30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فیصلوں میں ٹائم سیونگ (Time savingیعنی وقت بچانے والی)چیزوں کا انتخاب کرتے ہیں ، خواہ وہ انکے لیے فائدہ مند ہوں یا نہیں ؟ اصل میں فاسٹ فوڈز کا مقصد کم وَقت میں جلدی جلدی کھانا ہے اور یہی عادت کھانے والوں کے رویے پر اثر ڈالتی ہے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۳۷) بد گمانی کرنے میں جلد بازی
نبی مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہے : ’’بدگُمانی سے بچو بے شک بدگُمانی بدترین جھوٹ ہے ۔‘‘
(صحیح البخاری ، کتاب النکاح، باب مایخطب علی خطبۃ اخیہ، الحدیث۵۱۴۳، ج۳، ص۴۴۶)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جلد بازی میں کئے جانے والے گناہوں میں سے ایک گناہ بدگمانی بھی ہے ، اس میں جلدی تو کیا تاخیر سے بھی مبتلا نہیں ہونا چاہئے مگر افسوس کہ والدین ا ولاد ، بھائی بہن، زوج و زوجہ، ساس بہو ، سُسرداماد، نند بھاوج بلکہ تمام اہلِ خانہ و خاندان نیز استاد شاگرد ، سیٹھ اور نوکر ، تاجِر و گاہک ، افسر و مزدور ، حاکِم و مَحکُوم الغرض ایسا لگتا ہے کہ تمام دینی و دُنْیوی شُعبوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی اکثریت اِس وَقت بدگُمانی کی خوفناک آفت کی لپیٹ میں ہے۔ کسی کو موبائل پر فون کریں اور وہ وصول( Receive)نہ کرے تو بدگُمانی … شوہر کی تَوَجُّہ بیوی کی طرف کم ہو گئی تو فوراً ساس سے بد گُمانی …بیٹے کی توجُّہ کم ہو گئی تو فوراً بہو سے بدگُمانی… کسی فیکٹری سے اچھی نوکری سے فارغ ہوگئے تو دفتر کے کسی فَرْد سے بدگُمانی… کاروبار میں نُقصان ہو گیا تو قریبی کاروباری حَرِیف سے بدگُمانی …تنظیمی طور پر خِلافِ تَوَقُّع بات ہو گئی تو ذِمہ داران سے بدگُمانی…اِجْتِماع ذِکْر ونعت کے اِنْتِظامات میں کمزوری ہو ئی تو فوراً مُنْتَظِمِین سے بدگُمانی …اجتماع ذکر ونعت میں کوئی شخص جُھوم رہا ہے یا رورہا ہے تو بدگُمانی…کسی بُزُرگ یا پیر نے اپنے مُرِیْدِیْن یا متعلِّقِین کی ترغِیب کے لئے کوئی اپنا واقِعہ بیان کردیا تو فوراً ان سے بد گُمانی …جس نے قَرْض لیا اور وہ رَابِطے میں نہیں آرہا یا جس سے مال بُک کروالیا وہ مِل نہیں رہا تو فوراً بد گُمانی … کسی نے وَقْت دیا اور آنے میں تاخیر ہو گئی تو بد گُمانی …فُلاں کے پاس تھوڑے ہی عرصے میں گاڑی ، اچھّا مکان اور دیگر سہولیات آگئیں فوراً بد گُمانی ، اُسے شہرت مل گئی تو بدگُمانی ۔آپ غور کرتے جائیں تو شب و روز نہ جانے کتنی مرتبہ ہم بد گُمانی کا شکار ہوتے ہوں گے ۔پھر یہ اِبتداء ًپیدا ہو نے والی بدگُمانی اُس شخص کے عیبوں کی ٹوہ میں لگاتی، حَسَد پر اُبھارتی، غِیبت اور بُہْتَان پر اُکساتی اور آخِرت برباد کرتی ہے۔ اِسی بدگُمانی کی وجہ سے بھائی بھائی میں دُشمنی ہوجاتی ہے ، ساس بہومیں ٹَھن جاتی ہے ، میاں بیوی میں جُدائی، بھائی بہنوں کے درمیان قَطْع تَعَلُّقِی ہوجاتی ہے اور یوں ہنستے بستے گھر اُجڑجاتے ہیں اور اگر یہی بدگُمانی کسی مذہبی تحریک سے وابستہ اَفراد میں آجائے تو نِگران ومَاتَحْت کے درمیان اِعْتِماد کی فضا ختم ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے ناقابِل بیان نُقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
اللّٰہعَزَّ وَجَلَّ نے قراٰن پاک میں اِرشاد فرمایا :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ (پ۲۶، الحجرٰت : ۱۲)
ترجمۂ کنزالایمان : اے ایمان والو! بَہُت گُمانوں سے بچو بیشک کوئی گُمان گناہ ہو جاتا ہے۔
حضرت علّامہعبداللّٰہ ابو عُمَر بن محمد شیرازی بَیضاوی علیہ رحمۃ اللّٰہ الھادی کثرتِ گُمان سے مُمانَعَت کی حِکمت بیان کرتے ہوئے تفسیرِبیضاوی میں لکھتے ہیں : ’’تاکہ مسلمان ہر گُمان کے بارے میں مُحْتَاط ہوجائے اور غور وفِکْر کرے کہ یہ گُمان کس قبیل سے ہے ۔‘‘(تفسیر بیضاوی، پ۲۶، الحجرٰت، تحت الآیۃ۲۱، ج۵، ص۲۱۸)اس آیت کریمہ میں بعض گُمانوں کو گناہ قرار دینے کی وجہ بیان کرتے ہوئے اِمام فخرُالدین رازِی علیہ رحمۃاللّٰہ الھادی لکھتے ہیں : ’’کیونکہ کسی شخص کا کام دیکھنے میں تو بُرا لگتا ہے مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا کیونکہ ممکن ہے کہ کرنے والا اسے بھول کر کررہا ہو یا دیکھنے والا ہی غَلَطی پر ہو ۔‘‘(التفسیر الکبیر، پ۲۶، الحجرٰت، تحت الآیۃ،۱۲ ج۰۱، ص۱۱۰)
نیک مسلمان کی بات کا بُرا مطلب لینا بھی بدگمانی ہے
صدرُ الْاَفَاضِل حضرت مولانا سیدمحمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادیتفسیر خزائن العرفان میں لکھتے ہیں : ’’مومِنِ صالِح کے ساتھ برا گُمان ممنوع ہے اس طرح (کہ )اُس کا کوئی کلام سن کر فَاسِد معنیٰ مراد لینا باوُجُودیکہ اس کے دوسرے صحیح معنی موجود ہوں اور مسلمان کا حال ان کے مُوَافِق ہو یہ بھی گُمانِ بد میں دَاخِل ہے ۔‘‘(خزائن العرفان، پ۲۶ الحجرٰت : ۱۲)
شیخ فرید الدین عطّارعلیہ رحمۃ اللّٰہ الغفار (اَ لْمُتَوَفّٰی606ھ)لکھتے ہیں : دو درویش طویل سفر کے بعد حضرت ابو عبداللّٰہ خفیفعلیہ رحمۃ اللّٰہ اللطیف سے ملنے پہنچے تو معلوم ہوا کہ آپ شاہی دربار میں جلوہ فرما ہیں ۔ یہ سن کر ان لوگوں نے سوچا کہ یہ کس قِسْم کے بُزُرگ ہیں جو شاہی دربار میں حاضِری دیتے ہیں ۔ بہرحال یہ دونوں بازار کی طرف نکل گئے اور اپنی جیب سلوانے کے لئے ایک درزی(Tailor) کی دُکان پر پہنچے۔ اسی دوران درزی کی قینچی گم ہوگئی اور اس نے ان دونوں کو چوری کے شبہ میں گِرِفتار کروا دیا ۔ جب پولیس (Police)دونوں کو لے کرشاہی دربار میں پہنچی تو حضرت ابو عبداللّٰہ خفیفعلیہ رحمۃ اللّٰہ اللطیف نے بادشاہ سے اِن کی سِفارِش کرتے ہوئے فرمایا : ’’یہ دونوں چور نہیں ہیں ، لہٰذا اِن کو چھوڑدیا جائے ۔‘‘چنانچہ آپ کی سفارش پر ان دونوں کو رِہا کردیا گیا ۔ اس کے بعد آپ نے ان دونوں سے فرمایا : ’’میں اسی وجہ سے دربارِ شاہی میں موجود رہتا ہوں ۔‘‘یہ سن کر وہ دونوں معذرت کرنے لگے اور آپ کے عقیدت مندوں میں شامل ہوگئے۔ [1]؎
(تذکرۃ الاولیاء، ذکرابو عبد اللّٰہ خفیف، ص۱۰۹)
؎ مجھے غیبت و چغلی و بدگمانی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع