30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(بہارشریعت ج۳حصہ ۸ ص ۲۲۴)
آج کے دور میں کون ہے جو بیمار نہیں ہوتا ؟ مگر بیمار ہونے والا ہر دوسرا شخص چاہتا ہے کہ میں ایک دم صحت یاب(Healthy) ہوجاؤں ، اس کے لئے آج ایک ڈاکٹر (Doctor) سے تو کل دوسرے ڈاکٹر سے ، آج ایک اَسپتال(Hospital) تو کل دوسرے اَسپتال میں علاج کراتے دکھائی دیتا ہے حالانکہ ہر مَرَض(Disease) کی اپنی اپنی نوعیت ہوتی ہے ، جس طرح کوئی مریض صِرف ایک گولی (Tablet) کے اِستِعمال سے صحت یاب ہوجاتا ہے تو کسی کو کورس کی صورت میں دوائی (Medicine) اِستِعمال کرنا پڑتی ہے اور شِفایاب ہونے میں کئی ہفتے یا مہینے بلکہ پورا سال لگ جاتا ہے ۔ مگر اس جلد بازی کی وجہ سے عُمُوماً کیس (Case)بگڑ جاتا ہے کیونکہ ہر ڈاکٹر نئے سِرے سے اس کا علاج کرتا ہے پھر جب وہ اس کے مرض کو قابو کرنے کی پوزیشن (Position)میں ہوتا ہے یہ جلد باز مریض کسی اور ڈاکٹر کے دروازے پر دستک دے دیتا ہے ، یوں اپنی جلد بازی کی وجہ سے اپنی صحت یابی میں تاخیر کا سبب بنتا ہے ۔یہی حال رُوحانی علاج (Spiritual Treatment)کروانے والوں کا ہے کہ جب ڈاکٹری علاج سے بَددل ہوجاتے ہیں تو ادھر کا رُخ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آناً فاناً ایک ہی دَم میں وہ تندرست ہوجائیں حالانکہ رُوحانی علاج میں بھی ممکن ہے کوئی مریض صِرف دَم کردینے سے ہی شفایاب ہوجائے اور کسی مریض کوچند دن، ہفتوں یاکئی ماہ بعد صحت حاصِل ہو ، بہر حال ہمیں رُوحانی علاج تَرک نہیں کرناچاہئے۔کاش ! ڈاکٹروں کی تجویز کردہ دواؤں کی تاثیر پر یقین کے ساتھ شرِیعَت کے پابند عاملین کے پیش کردہ اَوراد و تعویذات بھی کامل یقین کے ساتھ اِستِعمال کرنے کا سلسلہ رہتا تو شِفا کا حُصول آسان ہوجاتا۔مگر یہ بھی دھیان رہے کہ بغیر سوچے سمجھے ہر عامِل سے رابطے میں بھی شدید خَطَرا ت ہیں ۔یقینا ہر عامِل غلط نہیں ہوتا مگر صحیح عامِل کی پہچان ہر ایک کے بس کی بات نہیں ۔ رُوحانی علاج کے لئے آپ دعوتِ اسلامی کی مجلسِ مکتوبات وتعویذات کے بستے سے اپنے اپنے شہر میں رابطہ (Contact)کرسکتے ہیں یا اس پتے پر بذریعہ ڈاک رابطہ کیجئے : مجلس مکتوبات وتعویذات عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ محلہ سوداگران یونیورسٹی روڈ باب المدینہ کراچی ، بذریعہ ای میل بھی تعویذات منگوائے جاسکتے ہیں ۔ ای میل ایڈریس یہ ہے : Attar@dawateislami.net
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۲۰) متأثّر ہونے میں جلد بازی
بعض اسلامی بھائی جب کسی رنگ برنگے جبے میں ملبوس، گردن میں موٹے موٹے دانوں والی کئی تسبیحات و مالائیں اور انگلیوں میں متعدّد انگوٹھی چھلے پہنے ہوئے شخص کو دیکھتے ہیں جسکی زلفیں سانپ کی مثل کندھے سے نیچے جھول رہی ہوں ، ہاتھ میں موٹا سا ڈنڈا پکڑے ، ہاتھ پاؤں میں کڑے ڈالے ہوئے ہو، آنکھیں بند اور سر جھکا کر وقفے وقفے سے’’ حق ہو، حق ہو‘‘ کے نعرے بلند کررہا ہوتواس کے سراپے کے باعث بہت جلد اس سے متاثر ہوجاتے ہیں اور اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ولی سمجھ بیٹھتے ہیں ۔ پھر اس کے کہنے پر عمل کرنے میں بھی جلد بازی کرتے ہیں اور نقصان اٹھاتے ہیں ، حالانکہ وہ شخص شعبدہ باز ہوتا ہے ، شُعْبَدَ ہ بازی کی5عبرت انگیز سچی حکایات ملاحظہ ہوں :
ایک اسلامی بھائی نے بتایا کہ تقریباً 1998 ء کی بات ہے کہ میں جوتوں کی دکان(Shoes Shop) میں نوکری کرتا تھا۔ ایک دن صبح کے وَقت ایک شخص دکان میں آیا جس نے گلے میں مالا ڈالی ہوئی تھی اور سر پر رومال اوڑھا ہوا تھا، لباس بھی صاف ستھرا تھا، ہاتھوں میں کئی انگوٹھیاں تھیں ۔ وہ آکر سیٹھ کے سامنے والی کرسی پربیٹھ گیا۔اس سے پہلے کہ ہم اس سے کچھ معلوم کرتے، سیٹھ نے خود ہی اس سے پوچھا : بابا کیا چاہئے؟ مگر اس شخص نے کوئی جواب نہ دیا بلکہ سیٹھ کو گھورنے لگا، سیٹھ کے بار بار پوچھنے کے باوُجودوہ خاموش ہی رہا ۔ سیٹھ نے ایک بار پھر پوچھا : بابا کیا لینا ہے ؟اب وہ بابادھیمے اورپراَسرار لہجے میں بولا : بابا تیری قمیص لے گا، بول! دے گا؟ سیٹھ گھبرا سا گیا اور بولا : بابا میری قمیص پرانی ہے، نئی قمیص منگوادیتا ہوں ۔مگر وہ بولا’’ نہیں !بابا تیری ہی قمیص لے گا، بول! دے گا؟ ‘‘آخر سیٹھ نے پریشان ہو کر قمیص اتارنا چاہی تو وہ فوراً بولا : رہنے دے ! بابا دل دیکھتا ہے۔پھر کچھ دیر خاموش رہ کربولا : بابا! تیرے جوتے لے گا، بول!دے گا؟ سیٹھ بولا : بابا! میرے جوتے بہت پرانے ہیں نئے جوتے دے دیتا ہوں ، وہ بولا : نہیں !’’بابا تیرے ہی جوتے لے گا، بول! دے گا؟ ‘‘ سیٹھ اپنے جوتے دینے لگا، تو وہ ایک دم بولا : نہیں ! بابا دل دیکھتا ہے، اپنے جوتے اپنے پاس رکھ، بابا دل دیکھتا ہے!پھر کچھ دیر ٹکٹکی باندھے گھور گھور کر سیٹھ کو دیکھتارہا، سیٹھ نے گھبرا کرپوچھا : بابا کیا چاہئے؟ بولا : ’’جو مانگوں گا دے گا؟‘‘ سیٹھ بولا : بابا آپ بولوکیا لینا ہے؟وہ کچھ دیر خاموش رہا پھر بولا : اگر میں یہ بولوں کہ اپنی جیب کے سارے پیسے دے دے تو کیا تُو بابا کو دے دے گا؟ اب سیٹھ چونکا، مگر شاید اس شخص نے کوئی عمل کیا ہوا تھا، چنانچہ سیٹھ نے جیب میں ہاتھ ڈالا اورجیب کی تمام رقم نکال کر اس کے سامنے رکھ دی۔ اس بابانماشخص نے نوٹ ہاتھ میں لئے او رکچھ دیر اُلَٹْ پُلَٹْ کر دیکھتا رہاپھر بولا : بابا دل دیکھتا ہے!لے اپنے پیسے واپس لے ، بابا پیسوں کا کیا کرے گا؟ با با دل دیکھتا ہے، یہ کہتے ہوئے تمام نوٹ واپس کردئیے اور خاموش ٹکٹکی باندھے سیٹھ کو گھورنے لگااورکچھ دیر بعد مسکَرا کر بولا : اگر بابا تجھ سے تیری تجوری کی ساری رقم مانگے تو کیا بابا کو دے دے گا؟بول! بابا دل دیکھتا ہے، بول! دے دے گا۔ چونکہ وہ اب تک بابا نما پراَسرار شخص تمام چیزیں مانگنے کے بعد’’ بابا دل دیکھتا ہے‘‘ کہہ کر واپس کر چکا تھا، لہٰذا سیٹھ نے تاخیر کئے بِغیر تجوری خالی کرنا شروع کردی۔ اس شخص نے اپنا رومال سامنے بچھا دیا اور رقم اس میں رکھنے لگا۔ پھر ا سکو باندھ کر گانٹھ لگا دی اورمسکرا کر بولا : بابا اگر یہ ساری رقم لے جائے توتجھے بُرا تو نہیں لگے گا۔ سیٹھ بولا : بابا !میں نے پیسے آپ کو دے دیئے ہیں ، اب آپ جو چاہے کریں ۔وہ پھر بولا : نہیں !تو یہ سوچ رہا ہے کہ کہیں یہ رقم لے نہ جائے ، بابا دل دیکھتا ہے، بابا دل دیکھتا ہے، بابا دل دیکھتا ہے، کہتے کہتے وہ پر اَسرار انداز میں پوٹلی ہاتھ میں لئے اٹھا اوردکان سے نیچے اتر گیا۔ہم سب سکتے کے عالم میں کچھ دیر تو ایک دوسرے کے چہرے دیکھتے رہے پھر ایک دم سیٹھ چیخا : ارے! وہ شخص مجھے لُوٹ کر چلا گیا، اسے پکڑو۔ مگر باہَر جاکر دیکھا تو وہ پُراَسرار شخص غائب ہوچکا تھا، بہت تلاش کیا لیکن وہ شخص نہ ملا، یوں سیٹھ ہزاروں کی رقم گنوا بیٹھا۔
ایک اسلامی بھائی نے بتایا کہ غالباً1991ء کی بات ہے میں نیا نیا دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہو اتھااور گورنمنٹ اسکول میں بطورِاستاد (Teacher) ملازمت تھی۔ایک دن میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع