30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲۱) قبولیت دعا میں جلد بازی
بعض اسلامی بھائی دعا کی قبولیت میں بے چینی اور جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں حالانکہ دُعا کے آداب (Manners)میں سے یہ بھی ہے کہدُعا کے قَبول میں جلدی نہ کرے ۔ حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ بحرو بَر کے بادشاہ ، دو عالَم کے شَہَنشاہ ، اُمّت کے خیر خواہ، آمِنہ کے مہر و ماہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’بندے کی دعا قبول ہوتی ہے جب تک کہ گناہ یا قطعِ رحمی کی دعا نہ مانگے جب تک کہ جلد بازی سے کام نہ لے عَرض کیا گیا : یارسولَ اﷲ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جلد بازی کیا ہے؟ فرمایا : ’’ یہ کہ بندہ کہے میں نے دعا مانگی اور مانگی مگر مجھے معلوم نہیں کہ قبول ہو، لہٰذا وہ تھک کر بیٹھ رہے اور دعا مانگنا چھوڑ دے۔‘‘ (صحیح مسلم ، کتاب الرقاق، باب بیان انہ یستجاب للداعی ۔۔۔الخ، ص۱، حدیث۲۷۳۵)
قبولیتِ دعا میں تاخیر کا ایک سبب
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! بَسا اَوقات قَبولِیَّتِ دُعاکی تاخِیر میں کافی مَصْلحَتیں بھی ہوتی ہیں جو ہماری سمجھ میں نہیں آتیں ۔حُضُور ، سراپا نُور ، فَیض گَنْجُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ پُر سُرُور ہے : جب اللّٰہعَزَّ وَجَلَّ کا کوئی پیارا دُعا کرتا ہے تو اللّٰہ تَعَالٰی جِبرئیل (عَلَیہِ السَّلَام) سے اِرشاد فرماتا ہے : ’’ٹھہرو! ابھی نہ دو تاکہ پھر مانگے کہ مجھ کو اِس کی آواز پسند ہے۔‘‘اور جب کوئی کافِر یا فاسِق دُعا کرتا ہے توفرماتا ہے : ’’اے جِبرئیل (عَلَیہِ السَّلَام) !اِس کاکام جلدی کردو، تاکہ پھر نہ مانگے کہ مجھ کو اِس کی آواز ناپسند ہے۔‘‘(کنزالعمال ، ج۲، ص۳۹، حدیث۳۲۶۱)
حضرتِ سَیِّدُنایحییٰبِن سَعید بِن قَطَّان (علیہ رحمۃُ اللّٰہ المنّان) نے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کو خواب میں دیکھا، عَرْض کی : اِلٰہیعَزَّ وَجَلَّ !میں اکثر دُعاکرتا ہوں اور تُو قَبول نہیں فرماتا؟حُکم ہوا : ’’اے یحییٰ!میں تیری آواز کو دوست رکھتا ہوں ۔ اِس واسِطے تیری دُعا کی قَبولِیَّت میں تاخِیر کرتا ہوں ۔‘‘(اَ حسنُ الْوِعاء ، ص۳۵)
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!ابھی جو حدیثِ پاک اور حِکایت گزری اُس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللّٰہعَزَّ وَجَلَّ کو اپنے نیک بندوں کی گِریہ وَزاری پسند ہے تو یُوں بھی بسا اوقات قَبُولِیَّتِ دُعا میں تاخِیر ہوتی ہے۔اب اِس مَصلحت کو ہم کیسے سمجھ سکتے ہیں ! بَہَرحال جلدی نہیں مچانی چاہئے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
یقینادعا مومن کا ہتھیار(Weapon) ہے لیکن بعض اسلامی بھائی غصے میں آکر جلد بازی میں اسے اپنے یا اپنے گھر والوں یا دیگر مسلمانوں کے خلاف اِستِعمال کرڈالتے ہیں پھر پچھتاتے ہیں ، اللّٰہعَزَّ وَجَلَّ پارہ15سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 11 میں اِرشاد فرماتا ہے :
وَ یَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهٗ بِالْخَیْرِؕ-وَ كَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا(۱۱)(پ۱۵، بنی اسرائیل : ۱۱)
ترجمۂ کنزالایمان : اور آدمی برائی کی دعا کرتا ہے جیسے بھلائی مانگتا ہے اور آدمی بڑا جلد باز ہے ۔
صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولیٰنا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادیاِ س آیت کے تحت لکھتے ہیں : (یعنی)اپنے لئے اور اپنے گھر والوں کے لئے اور اپنے مال کے لئے اور اپنی اولاد کے لئے اور غصّہ میں آ کر ان سب کو کَوستا ہے اور ان کے لئے بددعائیں کرتا ہے ۔اگر اللّٰہ تَعَالٰی اس کی یہ بددُعا قبول کر لے تو وہ شخص یا اس کے اہل و مال ہلاک ہو جائیں لیکن اللّٰہ تَعَالٰی اپنے فضل و کرم سے اس کو قبول نہیں فرماتا ۔(خزائن العرفان)
بددعا جلد قبول نہ ہونا ہمارے لئے رحمت ہے
پارہ11سورۂ یونس کی آیت 11میں اِرشاد ہوتا ہے :
وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْؕ-فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ(۱۱) (پ۱۱، یونس : ۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان : اور اگر اللّٰہ لوگوں پر برائی ایسی جلد بھیجتا جیسی وہ بھلائی کی جلدی کرتے ہیں تو ان کا وعدہ پورا ہوچکا ہوتا تو ہم چھوڑتے انہیں جو ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکا کریں ۔
صدر الْاَفاضِل حضرتِ علامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدین مُراد آبادی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادیخَزائنُ العرفانمیں اِس آیت کے تحت فرماتے ہیں : یعنی اگر اللّٰہ تَعَالٰی لوگوں کی بددعائیں جیسے کہ وہ غضب کے وَقت اپنے لئے اور اپنے اہل و اولاد و مال کے لئے کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم ہلاک ہو جائیں ، خدا ہمیں غارت کرے ، برباد کرے اور ایسے کلمے ہی اپنی اولاد و اَقارِب کے لئے کہہ گزرتے ہیں جسے ہندی میں کَوسناکہتے ہیں ، اگر وہ دعا ایسی جلدی قبول کر لی جاتی جیسی جلدی وہ دعائے خیر کے قبول ہونے میں چاہتے ہیں تو ان لوگوں کا خاتمہ ہو چکا ہوتا اور وہ کب کے ہلاک ہو گئے ہوتے لیکن اللّٰہ تبارَک و تَعَالٰی اپنے کرم سے دعا ئے خیر قبول فرمانے میں جلدی کرتا ہے ، دعائے بد کے قبول میں نہیں ، یہ اس کی رحمت ہے ۔(خزائن العرفان)
کوئی شخص ایک شیخِ وَقت کی خدمت میں حاضر ہوا اور بہت زیادہ خدمت گُزاری کے بعد یہ درخواست پیش کی کہ آپ مجھے اسمِ اعظم سِکھادیجئے۔ شیخ نے پوچھا : کیا تمہارے اندر اس کی اہلیت ہے؟ عَرض کی : جی ہاں ۔ فرمایا : اچھا! تم شہر کے پھاٹک پر جاؤ اور جو منظر دیکھو آکر مجھے اس کی خبر دو۔ یہ شخص شہر کے دروازے پر جا کر بیٹھ گیا تو دیکھا کہ ایک لکڑہارا اپنے گدھے پر لکڑیاں لاد کر چلا آرہا تھا تو ایک سپاہی نے بلا قصور اس کو مار کر اس کی لکڑیوں کو چھین لیااور وہ لکڑہار ا خاموش ہو کر چلا گیا۔اس شخص نے آنکھوں دیکھا حال شیخ کو سنادیا۔ شیخ نے پوچھا : اگر تم اسمِ اعظم جانتے ہوتے تو اس موقع پر تم کیا کرتے؟ اس نے کہا : میں اس ظالم سپاہی کے حق میں ایسی بددعا کرتا کہ وہ ہلاک ہوجاتا۔شیخ نے کہا : تم میں اسمِ اعظم سیکھنے کی صلاحیت نہیں ہے، تمہیں کیا معلوم ! مجھے اسمِ اعظم سکھانے والے وہی بُزرگ ہیں جو تمہیں لکڑہارے کے روپ میں دکھائی دیئے، یاد رکھو!اسمِ اعظم کی صلاحیت وہی شخص رکھتا ہے جو اتنا صابر اور مخلوقِ خدا پر اس قدر رحیم و شفیق ہو۔
(روح البیان، ج۱ص۳۳۸)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع