30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایک شخص کو شِکار(Hunting) کا بہت شوق تھا، ایک مرتبہ تَرکَش میں تیر (Arrows)لے کر پرندوں کے شکار کو نکلا، اس دوران ایک پرندہ وہاں سے اُڑتا ہوا گزرا ، جس کا سایہ زمین پر پڑرہا تھا ، اُس شکاری نے جلد بازی میں سائے کو ہی شکار سمجھا اور تاک تاک کر اس پر تیر برسانے شُروع کئے یہاں تک کہ سارے تیرخَتم ہوگئے مگر پرندہ ہاتھ نہ آیا ۔ اُس نے اپنے ایک دوست سے اپنی ناکامی(Failure) کی داستان بیان کی اور کہا کہ میں نے ٹھیک نشانے پر تیرچلائے مگر ایک بھی تیر پرندے کو نہیں لگا!اس کے دانا دوست نے اسے سمجھایا کہ نادان! تم نے جلد بازی میں جس کو نِشانہ بنایا وہ پرندہ نہیں اُس کا سایہ تھا، اَصل شکار تو اوپر فَضا میں تھا ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کامیابی کی تمنا کسے نہیں ہوتی مگر یہ ہر ایک کو نہیں ملتی جیسا کہ مذکورہ حکایت میں جلد باز شِکاری کے ساتھ ہوا۔ ناکامیوں کے بہت سے اَسباب (Reasons) ہوتے ہیں جن میں سے ایک بڑا سبب جلد بازی(Hurry) بھی ہے ۔بیج کو پودا، پودے کو درخت اور درخت کو پھلدار بننے میں تھوڑا وَقت تو لگتا ہے، اسی طرح شام ہونے پر صبح دیکھنے کے لئے خواہی نخواہی رات گزرنے کا اِنتظار کرنا پڑتا ہے اورکوئی تالاب(Pool) یک دَم نہیں بھرتا بلکہ قطرہ قطرہ جمع ہو کر تالاب بنتا ہے مگر ہماری اکثریت اِس حقیقت کو فراموش کرکے بِلا غوروفِکرہر کام کو جلدی جلدی کرنے کی کوشِش میں مصروف نظر آتی ہے پھر جب جلد بازی کے نتیجے میں کام بگڑ جاتا ہے تو اِس کا ذمّہ دار دوسروں کو ٹھہرایا جاتاہے حالانکہ سوچے سمجھے بغیر کام شروع کرنا اور بگڑنے پر اِلزام دوسروں کو دینا حَماقت ہے ۔ اگر ہم ناکامیوں سے اپنا دامن بچانا اور کامیابی کی منزل کو پانا چاہتے ہیں توجلد بازی سے جان چھڑانا ہوگی اور اِس کے لئے پہلے ہمیں جلد بازی کو پہچاننا ہوگا، پھر یہ جاننا ہوگا کہ اِس کے نقصانات کیا ہیں ؟ ہم کن کن کاموں میں جلد بازی کا شکار ہوجاتے ہیں اور کس قسم کا نقصان اٹھاتے ہیں ؟ اور کن کاموں میں دیر نہیں کرنی چاہئے؟ یہ تفصیلات جاننے کے لئے کتاب کا مطالعہ جاری رکھئے جس کا نام شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادریدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ’’جلد بازی کے نقصانات‘‘ رکھا ہے۔ اللّٰہُ ربُّ العٰلمین عَزَّ وَجَلَّ ہمیں جلد بازی کی آفتوں سے بچائے ۔
اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
شعبہ اِصلاحی کتب مجلس المدینۃ العلمیۃ (دعوتِ اسلامی)
۱۵ذوالحجۃ الحرام۱۴۳۲ھ، بمطابق 12 نومبر 2011ء
سوچے سمجھے بغیر کوئی کام کرنا جلد بازی کہلاتا ہے ، اسے عُجلتبھی کہتے ہیں ۔ اگرانسان اپنے کاموں کو سوچ بچار اور غوروفِکر کے بعد شروع کرے تواسے توقُّف (یعنی ٹھہراؤ) کہتے ہیں اور کام کو ٹھہر ٹھہر کر آرام سے کرنا تاکہ کام بہتر طریقے سے اَنجام کو پہنچے اسے تحمل وبُردباری (اَنَاۃٌ) کہتے ہیں ۔(منہاج العابدین ص۷۵ملتقطاً)
انسان میں ثابِت قَدَمی کافُقدان اور اس کاجلد بازی کی طرف مَیلان شیطان کا اہم ہتھیار ہے ، حضورنبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’اَ لاَ ناۃُ مِنَ اللّٰہِ وَالْعَجَلَۃُ مِنَ الشَّیْطٰنیعنی غوروفِکراللّٰہعَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے اورجلدبازی شیطان کی طرف سے ہے۔‘‘(سنن الترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی التأنی والعجلۃ ، الحدیث : ۹۱۰۲، ج۳، ص۷۰۴)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الاُمَّت حضرت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : یعنی دُنیاوی یا دِینی کاموں کو اِطمینان سے کرنا اللّٰہ تَعَالٰی کے اِلہام سے ہے اور ان میں جلد بازی سے کام لیناشیطانی وَسوَسہ ہے۔(مرأۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح، ج۶، ص۶۲۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
انسان پر جلدبازی کے وقت حملہ کرو
جب حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ رُوحُ اللّٰہعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی وِلادت ہوئی تو شیطان کے تمام شاگرد اُس کے یہاں جمع ہوئے اور خبر دی : آج تمام بُتوں کے سر جھکے ہوئے ہیں !شیطان نے کہا : معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بڑا واقعہ ہوا ہے، تم یہیں ٹھہرو! میں معلوم کرتا ہوں ۔ چنانچہ اس نے مشرِق و مغرِب کا چکر لگایا مگر کچھ بھی پتا نہ چلا، یہاں تک کہ وہ حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ رُوحُ اللّٰہعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی جائے وِلادت پر پہنچا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ فِرِشتے حضرتِ عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو جُھرمٹ میں لئے ہوئے ہیں ۔ شیطان واپس اپنے شاگردوں کے پاس پہنچا اور کہنے لگا : گذشتہ رات ایک نبی کی وِلادت ہوئی ہے، میں ہر بچے کی وِلادت کے وَقت موجود ہوتا ہوں مگر مجھے اُن کی پیدائش کابالکل عِلم نہیں ہوسکا، لہٰذا اِس رات کے بعد بتوں کی عِبادت سے نااُمّید ہو جاؤ اس لئے اب انسان پر جلد بازی اور لاپرواہی کے وَقت حملہ کرو (یعنی اس طرح ہی اسے بت پرستی پر تیار کیا جاسکتا ہے)۔ (احیاء علوم الدین، کتاب شرح عجائب القلب، ج۳ص۱۴)
عملی قدم اٹھانے سے پہلے غورو فِکر کر لیجئے
شیطان جلد باز انسان کو ایسے طریقے سے بُرائی پر مائل کرتا ہے کہ انسان کو محسوس تک نہیں ہوتا، شیخُ الاسلام شہابُ الدِّین امام احمد بن حجر مکّی شافعی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادی فرماتے ہیں : ’’جلد بازی ہوتی تو شیطان کی طرف سے ہے مگر وہ خود جلدباز نہیں ہوتا بلکہ انسان کو اِس طرح آہستہ آہستہ برائی میں مبتلا کرتا ہے کہ اُسے خبر بھی نہیں ہوتی، لیکن جو شخص کوئی عملی قدم اٹھانے سے پہلے خوب غورو فِکر کر لیتا ہے تو اُسے اِس کام میں بصیرت حاصِل ہو جاتی ہے، لہٰذا جب تک کسی کام میں بصیرت حاصِل نہ ہو تواُس میں جلد بازی نہیں کرنی چاہئے سوائے اُس کام کے جس کا فوراً کرنا واجِب ہو اور اُس میں غوروفِکرکی کوئی گنجائش ہی نہ ہو۔‘‘(الزواجرعن اقتراف الکبائر، ج۱ص۸۱)
حضرت سیِّدُنا فخر الدین رازِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الباری تفسیرِ کبیر میں لکھتے ہیں : انسان کا سارا بدن گویاایک مکمل ریاست ہے ، اُس کا سینہ قَلعہ کی مانند ہے اور دل شاہی محل کے مُشابِہ ہے ، دل کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع