30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وہ بات کہی جسے صِرف میں جانتا تھا یامیرے گھر والے۔ میں وہ بات سن کرچونکا تو وہ مسکرا کرکہنے لگا ’’اور کیا جاننا چاہتا ہے؟ اللّٰہ والے دل کی باتیں جان لیتے ہیں ، جاتیری ساری پریشانیاں ختم ہوجائیں گی، اللّٰہ والے کی دعا ہے، جا چلا جا، تیرا ستارہ بہت جلد چمکنے والا ہے ۔ ‘‘ یہ سن کرمیں تو اس کاگَروِیدہ ہوگیا اور بے ساختہ اس کے ہاتھ چوم لئے اور کہنے لگا کہ آپ اللّٰہ والے ہیں ، مجھ پرکرم فرمادیں ۔ یہ سن کر اس نے کچھ دیر کیلئے سر جھکا لیااور پھر بولا : لا رقم دے تو میں ’’دُگنی‘‘ کردوں ۔ میں نے فوراً 100کا نوٹ اس کے ہاتھ میں دے دیا۔ اس نے وہ نوٹ ہاتھ میں لیا اورکچھ پڑھنے کے بعد اس پر دَم کرکے میری ہتھیلی پر رکھا اور مٹھی بند کردی ۔پھر کہا’’ مٹھی کھول …!‘‘ جیسے ہی میں نے مٹھی کھولی تو حیران رہ گیاکہ اس میں سو سو کے دو نوٹ موجودتھے۔ جب وہ شخص مڑکر جانے لگا تو میں اس کے پیچھے لگ گیاکہ بابا آپ مزید کرم کریں ۔ اس پر اس نے ناراضگی والے انداز میں کہا کہ تُو لالچی ہوگیا ہے، دنیا مُردار کی مانند ہے اِس کے پیچھے مت پڑ، نقصان اٹھائے گا۔ مگر میرا اِصرار جاری رہا تو اس نے کہاکہ ’’اچھا1000کا نوٹ ہے تو نکال ۔‘‘میں نے فوراً جیب سے 1000کا نوٹ نکالا اور اس کے ہاتھ میں دے دیا۔ اس نے حسب ِ سابق دَم کرکے نوٹ میری مٹھی میں دبا دیا۔میں نے مٹھی کھولی تو حیرت انگیز طور پر میرے ہاتھ میں ہزار ہزار کے دو نوٹ تھے۔ میں نے سوچا کہ آج موقع ملا ہے تواس سے پورا فائدہ اٹھانا چاہئے۔ لہٰذامیں نے اس سے کہا آپ میرے ساتھ میرے گھر چلیں تاکہ میں آپ کی کچھ خدمت وغیرہ کروں ۔ تو وہ کہنے لگا کہ خدمت کیا کرے گا، تُونے گھر کی رقم اور زیورات دُگنے کرانے ہیں ۔یہ سن کر میرے دل کی کلی کِھل گئی۔ میں نے کہا : بابا! آپ کرم فرمائیں ۔ وہ کہنے لگا : اللّٰہ والے دنیا سے سروکار نہیں رکھتے، گھروں پر نہیں جاتے، جا گھر جااور رقم و زیورات یہیں لے آ، میں دُگنا کردوں گا مگر کسی کو بتانا مت ورنہ مجھے نہ پاسکے گا۔میں اُلٹے قدموں گھر پہنچااور کم و بیش ڈیڑ ھ لاکھ نقدرقم اور گھر کے تمام سونے کے زیورات تھیلی میں ڈالے اور بھاگم بھاگ اس کے پاس جاپہنچا تو وہ خاموشی سے سرجھکائے بیٹھا تھا۔ مجھے دیکھ کر اس نے تھیلی ہاتھ میں لے لی اورمجھے کہا ’’آنکھیں بند کرلے، رقم زیادہ ہے لہٰذاپڑھائی بھی زیادہ کرناہوگی۔ ‘‘ تقریباً5منٹ میں آنکھیں بند کئے بیٹھارہا۔پھراس نے کہا : آنکھیں کھول ، میں نے زیورات اور رقم پر دم کردیا ہے، جا سیدھا گھر جا، مڑ کر دیکھنا نہ راستے میں کسی سے بات کرنا، گھر جاکر تھیلا کھولنا تو دل اچھل کر حَلق میں آجائیگا۔ میں نے اسکے ہاتھ چومے اور تیز تیز قدموں سے چلتا ہواگھر پہنچا۔ گھر پہنچ کر میں نے دروازے اورکھڑکیاں وغیرہ بند کیں اور دھڑکتے دل کے ساتھ جیسے ہی رقم اور گھر کے تمام زیورات نکالنے کیلئے تھیلا کھولاتو واقعی اس شخص کے کہنے کے مطابق نہ صِرف میرا دل اچھل کر حَلق میں آگیا بلکہ سر بھی چکراگیاکیونکہ تھیلی میں سے ڈیڑھ لاکھ رقم اور زیورات غائب تھے اور اُن کی جگہ اخبار کی ردی بھری ہوئی تھی۔ میں بے ساختہ چیخنے لگا : ’’اَرے میں لُٹ گیا، وہ مجھے دھوکہ دے گیا۔‘‘ میری چیخ وپُکار سن کرگھر کے تمام اَفراد جمع ہوگئے۔میں نے انہیں تمام صورتحال سے آگاہ کیا ۔ ہم نے اس کی تلاش میں نہ صِرف اِسٹیشن(station) بلکہ شہر کا کونہ کونہ چھان مارا مگر اس چالباز کا پتا نہ چل سکا۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ان شُعْبَدَہ بازوں کے واقعات سے پتا چلا کہ محض کسی کی شعبدے بازی سے متاثر ہوکر اسے اللّٰہ کا فقیر یامَجذُوب نہیں سمجھ لینا چاہئے بلکہ ہر معاملے میں شَرِیعَت کو پیشِ نظر رکھنے میں ہی عافیت ہے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
بھیڑ (Crowd)میں پھنسنے کا بہت سوں کو اِتِّفاق ہوا ہوگا ، ایسے مواقع پر بعض جلد باز دوسروں کو دھکے دیتے، کندھے مارتے ، اُلجھتے جھگڑتے اور شور مچاتے ہوئے بھیڑ میں تیز چلتے ہوئے آگے نکلنے کی کوشِش کرتے ہیں اور دوسروں کی پریشانی کا سبب بنتے ہیں حالانکہ مسلمان کو تکلیف دینا مسلمان کا کام نہیں بلکہ اسکا کام تویہ ہے کہ مسلمان سے اِیذاء (یعنی تکلیف)دینے والی چیزیں دُور کرے۔اللّٰہ کے مَحبوب، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ العُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ ہدایت نشان ہے : (کامل) مسلمان وہ ہے جس کی زَبان اور ہاتھ سے مسلمان کو تکلیف نہ پہنچے ۔
(صَحِیح البخاری ج۱ص ۱۵حدیث ۱۰)
کسی مسلمان کی بِلاوجہ شَرعی دل آزاری گناہ وحرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فتاوٰی رضویہ شریف جلد 24صَفحَہ 342میں طَبَرانی شریف کے حوالے سے نَقل کرتے ہیں : سلطانِ دو جہان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہے : مَنْ اٰذَی مُسْلِمًا فَقَدْ اٰذَانِیْ وَمَنْ اٰذَانِیْ فَقَدْ اٰذَی اللّٰہ(یعنی)جس نے (بِلاوجہِ شَرعی)کسی مسلمان کو اِیذا دی اُس نے مجھے اِیذادی اور جس نے مجھے اِیذادی اُس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو اِیذا دی۔(اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط ج۲ص۳۸۷ حدیث۳۶۰۷)اللّٰہ ورسولعَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کواِیذا دینے والوں کے بارے میں اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ پارہ22 سورۃُ الا حزاب آیت 57میں اِرشاد فرماتاہے :
اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا(۵۷) (پ۲۲، الاحزاب : ۵۷)
ترجَمہ کنزالایمان : بے شک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کوان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا وآخرت میں اور اللّٰہ نے ان کیلئے ذلّت کا عذاب تیارکررکھا ہے۔
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ311 صفحات پر مشتمل کتاب ’’رفیقُ الحرمین ‘‘کے صفحہ70پرہے : مَرد اِبتدائی تین پھیروں میں رَمَل کرتے چلیں یعنی جلد جلد چھوٹے قدم رکھتے، شانے ہِلاتے چلیں ، بعض لوگ کُودتے اور دوڑتے ہوئے جاتے ہیں یہ سُنَّت نہیں ہے۔ جہاں جہاں بھیڑ زِیادہ ہو اور رَمل میں اپنے آپ کو یادوسرے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہو تو اُتنی دیر تک رَمل تَر ک کردیں ، مگر رَمل کی خاطِر رُکئے نہیں طواف میں مَشغُول رہئے۔ پھر جُوں ہی موقع ملے اُتنی دیر تک کے لئے رَمل کے ساتھ طواف کریں ۔(رفیق الحرمین ، ص۷۰)
حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ما سے روایت ہے کہ آپ عَرَفہ کے دن نبیِّ آخر الزّمان ، شَہَنْشاہِ کون و مکان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ واپس ہوئے، سرکار صَلَّی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع