دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jald Bazi kay Nuqsanat | جلد بازی کے نقصانات

book_icon
جلد بازی کے نقصانات

پر میری رحمت ہے‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :  یعنی اس پر میری کامِل رحمت ہے اس طرح کہ میں اس سے راضی ہوگیا خیال رہے کہ اللّٰہ  کی رضا تمام نعمتوں سے اعلیٰ نعمت ہے، جب رب  تَعَالٰی  بندے سے راضی ہوگیا تو کَونَین (یعنی دونوں جہان)بندے کے ہوگئے، آسمانوں میں اس کے نام کی دُھوم مچ جاتی ، شور مچ جاتا ہے کہ رحمۃ اﷲ علیہ یہ کلمہ دُعائیہ ہے، یعنی اللّٰہ  تَعَالٰی  اس پر رحمت کرے، یہ دعا یا تو فرشتوں کی محبت کی وجہ سے ہوتی ہے یا خود وہ فِرِشتے اپنا قُربِ الٰہی بڑھانے کے لیے یہ دعائیں دیتے ہیں اچھوں کو دعائیں دینا قُربِ الٰہی کا ذریعہ ہے جیسے ہمارا دُرُود شریف پڑھنا۔

(مراٰۃ المناجیح، ج۳، ص۳۹۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۴۵)موت کی طَلَب میں جلد بازی (خودکشی)

        مصائب سے تنگ آکر، خواہشات پوری نہ ہونے پر، سہولیات وآسائشات سے محروم ہونے کے سبب اورگھریلوجھگڑوں وغیرہ کی وجہ سے اپنے ہاتھ خود کو موت کے منہ میں دھکیل دینا خودکشی(Suicide) ہے جو گناہِ کبیرہ حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے ۔  پارہ 5 سورۃُالنّساء  آیت نمبر29اور30میں اِرشادِ باری  تَعَالٰی  ہے :  
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ- وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا(۲۹)وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًاؕ-وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا(۳۰)

ترجَمَۂ کنزالایمان :  اے ایمان والو!  آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ، مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رِضا مندی کا ہو اور اپنی جانیں قتل نہ کرو بے شک اللّٰہ (عَزَّ وَجَلَّ  )تم پر مہربان ہے۔ اور جو ظلم و زیادَتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخِل کریں گے اور یہ اللّٰہ(عَزَّ وَجَلَّ  )کو آسان ہے ۔

         وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ- (یعنی اور اپنی جانیں قتل نہ کرو)کے تَحت حضرتِ علّامہ  مولانا سیّد محمد نعیم الدین مُراد آبادی  علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادی’’ خَزائنُ العِرفان‘‘ میں فرما تے ہیں : مسئلہ : اس آیت سے خود کُشی کی حُرمَت ( یعنی حرام ہونا ) بھی  ثابِت ہوئی ۔

آگ میں عذاب

    یاد رکھئے ! خودکشی کرنے سے جان چھوٹتی نہیں بلکہ پھنستی ہے چنانچہ حدیثِ پاک میں ہے : ’’جوشَخص جس چیز کے ساتھ خود کُشی کرے گا وہ جہنّم کی آگ میں اُسی چیز کے ساتھ عذاب دیا جائے گا۔ ‘‘

(صحیح البخاری ج ۴ص۲۸۹ حدیث۶۶۵۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۴۶)مطالعہ کرنے میں جلد بازی

        مطالعہ(Study)  حُصُولِ عِلم کا بہترین ذریعہ ہے لیکن جلد بازی سے مطالعہ کرنے کی وجہ سے بہت سی باتیں مکمل سمجھ نہیں آتیں اور مقصدِمطالعہ فوت ہوجاتا ہے، اس لئے بہت سکون سے نیچے دئیے گئے مَدَنی پھولوں کے مطابق مطالعہ کرنے کی عادت بنالیجئے، اِنْ شَآءَاللہ  عَزَّ وَجَلَّ     آپ کو اس مطالعے سے بہت کچھ حاصِل ہوگا ۔

حدیثِ پاک :

’’اَلْعِلْمُ اَفْضَلُ مِنَ الْعِبَادَۃِ ‘‘ کے اٹھارہ حُرُوف کی نسبت سے دینی    مُطالَعَہ کرنے کے 18مَدَنی پھول

(1)اللہ عَزَّ وَجَلَّ   کی رضا اور حُصولِ ثواب کی نیَّت سے مُطالَعَہ کیجئے۔

(2)مُطالَعَہ شروع کرنے سے قبل حمد و صلوٰۃ پڑھنے کی عادت بنایئے، فرمانِ مصطَفٰے صلّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم ہے :  جس نیک کام سے قبل اللہ   تَعَالٰی  کی حمد اور مجھ پر دُرُود نہ پڑھا گیا اس میں بَرَکت نہیں ہوتی۔(کنزالعمال ج۱، ص ۹۷۲، حدیث۷۰۵۲) ورنہ کم از کم بسم اللّٰہ شریف تو پڑھ ہی لیجئے کہ ہر صاحِبِ شان کام کرنے سے پہلے بسم اللّٰہ پڑھنی چاہیے  [1]؎  ۔ (ایضًا، ص۲۷۷حدیث ۲۴۸۷)

(3)دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 32 صَفحات پر مشتمل رسالے ، ’’جنات کا بادشاہ‘‘کے صَفْحَہ23پر ہے : قبلہ رُو بیٹھئے کہ اِس کی بَرَکتیں بے شُمار ہیں چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا امام بُرہانُ الدّین ابراہیم زَرنوجی علیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ القوی فرماتے ہیں :  دو طَلَبہ علمِ دین حاصِل کرنے کیلئے پردیس گئے، دو سال تک دونوں ہم سبق رہے، جب وطن لوٹے تو ان میں ایک فَقِیہ (یعنی زبردست عالم ) بن چکے تھے جبکہ دوسرا علم و کمال سے خالی ہی رہا تھا۔ اُس شہر کے عُلَمائے کرام رَحِمَھُمُ اللّٰہُ السلام نے اِس اَمْر پر خوب غَور و خَوض کیا، دونوں کے حُصولِ علم کے طریقۂ کار ، اندازِ تکرار اور بیٹھنے کے اَطوار وغیرہ کے بارے میں تحقیق کی تو ایک بات جو کہ نُمایاں طور پر سامنے آئی وہ یہ تھی کہ جو فَقِیہ بن کے پلٹے تھے اُن کا معمول یہ تھا کہ وہ سبق یاد کرتے وَقت قِبلہ رُوبیٹھا کرتے تھے جبکہ دوسرا جو کہ کَورے کا کَور ا پلٹا تھا وہ قبلہ کی طرف پیٹھ کرکے بیٹھنے کا عادی تھا، چُنانچِہ تمام عُلَماء و فُقَہائِ کرام رَحِمَھُمُ اللّٰہُ السَّلام اِس بات پرمُتَِّفق ہوئے کہ یہ خوش نصیب اِستِقبالِ قِبلہ(یعنی قبلہ کی طرف رُخ کرنے) کے اِہْتِمام کی بَرَکت سے فَقِیہ بنے ہیں کیوں کہ بیٹھتے وقْت کَعْبۃُاللّٰہ شریف کی سَمْت مُنہ رکھنا سنّت ہے۔ (تعلیم المتعلّم طریق التعلم ص ۷۶)

(4)  صُبْح کے وَقت مُطالَعہ کرنابَہُت مُفِید ہے کیونکہ عُمُوماًاِس وَقت نیند کا غَلَبَہ نہیں ہوتا اورذِہن زیادہ کام کرتا ہے ۔

(5)  شوروغُل سے دُورپُر سکون جگہ پر بیٹھ کر مطالعہ کیجئے ۔

 



     اِ س کتاب کے شروع میںدی ہوئی حمد و صلوٰۃ پڑھ لی جائے تو  اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ دونوں حدیثوں پر عمل ہو جائیگا۔ [1]

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن