دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jald Bazi kay Nuqsanat | جلد بازی کے نقصانات

book_icon
جلد بازی کے نقصانات

اس نے شراب کا گھونٹ بھرتے ہی کلّی کردی ہو یا کسی نے اسے زبردستی شراب پلادی ہو ، جب یہ سب اِحتمال موجود ہیں تو (ثبوتِ شَرعی کے بغیر)محض قلبی خیالات کی بنا پر تصدیق کردینا اور اس مسلمان کے بارے میں بدگُمانی کرنا جائز نہیں ہے ۔‘‘(احیاء علوم الدین، کتاب آفات اللسان، ج۳، ص۶۸۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۲۷)فیصلہ کرنے میں جلد بازی

        جب کسی معاملے میں دو یا دو سے زائد فریق وابستہ ہوں تو کسی ایک کی سن کر حتمی رائے قائم کرنے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہئے بلکہ سب کی سننے کے بعد ہی کسی نتیجے پر پہنچنا چاہئے کیونکہ بسااوقات فریقِ واحد کو بولنے کا فن آتا ہے یا جھوٹ موٹ کے آنسو بہاکر وہ دوسرے فریق پر حاوِی ہونے کی کوشِش کرتا ہے ۔  [1]؎

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(۲۸) خرید وفروخت میں جلد بازی

        ہرخاص وعام کو کچھ نہ کچھ خریدنا یا بیچنا پڑتا ہے ، اس حوالے سے بھی جلد بازوں کی کمی نہیں جو دکاندار(Shop keeper) کی چِکنی چُپڑی باتوں میں آکر غیر مِعیاری اشیاء مہنگے داموں خرید بیٹھتے ہیں یا کبھی انہیں اپنی پرانی چیز بیچنے کی ضرورت پڑتی ہے توتجرِبہ نہ ہونے کی وجہ سے نقصان اُٹھاتے ہیں پھر اپنے کئے پر پچھتاتے ہیں ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۲۹) جھگڑا مول لینے میں جلد بازی

        بات بات پر اُلجھنے ، جھگڑا مول لینے والے جلد باز خود تونفسیاتی، معاشرتی اور جسمانی نقصان اٹھاتے ہی ہیں مگر دوسروں کا بھی سکون برباد کر کے رہتے ہیں ۔ ایک تصوُّراتی حکایت ملاحظہ ہو :

ظالم کی مدد

        زید ایک جگہ سے گزرا تو دیکھا کہ ایک بچہ کھڑا زاروقِطار رو رہا ہے اور قریب ہی ایک شخص نے اپنے سے کمزور آدمی کو دبوچ رکھا ہے اور اس کی ’’خاطر تواضع‘‘ کر رہا ہے ، زید نے آؤ دیکھا نہ تاؤ! اس’’مظلوم ‘‘ کی مدد کے لئے بیچ میں کود پڑا اوردبوچنے والے کی دُھنائی شروع کردی ، اس شخص نے زید سے کچھ کہنا چاہا مگر اس کو سننے کا ہوش کہاں تھا، ان دونوں کے گتھم گتھا ہونے کی دیر تھی وہ کمزور اور’’مظلوم‘‘ آدمی وہاں سے بھاگ نکلا ، جب زید کو بتایا گیا کہ جس کو جلد بازی میں وہ مظلوم سمجھ بیٹھا تھا درحقیقت ایک ظالم لُٹیرا تھا جو بچے سے پیسے چھین کر بھاگ رہا تھا کہ دھر لیا گیا مگر زید کی جلد بازی کی وجہ سے اسے فرار ہونے کا موقع مل گیا ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۳۰)  شرعی مسئلہ بتانے میں جلد بازی

        اپنی لاعلمی کا اِعتراف کرنے سے شرمانے والوں سے اگر کوئی دینی مسائل کے بارے میں سوال کرلے تو جلدی سے کوئی نہ کوئی غَلَط سَلَط جواب دے کر اپنی عزت بچانے کی کوشِش کرتے ہیں حالانکہ اِس طرح عزت بچتی نہیں بلکہ رُسوائی  مقدر بنتی ہے بلکہ بعض اوقات تو معاملہ بہت نازُک شکل اِختیار کر لیتا ہے ، چنانچہ

چھوٹی سی شیشی

         منقول ہے :  بعدنَمازِ عصر شیاطین سَمُندَ ر پر جَمع ہوتے ہیں ، ابلیس کا تَخت بِچھتا ہے، شیاطین کی کارگُزاری پیش ہوتی ہے، کوئی کہتا ہے :  اس نے(یعنی میں نے) اتنی شرابیں پلائیں ، کوئی کہتا ہے ، اِس نے(یعنی میں نے) اتنے زِنا کرائے، سب کی سُنیں ۔ کسی نے کہا : اس نے(یعنی میں نے) آج فُلاں طالِبِ علمِ (دین) کو پڑھنے سے باز رکھا۔(شیطان یہ) سنتے ہی تَخت پر سے اُچھل پڑا اور اس کو گلے سے لگا لیا اور کہا :  اَنْتَ اَنْتَ(یعنی بس)تُو نے (زور دار ) کام کیا۔ اور شیاطین یہ کیفیت دیکھ کر جل گئے کہ اُنہوں نے اِتنے بڑے بڑے کام کئے ان کو کچھ نہ کہا اور اس(شیطان کے چَیلے) کو(طالبِ علم دین کو صِرف ایک چھٹی کروا دینے پر) اتنی شاباش دی! اِبلیس بولا :  تمہیں نہیں معلوم جو کچھ تم نے کیا ، سب اِسی(علمِ دین پڑھنے سے روکنے والے) کا صدقہ ہے۔ اگر(دینی)عِلم ہوتا تو وہ (لوگ)گُناہ نہ کرتے ۔ بتاؤ !وہ کون سی جگہ ہے جہاں سب سے بڑا عابِد(عِبادت گزار) رہتا ہے مگر وہ عالِم نہیں اور وہاں ایک عالِم بھی رہتا ہو۔ اُنہوں نے ایک مقام کا نام لیا۔ صبح کو قبلِ طُلوعِ آفتاب(ابلیس اپنے چَیلے) شیاطین کولئے ہوئے اُس مقام پرپہنچا ۔ اور شیاطین مَخفی(چُھپے)رہے اور یہ(یعنی ابلیس) انسان کی شکل بن کر رَستہ پر کھڑا ہو گیا۔ عابِد صاحِب تَہَجُّد کی نَماز کے بعد، نَمازِ فجر کے واسِطے مسجِد کی طرف تشریف لائے ۔ راستہ میں اِبلیس کھڑا ہی تھا، حضرت! مجھے ایک مسئلہ (مَس۔ئَ۔لَہ)پوچھنا ہے۔ عابِد صاحِب نے فرمایا :  جَلد پوچھو۔ مجھے نَماز کو جانا ہے۔ اِس(اِبلیس) نے اپنی جیب سے ایک شیشی نکال کر پوچھا :  (کیا)اللّٰہ تَعَالٰی  قادِر ہے کہ ان سَماوات و ارض (یعنی آسمانوں اور زمینوں ) کو اِس چھوٹی سی شیشی میں داخِل کر دے؟ عابِد صاحِب نے سوچا اور کہا :  ’’کہاں آسمان و زمین اورکہاں یہ چھوٹی سی شیشی!‘‘(اِبلیس) بولا :  بس یِہی پوچھنا تھا تشریف لے جایئے اور(پھر اپنے چَیلے) شیاطین سے کہا : دیکھو (میں نے )اس(عابِد) کی راہ مار دی، اس کواللّٰہکی قدرت پر ہی ایمان نہیں (اِس بے ایمان مُرتد کے اب ) عِبادت کس کام کی!طُلُوعِ آفتاب کے قریب عالِم صاحِب جلدی کرتے ہوئے تشریف لائے اُس (اِبلیس)نے کہا : مجھے ایک مسئلہ پوچھنا ہے۔ اُنہوں نے فرمایا :  جلدی پوچھو نَماز کا وَقت کم ہے۔ اِس نے وُہی سُوال کیا۔(سُن کر عالم صاحِب نے فرمایا : ) ملعون !تُو اِبلیس معلوم ہوتا ہے، ارے! وہ قادِر ہے کہ یہ شیشی تو بَہُت بڑی ہے ایک سُوئی کے ناکے کے اندر اگر چاہے تو کروڑوں آسمان و زمین داخِل کردے۔

اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠(۲۰)

 



1       فیصلہ کرنے کے حوالے سے تفصیلی معلومات کے لئے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کا مطبوعہ رسالہ ’’فیصلہ کرنے کے مدنی پھول‘‘ملاحظہ کیجئے۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن