30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۴۱) بِل وغیرہ جمع کروانے میں جلد بازی
بجلی وگیس کے بل (Bill)یا دیگر فارم(Form) وغیرہ جمع کرواتے وقت عموماقطار بنالی جاتی ہے مگر بعض جلد باز اسے بھی دَرہم بَرہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور قطار میں کھڑے ہونے والوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا کام پہلے کروانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں مگر دوسروں کے دل پر کیا گزرتی ہے ؟انہیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔
(۴۲)غم ناک خبرسنانے میں جلد بازی
کسی کو وفات یا کسی سنگین حادثے یا نقصان کی خبر دینے سے پہلے اس کی کیفیت کو ضرور مدِّ نظر رکھنا چاہئے پھر مناسب الفاظ میں تمہید باندھنے کے بعد وہ خبر اسے سنانی چاہئے ، ورنہ کئی ایسے واقعات ہیں کہ کسی کمزور دل والے کو اس کے کسی عزیز کے انتقال کی خبر دی گئی تو اس کے صدمے سے اس کوہارٹ اٹیک (Heart attack) ہوگیا اور وہ خود بھی موت سے ہمکنا ر ہوگیا ۔خبر کس طرح سنانی چاہئے ، ایک سچی حکایت ملاحظہ کیجئے :
دعوت ِ اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے مرحوم رکن مفتیٔ دعوتِ اسلامی الحاج مفتی محمد فاروق عطاری مدنی علیہ رحمۃ الغنی کے وِصال کے وقت شیخ ِطریقت ، امیر اہل سنت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمدالیاس عطار قادریدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اِسلامی کتابوں کے تحریری کام کے سلسلے میں ملک سے باہر تھے کیونکہ پاکستان میں موجود ہونے کی صورت میں خَلقت کا آپ کی طرف اس قدر رُجوع ہوتا ہے کہ آپ یکسوئی سے تحریری کام نہیں کر پاتے۔رات آٹھ بجے کے بعد امیرِاہل سنت مدظلہ العالی کو مفتیٔ دعوتِ اسلامی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الغَنِی کے اِنتِقَال کی اِطِّلاع دی گئی۔ دراصل بابُ المدینہ سے جانے والافون آپ کے ساتھ مُقِیم اسلامی بھائی نے وُصول (Receive)کیا اور اُس نے امیرِ اہل سنت مدظلہ العالی کو فوراً نہ بتایا بلکہ جب اطمینان سے رات کے کھانے اور چائے سے فارغ ہوچکے تب اسلامی بھائی کے لب وا ہوئے اور اُن کی آنکھوں سے رُکے ہوئے اَشک بہہ نکلے، انہوں نے مختصر الفاظ میں مفتیٔ دعوتِ اسلامی کی رِحلَت کی خبرِ وحشت اثر امیرِ اہلسنّت مدظلہ العالی کوسنائی۔ اپنے مَدَنی بیٹے کی دنیا سے رخصتی کی درد انگیز خبر ملنے پر بانیٔ دعوتِ اسلامی مدظلہ العالی بھی صدمے سے نڈھال نظر آنے لگے اور رقّتِ قلبی کی وجہ سے آپ کی چشمانِ مبارکہ میں آنسوؤں کے ستارے جھِلْمِلانے لگے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
کس کو ؟ کس وَقت ؟ کس طرح سمجھانا چاہئے یہ گُر سیکھنا اُن اسلامی بھائیوں کے لئے بہت ضروری ہے جو اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کا جذبہ رکھتے ہیں ۔ کسی کی اِصلاح کرنا بہت نازُک(Critical) کام ہے ذرا سی جلد بازی بنابنایا کھیل بگاڑ دیتی ہے ۔ بعض والدین اپنی اولادکویا بڑے بھائی چھوٹے بھائیوں کو سب کے سامنے ان کی غلطیوں پر تنبیہ کرنا بلکہ جھاڑنا شروع کردیتے ہیں جس سے وہ اپنی سبکی (Insult)محسوس کرتے ہیں اور مناسب اِصلاح نہیں ہوپاتی ۔جب تک کوئی مصلحت نہ ہو تنہائی میں شفقت کے ساتھ سمجھانے کے خوشگوار نتائج نکلتے ہیں ۔حضرت سیدناابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ’’جس نے اپنے بھائی کو سب کے سامنے نصیحت کی اس نے اس کو ذلیل کر دیا اور جس نے تنہائی میں نصیحت کی اس نے اس کو مزین (آراستہ) کردیا۔‘‘
(تنبیہ الغافلین ص۹۴ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
انسانی زندگی خوشی اور غمی سے عبارت ہے لیکن بعض اسلامی بھائی پریشانی یا مصیبت آتے ہی شکوہ وشکایت کا اَنبار لگا دیتے ہیں ، ایسا نہیں کرنا چاہئیے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اس مصیبت سے بھی بڑی مصیبت ہم پر آنے والی ہو مگر چھوٹی مصیبت دے کر اسے ہم سے دُور کردیا گیا ہو لہٰذاجب انسان کو کوئی غم ملے تو صبر کرنا اور رضائے الہٰی پر راضی رہنا ہی عَقل مندی ہے ۔
حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز سے پوچھا گیا : مَا تَشْتَہِیْیعنی آپ کی کیا خواہش ہے؟ فرمایا : مَا یَقْضِی اللّٰہُیعنی جو اللہ تَعَالٰی کا حُکم ہو۔(احیاء علوم الدین، ج۱، ص۶۶)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللّٰہ تَعَالٰی کی رضا پر راضی رہنا سعادت مندوں کا شیوہ ہے اور کیوں نہ ہو کہ ہمارے میٹھے میٹھے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ یہ دعا مانگا کرتے تھے : یااللّٰہ میں تجھ سے تندرستی ، پاک دامنی، امانت داری اور اچھے اخلاق اور تقدیر پر رضا مانگتا ہوں ۔ (کتاب الادب للبخاری، ص۸۶ ، الحدیث ۳۰۷)
رضائے الٰہی پر راضی رہنے والے کو بیش بہا بَرَکتیں ملتی ہیں !چُنانچِہ حضورِ اکرم، شفیع معظم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : بندہ اللّٰہ تَعَالٰی کی رضا تلاش کرتا رہتا ہے ، اسی جستجو میں رہتا ہے، اللّٰہ تَعَالٰی جبرائیل (علیہ السلام)سے فرماتا ہے کہ فلاں میرا بندہ مجھے راضی کرنا چاہتا ہے مطلع رہو کہ اس پر میری رحمت ہے ، تب جبرائیل (علیہ السلام) کہتے ہیں فلاں پراللّٰہکی رحمت ہے، یہی بات حاملینِ عرش فِرِشتے کہتے ہیں ، یہی ان کے اردگرد کے فِرِشتے کہتے ہیں حتّٰی کہ ساتویں آسمان والے یہ کہنے لگتے ہیں پھر یہ رحمت اس کے لیے زمین پر نازل ہوتی ہے۔
( مسنداحمد، الحدیث ۴۶۴۲۲، ج۸، ص۸۲۳)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : (بندہ اللّٰہکی رضا تلاش کرتا رہتا ہے) اس طرح کہ اپنے ہردینی و دنیاوی کاموں سے رب تَعَالٰی کی رضا چاہتا ہے کہ کھاتا پیتا، سوتا جاگتا بھی ہے تو رضائے الٰہی کیلئے، نَماز و روزہ تو بہت ہی دور رہے خدا تَعَالٰی اس کی توفیق نصیب کرے۔‘‘حدیثِ پاک کے اس حصے کہ ’’اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع