30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جہاں لُقمہ نہیں دینا تھا وہاں ایک ہی دفعہ لُقمہ دینے سے نَماز ٹوٹ جائے گی نَماز ٹوٹنے کے لئے لُقمہ کی تکرار شَرط نہیں ۔فتاویٰ عالمگیری میں ہے : بے محل ایک دفعہ لُقمہ دینے سے ہی نَماز ٹوٹ جاتی ہے۔ [1]؎ (الفتاوی الھندیۃ ، ج۱، ص۰ ۱۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
صحیح بخاری میں حضرتِ سیدنا براء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروی ہے کہ نبی اکرم نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : سب سے پہلے جو کام آج ہم کریں گے وہ یہ ہے کہ نماز پڑھیں پھر اُس کے بعد قربانی کریں گے جس نے ایسا کیا اُس نے ہماری سنت (یعنی طریقے)کو پالیا اور جس نے پہلے ذَبح کر لیا وہ گوشت ہے جو اس نے پہلے سے اپنے گھر والوں کے لیے تیار کر لیا قربانی سے اسے کچھ تعلق نہیں ۔ حضرت ابوبُردہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کھڑے ہوئے اور یہ پہلے ہی ذَبح کرچکے تھے(اس خیال سے کہ پڑوس کے لوگ غریب تھے انھوں نے چاہا کہ ان کو گوشت مل جائے)اور عَرض کی : یارسول َاللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میرے پاس بکری کا چھ ماہ کا ایک بچہ ہے، فرمایا : تم اسے ذَبح کر لو اور تمہارے سوا کسی کے لیے چھ ماہ کا بچہ کِفایت نہیں کریگا۔
(بخاری، کتاب الأضاحی، باب سنۃ الأضحیۃ ، الحدیث : ۵۵۴۵، ج۳، ص۵۷۱)
(۱) شہر میں قربانی کی جائے تو شرط یہ ہے کہ نماز ہوچکے لہٰذا نمازِ عید سے پہلے شہر میں قربانی نہیں ہوسکتی اور دیہات میں چونکہ نمازِ عید نہیں ہے یہاں طُلوعِ فجر کے بعد سے ہی قربانی ہوسکتی ہے اور دیہات میں بہتر یہ ہے کہ بعدِ طُلوعِ آفتاب قربانی کی جائے اور شہر میں بہتر یہ ہے کہ عید کا خُطبہ ہوچکنے کے بعد قربانی کی جائے۔ یعنی نماز ہوچکی ہے اور ابھی خطبہ نہیں ہوا ہے اس صورت میں قربانی ہو جائے گی مگر ایسا کرنا مکروہ ہے۔ (۲)اگر شہر میں متعدِّد جگہ عید کی نماز ہوتی ہو تو پہلی جگہ نماز ہوچکنے کے بعد قربانی جائز ہے یعنی یہ ضرور نہیں کہ عیدگاہ میں نماز ہو جائے جب ہی قربانی کی جائے بلکہ کسی مسجد میں ہوگئی اور عیدگاہ میں نہ ہوئی جب بھی ہوسکتی ہے۔(بہارِشریعت جلد ۳، ص۳۳۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۱۰)ذبح کے بعد جانور کی کھال اتارنے میں جلد بازی
اکثرگوشت فروش (قصاب، Butcher ) اسلامی بھائی بالخصوص عیدِ قربان کے دنوں میں بہت جلدی میں ہوتے ہیں چنانچہ وہ جانور کے ٹھنڈا ہونے کا اِنتظار کئے بغیر اس کی کھال اُتارنا شروع کردیتے ہیں ، امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ایسوں کو سمجھاتے ہوئے لکھتے ہیں : جب تک جانور مکمل طور پر ٹھنڈا نہ ہو جائے نہ اس کے پاؤں کاٹیں نہ کھال اتاریں بہر حال ذَبح کر لینے کے بعد جب تک رُوح نہ نکل جائے چھری بالکل مَس نہ کریں ، بعض لوگ گائے کو جلد ’’ٹھنڈی ‘‘ کرنے کیلئے ذَبح کے بعد گردن کی کھال ادھیڑ کر چھری گھونپ کر دل کی رگیں کاٹتے ہیں ، اسی طرح بکرے کو ذبح کرنے کے فوراً بعد گردن چٹخا دیتے ہیں ، بے زَبانوں پر اس طرح کے مظالم نہ کئے جائیں ۔ جس سے بن پڑے اس کے لئے ضروری ہے کہ جانور کو بلا وجہ اِیذا پہنچانے والے کو روکے ۔بہار شریعت، جلد3، حصہ 16، ص660پر ہے ’’جانور پر ظُلم کرنا ذِمّی کافرپر(اب دنیا میں سب کافر حربی ہیں ) ظُلم کرنے سے زیادہ برا ہے اور ذمی پر ظُلم کرنا مسلم پر ظُلم کرنے سے بھی بُرا ہے کیوں کہ جانور کا کوئی معین و مددگار اللّٰہ(عَزَّ وَجَلَّ ) کے سوا نہیں اس غریب کو اس ظُلم سے کون بچائے!‘‘(اَبلق گھوڑے سوار ، ص۱۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
جسے جلد بازی کی عادت پڑ جاتی ہے پھر کیا معاملات کیا عبادات! وہ سب میں جلدی کرنے کی کوشِش کرتا ہے ، حج کے موقع پر جلدبازی کے کئی مناظر (Scenes) دکھائی دیتے ہیں مثلاًوقوفِ عرفہ یعنی نویں ذی الحجہ کے آفتاب ڈھلنے سے دسویں کی صبح صادق سے پیشتر تک کسی وقت عرفات میں ٹھہرنافرض ہے۔ (بہارِشریعت، ج۱، حصہ۶، ص۷۴۰۱) لیکن کئی نادان حدودِ عرفات سے باہر ہی ڈیرہ جمائے ہوئے ہوتے ہیں اور ایک لمحے کے لئے بھی حدودِ عرفات میں نہیں آتے ، یوں ان کا وقوفِ عرفہ کا فرض رہ جاتا ہے اور سفر کی مشقت وصعوبت اٹھانے کے باوجود ان کاحج ادانہیں ہوتا، اسی طرح بعض لوگ سورج غروب ہونے سے پہلے ہی مزدَلِفہ کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں حالانکہ غروبِ آفتاب سے پہلے میدانِ عرفات سے نکلنا ترکِ واجب اور گناہ ہے ، اسی طرح میدانِ عرفات سے واپسی پر مُزدَلِفہ میں رات گزارنا سُنّتِ مُؤکَّدہ ہے مگر اِس کا وُقوف واجِب ہے وُقوفِ مُزدَلِفہکا وَقت صُبحِ صادِق سے لے کر طُلُوعِ آفتاب تک ہے، اِس کے درمِیان اگر ایک لمحہ بھی یہاں گزار لیا تو وُقوف ہوگیا، ظاہِر ہے کہ جس نے فجر کے وَقت میں یہاں نَمازِ فجرادا کی اُس کا وُقوف صحیح ہوگیا، جو کوئی صُبحِ صادِق سے پہلے ہی مُزدَلِفہ سے چلا گیا اُس کا واجِب تَرک ہوگیا ، لہٰذا اُس پر دَم واجِب ہے۔ ہاں ! عورت، بیمار یا ضَعِیف یا کمزور کہ جنہیں بھِیڑ کے سبب اِیذا پہنچنے کا اَندیشہ ہو اگر ایسے لوگ مجبوراً چلے گئے تو کچھ نہیں ۔ (بہارِ شریعت ج۱ حصّہ۶ ص۵۳۱۱) لیکن ایسے موقع پر بھی شیطان جلد بازی میں مبتلا کردیتا ہے چنانچہ امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ لکھتے ہیں : سگِ مدینہ عُفِیَ عَنہٗ نے خود دیکھا ہے کہ لوگ جلد بازی میں صُبحِ صادِق سے بَہُت پہلے ہی نَمازِ فجر شُروع کردیتے ہیں تا کہ جلدی جلدی مِنٰی میں پہنچیں ، مُحترم حاجیو! آپ ایسا نہ کریں ۔ آخِر ایسی بھی کیا جلدی ہے؟ یادرکھئے! اگر آپ نے وَقتِ فجر شُروع ہونے سے پہلے فجر کی نَماز پڑھ لی تو وہ سِرے سے ہوگی ہی نہیں ۔(رفیق الحرمین ، ص۲۶)
دِکھا ہر برس تُو حرم کی فَضائیں تو مکّہ مدینہ دکھا یاالٰہی
شَرَف ہر برس حج کا پاؤں خدایا چلے طَیبہ پھر قافِلہ یاالٰہی (وسائلِ بخشش)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع