30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(6) اگر جلد بازی یا ٹینشن (Tensionیعنی پریشانی)کی حالت میں پڑھیں گے مثلاً کوئی آپ کو پُکاررہا ہے اور آپ پڑھے جارہے ہیں ، یا اِستنجاء کی حاجت ہے اور آپ مسلسل مُطالَعَہ کئے جارہے ہیں ، ایسے وَقت میں آپ کا ذہن کام نہیں کرے گا اور غلط فہمی کا اِمکان بڑھ جائے گا ۔
(7) کسی بھی ایسے انداز پر جس سے آنکھوں پر زور پڑے مَثَلاً بَہُت مدھم یا زیادہ تیز روشنی میں یا چلتے چلتے یا چلتی گاڑی میں یا لیٹے لیٹے یا کتاب پر جُھک کر مُطالَعَہ کرنا آنکھوں کے لیے مُضِر (یعنی نقصان دہ)ہے ۔بلکہ کتاب پر خوب جھک کر مُطالعہ کرنے یا لکھنے سے آنکھوں کے نقصان کے ساتھ ساتھ کمر اور پھیپھڑے کی بیماریاں بھی ہوتی ہیں ۔
(8) کوشِش کیجئے کہ روشنی اُوپر کی جانب سے آرہی ہو ، پچھلی طرف سے آنے میں بھی حرج نہیں جبکہ تحریر پر سایہ نہ پڑتا ہو مگر سامنے سے آنا آنکھوں کے لئے نقصان دہ ہے ۔
(9)مُطَالَعَہ کرتے وَقت ذِہن حاضِر اورطبیعت تَروتازہ (Fresh)ہونی چاہئے۔
(10) وَقتِ مُطالَعَہ ضَرورتاً قلم ہاتھ میں رکھنا چاہئے کہ جہاں آپ کو کوئی بات پسند آئے یا کوئی ایسا جملہ یا مسئلہ جس کی آپ کو بعد میں ضَرورت پڑ سکتی ہو ، ذاتی کتاب ہونے کی صورت میں اسے انڈر لائن (Under line)کرسکیں ۔
(11) کتاب کے شُروع میں عُمُوماً دو ایک خالی کاغذ ہوتے ہیں ، اس پر یادداشت لکھتے رہئے یعنی اشارۃًچند الفاظ لکھ کر اس کے سامنے صَفحہ نمبر لکھ لیجئے ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ اکثر کتابوں کے شروع میں یادداشت کے صفحات لگائے جاتے ہیں ۔
(12) مشکِل الفاظ پر بھی نشانات لگا لیجئے اور کسی جاننے والے سے دریافت کر لیجئے ۔
(13) صِرف آنکھوں سے نہیں زَبان سے بھی پڑھئے کہ اس طرح یاد رکھنا زیادہ آسان ہے ۔
(14) وقفے وقفے سے آنکھوں اور گردن کی ورزش (Exercise)کر لیجئے کیونکہ کافی دیر تک مسلسل ایک ہی جگہ دیکھتے رہنے سے آنکھیں تھک جاتیں اور بعض اوقات گردن بھی دُکھ جاتی ہے ۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ آنکھوں کو دائیں بائیں ، اوپر نیچے گھمائیے۔اسی طرح گردن کو بھی آہستہ آہستہ حرکت دیجئے۔
(15) اسی طرح کچھ دیر مُطالَعَہ کر کے دُرود شریف پڑھنا شروع کردیجئے اور جب آنکھوں وغیرہ کوکچھ آرام مل جائے تو پھرمُطالَعَہ شروع کر دیجئے۔
(16) ایک بار کے مُطالَعے سے سارا مضمون یاد رہ جانا بَہُت دُشوار ہے کہ فی زمانہ ہاضمے بھی کمزوراور حافِظے بھی کمزور ! لہٰذا دینی کتب ورسائل کا بار بارمُطالَعَہ کیجئے ۔
(17) مقولہ ہے : اَلسَّبَقُ حَرْفٌ وَ التَّکْرَارُ اَلْفٌ یعنی سبق ایک حرف ہو اور تکرار (یعنی دُہرائی ) ایک ہزار بار ہونی چاہئے۔
(18) جو بھلائی کی باتیں پڑھی ہیں ثواب کی نیّت سے دوسروں کو بتاتے رہئے ، اس طرح اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو یاد ہو جائیں گی۔(علم وحکمت کے 125مدنی پھول، ص۲۷)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
بعض اسلامی بھائی جب کسی سے ملنے پہنچتے ہیں تو رُکے بغیر مسلسل دروازہ پیٹتے ہیں یابار بار گھنٹی(Bell) بجاکر اہلِ خانہ کا سکون برباد کرتے ہیں ۔حالانکہ ہونا یہ چاہئے کہ دستک(Knock) دے کر تھوڑا اِنتظارکیا جائے تاکہ کسی کو دروازے پر آنے کا موقع مل سکے، یہ بھی ممکن ہے کہ صاحبِ خانہ استنجاء خانے(Toilet) میں ہوں یا پھر نَماز پڑھ رہے ہوں اس لئے اگر تھوڑی دیر تک جواب نہ ملے تو پریشان ہوئے بغیر دوسری دستک دیجئے اور تھوڑے وقفے کے بعد تیسری دستک دیجئے ، پھر بھی جواب نہ ملے تو ناراض ہوئے بغیر لوٹ آئیے اور دستک کے جواب میں اگر کوئی اندر سے پوچھے : کون ہے؟ باہَر والے کو چاہئے کہ اپنا نام بتائے : مَثَلاً کہے : ’’ محمد شاہد۔‘‘ نام بتانے کے بجائے اس موقع پر ’’مدینہ! ‘‘، میں ہوں !‘‘ ’’دروازہ کھولو‘‘ وغیرہ کہنا سنّت نہیں ، جواب میں نام بتانے کے بعد دروازے سے ہٹ کر کھڑے ہوں تا کہ دروازہ کھلنے کے وقت گھر کے اندر نظر نہ پڑے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
بعض اسلامی بھائی ہرسنی سنائی بات کو بلاتحقیق جلدی سے آگے بڑھا دیتے ہیں اور افواہ سازی (Rumor making)میں کلیدی کردار (Key role)ادا کرتے ہیں حالانکہ فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے : ’’انسان کے جھوٹا ہونے کیلئے یہ بات کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کر دے ۔‘‘(صحیح مسلم ، کتاب الایمان، رقم الحدیث۵، ص۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۴۹)کسی کے بارے میں رائے قائم کرلینے میں جلد بازی
کسی کے ظاہری حلیے کو دیکھ کر ایک دَم کسی کے بارے میں اچھی یا بُری رائے قائم کرلینا شَر مِندَگی اور نقصان سے دوچار کروا سکتا ہے ، ایک سچی حکایت ملاحظہ ہو، چنانچِہ
ایک شخص کا بیان ہے کہ ایک روز میرے پاس ایک نہایت ہی شکستہ حال انسان انتہائی بوسیدہ لباس پہنے ہوئے آیا اوراچانک میری اجازت کے بغیرمیری مسند پر براجمان ہوگیا۔ اپنا نام ابو یعقوب بصری بتایا اور میری طرف مخاطب ہو کر فخریہ لہجے میں کہا : سَلْ یا فتٰی عَمَّا بَدَالَکَ یعنی اے جوان! جو تیرے دل میں آئے مجھ سے پوچھ لے ۔ مجھے اس کے اس فخر آمیز لب و لہجہ پر بڑا غصہ آیا اور میں نے طنز کے طور پر کہہ دیا کہ اگر حجامت ( یعنی پچھنا لگانے) کے بارے میں جناب کو کچھ معلومات ہوں تو اِرشاد فرمائیے؟ یہ سن کر ایک دم وہ شخص سنبھل کر بیٹھ گیا اور حدیث ’’اَفْطَرَ الْحاجِمُ وَالْمَحْجُوْم‘‘ کی تمام روایات کو بیان کرکے بتانے لگا کہ کِن کِن سندوں سے یہ حدیث مُسند ہے اور کِن کِن سندوں سے یہ حدیث موقوف و مُرسل ہے اور کون کون سے فقہا ء کا اس پر عمل ہے؟ پھر اس نے حضور اکرم صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم کے پچھنا لگانے کے مختلف مقامات، مختلف طریقے، پچھنا لگانے والوں کے نام، پچھنا لگانے کی اُجرتوں اور ان کے احکام کا تفصیلی بیان کیا ، حدیث و فقہ کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع