل نہیں کیونکہ بسا اوقات فساق و بدعقیدہ لوگوں کو بھی دینی حوالے سے شہرت حاصِل ہوجاتی ہے۔کبھی کسی کے ظاہری حُلیے سے متاثر ہوکر اس سے بیعت کرلی جاتی ہے ، کبھی کسی کے دئیے ہوئے تعویذ یا اسکی دعا کے سبب دُنیوی فوائد حاصِل ہونے پر اسے بارگاہ الٰہی میں مقرّب سمجھ لیا جاتا ہے ۔بہرحال محض ان باتوں کی بنیاد پر کسی شخص کو وَلِیُّ اللّٰہ گمان کرنے اور پیر و مرشد بنالینے کے بجائے ہمیں شریعتِ مطہرہ کے بیان کردہ معیار پر نظر رکھنی چاہیے۔چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صفحات پر مشتمل کتاب ’’بہارِ شریعتـ‘‘ جلد اول صفحہ 278 پر ہے : پیری کے لیے چار شرطیں ہیں ، قبل از بیعت اُن کا لحاظ فرض ہے : اول : سنّی صحیح العقیدہ ہو۔ دوم : اتنا علم رکھتا ہو کہ اپنی ضَروریات کے مسائل کتابوں سے نکال سکے۔ سِوم : فاسق مُعلِن نہ ہو۔ چہارم : اُس کا سلسلہ نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تک مُتَّصِل ہو۔
(بہارِ شریعت ، ج۱، ص۲۷۸)
ایک 20سالہ نوجوان نے بتایا کہ میری خوش نصیبی کہ میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوا اور امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا مُرِید بن گیا، اوراِجتماع میں پابندی سے آنے لگا۔ روزانہ دَرس دینااور مدرسۃ المدینہ (بالغان) میں شرکت کرنا ، پابندی کے ساتھ مَدَنی انعامات کاکارڈ پُر کرنا میرے معمولات میں شامل ہوگیا۔ رمضان المبارک میں سنتوں بھرا اِجتماعی اِعتکاف کرنے کی سعادت بھی پائی مگر ہائے میری بد نصیبی کہ میں اللّٰہ کے ایک ولی سے مُرید ہونے کے باوجود طریقت کے اُصولوں سے ناواقف ہونے کے باعث اِدھر اُدھر بھٹکنے کا عادی تھا۔ کاش کہ ’’یک دَرْ گیر مُحکَم گِیر‘‘ یعنی ’’ایک دروازہ پکڑ مضبوطی سے پکڑ‘‘ پر کاربند رہتا اور صِرف اپنے پیر و مرشد کی محبت اور جلوے دل میں بسائے رکھتاتو میں یوں برباد نہ ہوتا، کاش! میری عقیدت کا مَحور صِرف میرے پیرومرشد ہوتے ، کاش!میں اپنی عقیدت تقسیم نہ کرتا۔معاملہ کچھ یوں رہا کہ مجھے جب بھی کسی نام نہاد عامِل یا پیر کے متعلق اطلاع ملتی کہ وہ قلب جاری کردیتا ہے یا اسمِ اعظم جانتا ہے تو میں بغیر سوچے سمجھے اس کے پاس پہنچ جاتا، مگر ہر جگہ سوائے ظاہری معاملات کے کچھ نہ ملتا لیکن کیا کرتا میں اپنی عادت سے مجبور تھا، جس کا خَمیازہ آ خر کار مجھے بھگتنا پڑا۔
ایک دن میری ملاقات ایک شخص سے ہوئی جس نے طریقت کے نام پر کچھ باتیں ایسے سحر انگیزانداز میں بتائیں کہ مجھے بہت اچھالگااورمیری بدقسمتی کہ میں نے اس سے دوستی کرلی۔وَقت گزرتا رہا، ایک دن اس نے ا پنے ایک اُستاد سے ملوایاجسے وہ اپنا پیرکہتا تھا۔اس کے استاد نے مجھے پانی پر کچھ دَم کرکے پلایا اور اپنے پاس پابندی سے آنے کی تاکید کی ۔پھر میرا دوست مجھے اکثر اپنے ساتھ وہاں لے جاتا۔ اس کے استاد نے مجھے روزانہ پڑھنے کے لئے ایک وظیفہ بھی دیا اور کہا کہ اسے پڑھنے کی وجہ سے تم لوگوں کے دل کی پوشیدہ باتیں جان لو گے۔میں نے بلاسوچے سمجھے اس وظیفے کو اپنا معمول بنا لیا۔یوں ایک عرصہ تک وظائف کئے اور پابندی سے اسکے پاس جاتا رہامگر میرے دل میں رُوحانیت بڑھنے کے بجائے سختی بڑھتی چلی گئی جس کے نتیجے میں میرا دل گناہوں پردَلیر ہوگیا۔ میں نے اسے آج تک نَماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا اور حیران کن بات یہ تھی کہ میں اس سے بَدظن ہونے کے باوجود اس کے پاس مسلسل جاتا رہتا تھا، نہ جانے مجھے کیا ہوگیا تھا؟ آہستہ آہستہ میں نے دعوتِ اسلامی کے سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنا چھوڑدی، آہ!پھر سرسے عمامہ شریف بھی اترگیا اور داڑھی بھی منڈوا دی، نَمازیں پڑھنا چھوڑ دیں اور ہراس گنا ہ میں بھی مُلَوَّث ہوتاچلا گیا جو مَدَنی ماحول سے وابستگی سے پہلے بھی نہیں کیا کرتا تھا۔آہ! میری حالت انتہائی عبرتناک ہوچکی تھی۔کچھ عرصہ تک تو میرا وہاں بہت دل لگامگر پھر دل وہاں سے بھی اُچاٹ ہونا شروع ہو گیااورگھبراہٹ طاری رہنے لگی کیونکہ اب وہ مجھ سے ایسی باتیں کرنے لگا تھاجنہیں سن کر میں کانپ اٹھتا۔ وہ کہتاکہ(مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ !) اللہ ، رسول اور مرشِد ایک ہی ہیں ۔ مرشِد ہی خدا ہے ، نَمازروزہ سب کی جگہ بس تصوُّرِ مُرشِدہی کافی ہے۔ اب میں وہاں جانا نہیں چاہتا تھا مگر میں مجبور تھاکیونکہ وہ شخص مجھے دھمکیاں دیتا کہ یہاں آنے کا راستہ تو ہے جانے کا کوئی راستہ نہیں ہے، واپسی کا صِرف ایک راستہ ہے اور وہ ہے موت ۔ میں جب بھی وہاں نہ جانے کااِرادہ کرتا تو میری طبیعت خراب ہونے لگتی دل گھبرانے لگتا اور میں نہ چاہتے ہوئے بھی وہاں پہنچ جاتا۔ بالآخرمایوس ہوکر میں نے خود کشی کا فیصلہ کرلیااور شاید میں خودکشی کرلیتا مگر خو ش قسمتی سے کسی طرح مجھے شہزادۂ عطّارالحاج مولانا ابو اُسید احمد عبیدِ رضا عطاری مدنی مدظلہ العالی سے ملاقات کی سعادت مل گئی۔ میری رُوداد سن کر انہوں نے بہت ہی شفقت فرمائی اور بڑے پیار سے مجھے سمجھایا اور توبہ کروائی۔ چونکہ شہزادۂ عطّار وکیلِ عطار بھی ہیں لہٰذا میں نے ان کے ذریعے ان کے والدِ محترم(یعنی امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ) سے تجدیدِ بیعت بھی کی۔انہوں نے مجھے کچھ اس طرح کے مَدَنی پھول عطا فرمائے کہ شَجَرَہ عطّاریہ کے اَوراد پڑھنے کا معمول رکھئے، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ غیب سے مدد (Help)ہوگی، گھبرائیے مت ، اَ لْحَمْدُ للّٰہعَزَّ وَجَلَّ آپ ایک ولی کامل کے مریدہیں ، بس اِرادت مضبوط رکھئے، کوئی خوف مت رکھئے ، کُفریات بکنے والوں کے پاس کسی صورت میں نہ جائیں ، فرائض وواجبات کی سختی سے پابندی رکھئے، اللّٰہعَزَّ وَجَلَّ حفاظت کرنے والا ہے۔
اَ لْحَمْدُ للّٰہعَزَّ وَجَلَّ (تادمِ تحریر) تین سال سے زائد عرصہ ہوا کہ میں ان لوگوں کے پاس جانا چھوڑ چکا ہوں اور اب میں بَہُت پُرسکون ہوں ، عرصہ دراز کے بعد جب میں نے باجماعت نَمازپڑھنا شروع کی تو میرے آنسو نکل آئے۔ جب میں ان حالات کے متعلق غور کرتا ہوں تو کانپ اٹھتا ہوں کہ اگر مرشِدِ کامِل کی نگاہ نہ ہوتی تو نہ جانے میرا کیا بنتا؟اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ہم سب کے ایمان کی حفاظت فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع